دو قدم ساتھ میں چلنے نہیں دیتا کوئی
مجھ کو کچھ کام بھی کرنے نہیں دیتا کوئی
فون کرتا ہوں تو سنتا نہیں کوئی لیکن
ملنا چاہوں بھی تو ملنے نہیں دیتا کوئی
پہلے تو ملنے پہ پابندی لگا رکھی ہے
بات بھی اس سے تو کرنے نہیں دیتا کوئی
غم زدہ رہتا ہوں میں گرچہ بڑی مدت سے
اس کا احساس بھی ہونے نہیں دیتا کوئی
سب سے اچھا ہے یہی گھر میں نظر بند رہو
شہر کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا کوئی
نیند آنکھوں سے مری کس نے چرائ آکر
سونا چاہوں بھی تو سونے نہیں دیتا کوئی
میں ثمرؔ چاہوں کہ آرام سے رہ لوں گھر میں
مجھ کو آرام سے رہنے نہیں دیتا کوئی
سمیع احمد ثمر ؔ، سارن بہار

184