یہ جو بس آندھی ہے طوفان بھی ہو سکتا ہے
آج برسات کا امکان بھی ہو سکتا ہے
دل نہیں ذہن کی باتوں کا کہا مانو بس
دل تو بچہ ہے بے ایمان بھی ہو سکتا ہے
مت اٹھا انگلی کسی شخص کی شخصیت پر
وہ جو کافر ہے مسلمان بھی ہو سکتا ہے
خدا دیکھا ہے نہ دیکھے ہیں فرشتے ہم نے
دین انسان کا دیوان بھی ہو سکتا ہے
اس لیے سیکھا ہے تنہائی میں جینے کا ہنر
تو کسی موڑ پہ انجان بھی ہو سکتا ہے
اتنی تعریف بھی مت کیجیے لوگوں کی کبھی
کوئی نیکی کوئی احسان بھی ہو سکتا ہے
جاگتے رہنا ہی موجب نہیں زخموں کا کلیم
حادثہ نیند کے دوران بھی ہو سکتا ہے

175