Circle Image

شہزادہ کلیم یونس

@Shehzadakaleempoetry

جدت پسند روایت پسند

اتنا بھی احترام نہیں کر سکوں گا میں
ہر شخص کو سلام نہیں کر سکوں گا میں
تو میرے کام کا ہے مگر دوست معذرت
تیرے لیے یہ کام نہیں کر سکوں گا میں
مجھ کو نہ دیجیے یہ بغاوت کے مشورے
محنت کا پھل حرام نہیں کر سکوں گا میں

0
9
سر ہلاتے ہوئے مسکراتے ہوئے
آتے جاتے ہوئے
تم بھی انجان ہو ہم بھی انجان ہیں
یوں ستاتے ہوئے دل دکھاتے ہوئے
ظلم ڈھاتے ہوئے
تم بھی انجان ہو ہم بھی انجان ہیں

0
12
سرخ اودی لب و رخسار سے جلتے ہیں لوگ
جانے کیوں مجھ سے مرے پیار سے جلتے ہیں لوگ
تندرستی کی جلن زود یقینی ہے مگر
کیا تعجب ہے کہ بیمار سے جلتے ہیں لوگ
یہ نہیں سوچتے اللہ ہمیں بھی دے گا
دیکھ کر چیز خریدار سے جلتے ہیں لوگ

66
خدا کو توبہ کی جھوٹی زبان دے رہے ہیں
نماز پڑھنی نہیں اور اذان دے رہے ہیں
دہاڑی باز ہیں کوئی شہید وید نہیں
ہمارے واسطے جتنے بھی جان دے رہے ہیں
کسی کو کچھ نہیں معلوم مسئلہ کیا ہے
سبھی مباحثے کا امتحان دے رہے ہیں

0
19
زمیں یہ سوچتی ہے آسماں یہ سوچتا ہے
ہماری سوچ سے ہٹ کر جہاں یہ سوچتا ہے
خدا کی سب پہ نظر ہے یہ بات سچ ہے مگر
کسی کو لوٹنے والا کہاں یہ سوچتا ہے
زبان والا یہ کہتا ہے یہ نہ ہی ہوتی
مری بھی ہوتی زباں بے زباں یہ سوچتا ہے

0
10
اک جوانی سے اک جوانی کا
عشق لاوا ہے گرم پانی کا
جان دیتے ہیں بے شمار مگر
نام ہوتا ہے صرف بانی کا
اتنی محنت بھی مت کرو اے دوست
کیا بھروسہ ہے کامرانی کا

0
10
عجیب رنگ حنا زندگی ہوئی ہے کیوں
سبھی کے ہوتے ہوئے بھی کمی ہوئی ہے کیوں
جناب آپ تو اس کے طبیب ہیں پھر بھی
جناب آپ کو عینک لگی ہوئی ہے کیوں

0
8
دوست میں نے لکھ ڈالا دشمنی کے خانے میں
اور اس کا دکھ لکھا دوستی کے خانے میں
اس کے بعد میرا کوئی نہیں زمانے میں
سوچتا ہوں کیا لکھوں زندگی کے خانے میں
ایک دھوکا کھایا جب آدمی کے ہاتھوں تب
میں نے لکھا بچ کے رہ آدمی کے خانے میں

0
9
ایک اندر کی ہے اور ایک ہے باہر کی آنکھ
دونوں کے ساتھ سمجھ آتی ہے منظر کی آنکھ
حسن ہی اتنا نوازا ہے خدا نے تجھ کو
جہاں دیکھو وہیں ہو جاتی ہے پتھر کی آنکھ
سر میں ہوتا ہے ابھی کل کی تھکاوٹ کا بوجھ
صبح ہوتے ہی بلا لیتی ہے دفتر کی آنکھ

0
65
رہے گا حال یہی زندگی نہیں چلے گی
سبھی کے ساتھ چلو سادگی نہیں چلے گی
یہاں سے جان چھڑا لو گے تم لٹک کے مگر
جہاں ہے جانا وہاں خود کشی نہیں چلے گی
جس ایک شخص کے پیچھے چلیں گے تیرے قدم
اس ایک شخص کے آگے تری نہیں چلے گی

0
17
تمام عمر یونہی زندگی کو کھو بیٹھے
کسی کو ڈھونڈ کے لائے کسی کو کھو بیٹھے
نجانے کس نے لگائی تھی کم سنی پہ نظر
جوان ہوتے ہی آسو د گی کو کھو بیٹھے
کسی کو کھونے کی ضد میں بھی پا لیا ہم نے
کسی کو پاتے ہوئے بھی کسی کو کھو بیٹھے

0
10
شکوہ کیونکر کریں بے بیکار میں قسمت کے ساتھ
ہم نے کھیلا نہیں حالات سے محنت کے ساتھ
چاہے کتنی بھی پڑیں مشکلیں دوران - سفر
ہو ہی جاتا ہے کیا جائے جو نیت کے ساتھ
چاہیے تم کو اگر دل مرا لے لو لیکن
چیز نازک ہے اسے رکھنا حفاظت کے ساتھ

0
9
دل میں پتھر لیے پھولوں کی خریداری کرو
میں بہت خوش ہوں چلو آؤ دل آزاری کرو
میں کوئی ایسا نہیں ویسا نہیں پہلو نشیں
یہ حقیقت ہے ڈراموں میں اداکاری کرو
مطمئن رہنا ہے دو وقت کی روٹی سے اگر
کاروبار اپنا کرو نوکری سرکاری کرو

0
18
اسی لیے سر - بازار جھوٹ بولتے ہیں
کہ پیٹھ پیچھے تو مکار جھوٹ بولتے ہیں
میں جن کے بارے میں ہر بار سچ بتاتا ہوں
وہ میرے بارے میں ہر بار جھوٹ بولتے ہیں
بہت غریب تھا کچھ بھی نہیں تھا میرے پاس
ڈرامے بازی ہے فنکار جھوٹ بولتے ہیں

0
11
گھما پھرا کے وہی حال آتے جا رہے ہیں
پرانے لوگ نئے سال آتے جا رہے ہیں
ہمارے سر پہ جو بھونچال آتے جا رہے ہیں
ہمارے سامنے اعمال آتے جا رہے ہیں
یہ واقعہ ہے قیامت کے پاس کا لیکن
یہاں ابھی سے ہی دجال آتے جا رہے ہیں

0
11
دنیا میں ہی سج بیٹھا ہے محشر مرے آگے
مومن مرے پیچھے ہیں تو کافر مرے آگے
غیروں کو تو غیروں سے محبت ہی بہت ہے
رکھتے ہیں مرے اپنے ہی پتھر مرے آگے
اب مجھ کو ضرورت ہے تری میری مدد کر
یونہی نہ چلانا کوئی چکر مرے آگے

0
16
تندرستی میں بھی معذور نظر آتے ہیں
مجھ کو ہنستے ہوئے مجبور نظر آتے ہیں
صرف آنکھوں سے نہ اندازہ لگا چہروں کا
دیکھنے میں سبھی مغرور نظر آتے ہیں
ان کو کیا علم کئی اور بلائیں بھی ہیں
عام لوگوں کو تو مشہور نظر آتے ہیں

0
20
یہ اک سوال سوالات سے زیادہ ہے
تری خموشی جوابات سے زیادہ ہے
ہمارا حل یہ ہے بے موت مارے جائیں بس
ہمارا مسئلہ صدقات سے زیادہ ہے
کسی کا ملنا بھی دنیا میں ہے نہ ملنے سا
کسی کی یاد ملاقات سے زیادہ ہے

1
104
روح آلو سی بدن گاجروں سا لگتا ہے
تو مجھے گوبھی کے پتوں سے ہرا لگتا ہے
دیکھنا ہے تو فقط لوگوں کی سیرت دیکھو
شکل پر جائیے تو ساگ برا لگتا ہے
ایک اک چیز ضروری ہے تعلق کے لیے
دال میں دھنیا نہ ڈالا ہو تو کیا لگتا ہے

0
1
29