Circle Image

شہزادہ کلیم یونس

@Shehzadakaleempoetry

جدت پسند روایت پسند

روح آلو سی بدن گاجروں سا لگتا ہے
تو مجھے گوبھی کے پتوں سے ہرا لگتا ہے
دیکھنا ہے تو فقط لوگوں کی سیرت دیکھو
شکل پر جائیے تو ساگ برا لگتا ہے
ایک اک چیز ضروری ہے تعلق کے لیے
دال میں دھنیا نہ ڈالا ہو تو کیا لگتا ہے

2
58
یہ جو بس آندھی ہے طوفان بھی ہو سکتا ہے
آج برسات کا امکان بھی ہو سکتا ہے
دل نہیں ذہن کی باتوں کا کہا مانو بس
دل تو بچہ ہے بے ایمان بھی ہو سکتا ہے
مت اٹھا انگلی کسی شخص کی شخصیت پر
وہ جو کافر ہے مسلمان بھی ہو سکتا ہے

95
زہر بے جان کر دیے میں نے
سانپ حیران کر دیے میں نے
کہہ رہا تھا کہ چھوڑ دو مجھ کو
پورے ارمان کر دیے میں نے
پھر پلٹ کر کبھی نہ اپنائے
وہ جو انجان کر دیے میں نے

0
10
پوچھیے منڈی سے حیوان کی قیمت کیا ہے
اور بتائیں مجھے انسان کی قیمت کیا ہے
کر دیے جائیں جہاں پر بڑے عاقل پاگل
خود ہی سوچو وہاں نادان کی قیمت کیا ہے
میں نے دیکھا ہے کئی حاکموں کو بکتے ہوئے
اے مرے دوست تری جان کی قیمت کیا ہے

23
یقین پختہ بنے واہمہ نظر آئے
اگر کوئی خدا ہے تو خدا نظر آئے
ہزاروں خواہشیں لے کر فضول بیٹھا ہوں
میں گھر سے نکلوں مگر راستہ نظر آئے
یہ کاہے گھیر کے بیٹھے ہو رونق - دنیا
ہٹو کہ کھیل تماشا ذرا نظر آئے

39
وہ سبز گنبد و مینار رحمتوں کی پھوار
مرے حضور کا دربار رحمتوں کی پھوار
دل و دماغ کو چھوتی ہے روضے کی ٹھنڈک
برس رہی ہے لگاتار رحمتوں کی پھوار
جہاں بھی دیکھو گے پاؤ گے روشنی کا ظہور
وہاں تو ہے در و دیوار رحمتوں کی پھوار

0
57
اس سے بڑھ کر علم نہیں اس سے بڑی کرامات نہیں
وہ پیرو مرشد ساتھ بھی ہیں حالانکہ وہ ساتھ نہیں
دنیا میں ولی اور بھی ہیں دنیا میں سخی اور بھی ہیں مگر
آقا کے قدموں والی کسی کے قدموں میں بات نہیں
وہ جو مدینے میں گزرے اس دن کے جیسا دن ہی نہیں
وہ جو مدینے میں گزرے اس رات کے جیسی رات نہیں

1093
جناب گانے نہ گاؤ کہ روزے آ گئے ہیں
لبوں پہ نعت سجاؤ کہ روزے آ گئے ہیں
مرے ضمیر جگاؤ کہ روزے آ گئے ہیں
دلوں پہ ڈھول بجاؤ کہ روزے آ گئے ہیں
نکل بھی آؤ زمانے کے ان اندھیروں سے
تجلیوں کو کماؤ کہ روزے آ گئے ہیں

73
اتنا بھی احترام نہیں کر سکوں گا میں
ہر شخص کو سلام نہیں کر سکوں گا میں
تو میرے کام کا ہے مگر دوست معذرت
تیرے لیے یہ کام نہیں کر سکوں گا میں
مجھ کو نہ دیجیے یہ بغاوت کے مشورے
محنت کا پھل حرام نہیں کر سکوں گا میں

42
سر ہلاتے ہوئے مسکراتے ہوئے
آتے جاتے ہوئے
تم بھی انجان ہو ہم بھی انجان ہیں
یوں ستاتے ہوئے دل دکھاتے ہوئے
ظلم ڈھاتے ہوئے
تم بھی انجان ہو ہم بھی انجان ہیں

0
56
سرخ اودی لب و رخسار سے جلتے ہیں لوگ
جانے کیوں مجھ سے مرے پیار سے جلتے ہیں لوگ
تندرستی کی جلن زود یقینی ہے مگر
کیا تعجب ہے کہ بیمار سے جلتے ہیں لوگ
یہ نہیں سوچتے اللہ ہمیں بھی دے گا
دیکھ کر چیز خریدار سے جلتے ہیں لوگ

116
خدا کو توبہ کی جھوٹی زبان دے رہے ہیں
نماز پڑھنی نہیں اور اذان دے رہے ہیں
دہاڑی باز ہیں کوئی شہید وید نہیں
ہمارے واسطے جتنے بھی جان دے رہے ہیں
کسی کو کچھ نہیں معلوم مسئلہ کیا ہے
سبھی مباحثے کا امتحان دے رہے ہیں

0
46
زمیں یہ سوچتی ہے آسماں یہ سوچتا ہے
ہماری سوچ سے ہٹ کر جہاں یہ سوچتا ہے
خدا کی سب پہ نظر ہے یہ بات سچ ہے مگر
کسی کو لوٹنے والا کہاں یہ سوچتا ہے
زبان والا یہ کہتا ہے یہ نہ ہی ہوتی
مری بھی ہوتی زباں بے زباں یہ سوچتا ہے

0
44
اک جوانی سے اک جوانی کا
عشق لاوا ہے گرم پانی کا
جان دیتے ہیں بے شمار مگر
نام ہوتا ہے صرف بانی کا
اتنی محنت بھی مت کرو اے دوست
کیا بھروسہ ہے کامرانی کا

55
عجیب رنگ حنا زندگی ہوئی ہے کیوں
سبھی کے ہوتے ہوئے بھی کمی ہوئی ہے کیوں
جناب آپ تو اس کے طبیب ہیں پھر بھی
جناب آپ کو عینک لگی ہوئی ہے کیوں

0
37
دوست میں نے لکھ ڈالا دشمنی کے خانے میں
اور اس کا دکھ لکھا دوستی کے خانے میں
اس کے بعد میرا کوئی نہیں زمانے میں
سوچتا ہوں کیا لکھوں زندگی کے خانے میں
ایک دھوکا کھایا جب آدمی کے ہاتھوں تب
میں نے لکھا بچ کے رہ آدمی کے خانے میں

0
62
ایک اندر کی ہے اور ایک ہے باہر کی آنکھ
دونوں کے ساتھ سمجھ آتی ہے منظر کی آنکھ
حسن ہی اتنا نوازا ہے خدا نے تجھ کو
جہاں دیکھو وہیں ہو جاتی ہے پتھر کی آنکھ
سر میں ہوتا ہے ابھی کل کی تھکاوٹ کا بوجھ
صبح ہوتے ہی بلا لیتی ہے دفتر کی آنکھ

0
105
رہے گا حال یہی زندگی نہیں چلے گی
سبھی کے ساتھ چلو سادگی نہیں چلے گی
یہاں سے جان چھڑا لو گے تم لٹک کے مگر
جہاں ہے جانا وہاں خود کشی نہیں چلے گی
جس ایک شخص کے پیچھے چلیں گے تیرے قدم
اس ایک شخص کے آگے تری نہیں چلے گی

44
تمام عمر یونہی زندگی کو کھو بیٹھے
کسی کو ڈھونڈ کے لائے کسی کو کھو بیٹھے
نجانے کس نے لگائی تھی کم سنی پہ نظر
جوان ہوتے ہی آسو د گی کو کھو بیٹھے
کسی کو کھونے کی ضد میں بھی پا لیا ہم نے
کسی کو پاتے ہوئے بھی کسی کو کھو بیٹھے

0
103
شکوہ کیونکر کریں بے بیکار میں قسمت کے ساتھ
ہم نے کھیلا نہیں حالات سے محنت کے ساتھ
چاہے کتنی بھی پڑیں مشکلیں دوران - سفر
ہو ہی جاتا ہے کیا جائے جو نیت کے ساتھ
چاہیے تم کو اگر دل مرا لے لو لیکن
چیز نازک ہے اسے رکھنا حفاظت کے ساتھ

0
55
دل میں پتھر لیے پھولوں کی خریداری کرو
میں بہت خوش ہوں چلو آؤ دل آزاری کرو
میں کوئی ایسا نہیں ویسا نہیں پہلو نشیں
یہ حقیقت ہے ڈراموں میں اداکاری کرو
مطمئن رہنا ہے دو وقت کی روٹی سے اگر
کاروبار اپنا کرو نوکری سرکاری کرو

0
65
اسی لیے سر - بازار جھوٹ بولتے ہیں
کہ پیٹھ پیچھے تو مکار جھوٹ بولتے ہیں
میں جن کے بارے میں ہر بار سچ بتاتا ہوں
وہ میرے بارے میں ہر بار جھوٹ بولتے ہیں
بہت غریب تھا کچھ بھی نہیں تھا میرے پاس
ڈرامے بازی ہے فنکار جھوٹ بولتے ہیں

0
31
گھما پھرا کے وہی حال آتے جا رہے ہیں
پرانے لوگ نئے سال آتے جا رہے ہیں
ہمارے سر پہ جو بھونچال آتے جا رہے ہیں
ہمارے سامنے اعمال آتے جا رہے ہیں
یہ واقعہ ہے قیامت کے پاس کا لیکن
یہاں ابھی سے ہی دجال آتے جا رہے ہیں

0
52
دنیا میں ہی سج بیٹھا ہے محشر مرے آگے
مومن مرے پیچھے ہیں تو کافر مرے آگے
غیروں کو تو غیروں سے محبت ہی بہت ہے
رکھتے ہیں مرے اپنے ہی پتھر مرے آگے
اب مجھ کو ضرورت ہے تری میری مدد کر
یونہی نہ چلانا کوئی چکر مرے آگے

0
44
تندرستی میں بھی معذور نظر آتے ہیں
مجھ کو ہنستے ہوئے مجبور نظر آتے ہیں
صرف آنکھوں سے نہ اندازہ لگا چہروں کا
دیکھنے میں سبھی مغرور نظر آتے ہیں
ان کو کیا علم کئی اور بلائیں بھی ہیں
عام لوگوں کو تو مشہور نظر آتے ہیں

0
40
یہ اک سوال سوالات سے زیادہ ہے
تری خموشی جوابات سے زیادہ ہے
ہمارا حل یہ ہے بے موت مارے جائیں بس
ہمارا مسئلہ صدقات سے زیادہ ہے
کسی کا ملنا بھی دنیا میں ہے نہ ملنے سا
کسی کی یاد ملاقات سے زیادہ ہے

1
154