مرا جنون محبت مہان لگتا ہے
صنم کا گھر مجھے اپنا مکان لگتا ہے
ستم گروں تمہیں بلکل ترس نہیں آتا
وطن میں کتنا پریشاں کسان لگتا ہے
مدد ہماری وہ کرتا ہے وقتِ مشکل میں
عدو وہ میرا نہیں مہربان لگتا ہے
برے جو دور تھے آتے ہیں یاد سب مجھ کو
جب اپنے ہاتھ میں سارا جہان لگتا ہے
خراب شعر پہ بھی داد دے رہا تجھ کو
وہ انجمن میں ترا قدر دان لگتا ہے
خلاف کوئی بھی ظالم کے بولتا ہی نہیں
ہر ایک شخص مجھے بے زبان لگتا ہے
حسیں ہیں اور ثمرؔ ملک اس جہاں میں مگر
ہمیں تو صرف اچھا ہندوستان لگتا ہے
سمیع احمد ثمر ؔ

22