سر ہلاتے ہوئے مسکراتے ہوئے
آتے جاتے ہوئے
تم بھی انجان ہو ہم بھی انجان ہیں
یوں ستاتے ہوئے دل دکھاتے ہوئے
ظلم ڈھاتے ہوئے
تم بھی انجان ہو ہم بھی انجان ہیں
زیست ہے گفتگو بولنا چاہیے
دیکھنا چاہیے سوچنا چاہیے
بیٹھنا چاہیے یہ بتاتے ہوئے
یہ سکھاتے ہوئے یہ بھلاتے ہوئے
تم بھی انجان ہو ہم بھی انجان ہیں
نیند میں سر بسر خواب میں در بدر
عرش کی فکر میں فرش سے بے خبر
ایک انجان در کھٹکھٹاتے ہوئے
صدا لگاتے ہوئے کچھ نہ پاتے ہوئے
تم بھی انجان ہو ہم بھی انجان ہیں

0
12