Circle Image

شوخؔ جی

@PoetShokhG

درد مجھ کو دیا کرے کوئی!
اور مجھ پر ہنسا کرے کوئی!
کیوں نہ ہوں ہر طرف اجالے پھر
رات بھر جب جلا کرے کوئی!
کاش! کوئی مجھے تسلّی دے
آہ! دل کی سُنا کرے کوئی!

0
6
مسکرا مسکراہٹ سے مدہوش کر
دل دکھایا ہے جس نے فراموش کر
تیرے بھیدوں پہ پردہ خدا ڈالے گا
تُو بھی لوگوں کے سب بھید رُوپوش کر
ابنِ آدم دلوں میں اُتر اس طرح
میٹھی گفتار آنکھیں حیا کوش کر

0
15
میں ہوں حسینی میں ہوں گدائے غمِ حسین ع
لمحہ بہ لمحہ آنکھ بہائے غمِ حسین ع
جس جس کی بھی جبیں پہ لگی خاکِ کربلا
مرنے کے بعد بھی وہ منائے غمِ حسین ع
تڑپائے جب کسی کو بھی ہونٹوں کی تشنگی
پھر اُس کے بعد کون بھلائے غمِ حسین ع

0
10
نام اُن ﷺ کا بولوں میں جہاں صَلُّو عَلَی حَبِیب
ہر ایک لب پہ ہو رواں صَلُّو عَلَی حَبِیب
اللّٰہ اور اُس کے فرشتے پڑھیں درود
پھر یہ زمیں کہے زماں صَلُّو عَلَی حَبِیب
سرشار ہو کے سنتا رہوں مدحتِ رسول ﷺ
دل بھی پکارے میری جاں صَلُّو عَلَی حَبِیب

0
25
محبوبِ کبریا ﷺ کو ہمارا سلام ہو
طیبہ کے بادشاہ ﷺ کو ہمارا سلام ہو
ہر وقت چومتی ہے وہ روضہ رسول ﷺ کو
چلتی ہوئی فضا کو ہمارا سلام ہو
نورِ خدا برستا ہے آنکھوں سے آپ ﷺ کی
اُن آنکھوں کی ضیاء کو ہمارا سلام ہو

0
1
35
بڑی بے دردی سے تڑپا رہا ہوں
میں خود کو آگ پر سلگا رہا ہوں
تم اپنی آنکھوں کو بیتاب رکھنا
تمہارے شہر کو میں آ رہا ہوں
سنائی کیوں نہیں دیتا میں تم کو
گلہ تو پھاڑ کر چلّا رہا ہوں

3
145
بات ہونٹوں سے پیار کی کرنا
چارسُو اپنے روشنی کرنا
اب کوئی اور کام کرنا ہے
کام آیا نہ دل لگی کرنا
تیری آواز کو ترستے ہیں
بات کوئی تو اَن کہی کرنا

28
اشک آنکھوں سے بہاتے ہوئے دُکھ ہوتا ہے
اپنی روداد سناتے ہوئے دُکھ ہوتا ہے
کسی کو چھوڑ کے جاتے ہوئے دُکھ ہوتا ہے
دُور سے ہاتھ ہلاتے ہوئے دُکھ ہوتا ہے
گھر کے دروازے پہ جب ماں کو کھڑا دیکھتا ہوں
گاؤں سے شہر کو آتے ہوئے دُکھ ہوتا ہے

1
143
دلِ نادان روتا ہے تماشہ خوب ہوتا ہے
یہ جب آنسو پروتا ہے تماشہ خوب ہوتا ہے
تمہارا ہجر بھی اب یار بھاتا ہے بہت مجھ کو
تجھے مجھ میں ڈبوتا ہے تماشہ خوب ہوتا ہے
فراقِ یار کا نشتر ہزاروں زخم دیتا ہے
کبھی کانٹے چبھوتا ہے تماشہ خوب ہوتا ہے

38
اِک شخص بے وفا ہوا ایسا ہوا کہ بس!
مجھ کو وہ چھوڑ کر گیا ایسا گیا کہ بس!
پھر اُس کے بعد کوئی جلانے نہ آ سکا
دل کا چراغ گُل ہوا ایسا ہوا کہ بس!
چھوڑا ہے جب سے اُس نے مرا ہاتھ تھام کر
لوگوں کے پاؤں میں گرا ایسا گرا کہ بس!

3
114
جب راستے سے تجھ کو گزرتا ہوا دیکھوں
ہر طرف ترا رنگ بکھرتا ہوا دیکھوں
ہر بار محبت مجھے ہوتی گئی تجھ سے
ہر بار تجھے دل میں اترتا ہوا دیکھوں
پردہ ہٹا کر چہرے سے کرتے ہو اُجالے
خود کو جب اندھیروں سے میں ڈرتا ہوا دیکھوں

29
گزارش ہے زماں سے تم زمیں پر پھینک دو مجھ کو
میں دنیا کا ہی کچرا ہوں کہیں پر پھینک دو مجھ کو
میں مٹی کا بنا ہوں اور مٹی میں ہی جانا ہے
جہاں چاہے تمہارا دل وہیں پر پھینک دو مجھ کو
مری اوقات ہے اتنی میں جنت سے نکالا ہوں
ٹھکانا میرا دوزخ ہے یہیں پر پھینک دو مجھ کو

0
32
اُس نے میری ہنسی چُرا لی ہے
یوں کہوں زندگی چُرا لی ہے
اِک محبت کی بس کمی تھی مجھے
اُس نے وہ بھی کمی چُرا لی ہے
رات کو اُس نے اور کیا تاریک
رات کی چاندنی چُرا لی ہے

0
36
جانے کیوں ضبط مرا جانچنے آ جاتے ہیں!!!!!
لوگ دُکھ دے کے مجھے دیکھنے آ جاتے ہیں!!!!!
ہائے! وہ اپنے جو خوشیوں میں نہیں ہوتے شریک
کوئی مرتا ہے تو غم بانٹنے آ جاتے ہیں!!!!!
دنیا والے تو سمجھتے ہیں خدا جھوٹ کو بس!
حق جو بولوں تو مجھے مارنے آ جاتے ہیں!!!!!

23
جس طرف بھی وہ اک نظر ڈالے
سب کے سب خالی جام بھر ڈالے
اِس محبت کے جب گلے لگا میں
روح میں اُس نے چھید کر ڈالے
یوں بھی نوچا ہے خود کو وحشت میں
اپنے ناخن بھی خود کتر ڈالے

17
کتنے حسین ہوتے ہیں تڑپانے والے لوگ!
آنکھوں سے ہو کہ دل میں اتر جانے والے لوگ!
اندر سے کالے من لئے ہوتے ہیں بے وفا
ہنس ہنس کے اپنی باتوں سے بہلانے والے لوگ!
اپنوں سے دور رہتے ہیں فکرِ معاش میں
شہروں کی طرف گاؤں سے کچھ آنے والے لوگ!

27
مُحبت سے مُکرنا چاہتا ہوں
ترے دل سے اُترنا چاہتا ہوں
مرے جذبات قابو میں نہیں ہیں
میں ہر حد پار کرنا چاہتا ہوں
ہوا میں پھیل جاؤں ہر جگہ میں
مہک بن کر بکھرنا چاہتا ہوں

34
درد کی بہتاتوں سے اندیشہ ہے!
آنکھوں کی برساتوں سے اندیشہ ہے!
روح میں ہیں چھید کرتے رات دن
دل کے ان جذباتوں سے اندیشہ ہے!
کٹ گیا یونہی دسمبر اب کی بار
جنوری کی راتوں سے اندیشہ ہے!

31
یوں کانوں میں چُپکے چُپکے چاشنی گھولے
میں پنجابی بولوں اور وہ اُردو بولے

69
خراب حالوں میں غم خوار باتیں کرتے ہیں
کیا وقت ہے کہ مرے یار باتیں کرتے ہیں
مرے خلاف جو کہنا ہے میرے منہ پہ کہیں
یہ لوگ کیوں پسِ دیوار باتیں کرتے ہیں
زباں سے بات نکلنے کی دیر ہوتی ہے
رویے چیختے ، کردار باتیں کرتے ہیں

35