1- بغیر جان پہچان کے کسی واٹس ایپ نمبر پر بار بار آدھی رات کو ویڈیو کال کریں ۔یقین کامل رکھیں کہ بلاک ہو جاؤ گے 2- کسی تازہ تازہ بنے دوست سے مسلسل ادھار کا تقاضا کریں ۔پیسے واپس کرنے کے بارے میں شکوک کا اظہار کریں ۔اسے یہ کہیں کہ " یار اب تجھ سے ہی امید ہے " بلاک ہو جاؤ گے ۔3- کسی گرل فرینڈ سے جو کنجوس ہو موبائل لوڈ یا منتھلی پیکج کروانے  کا کہو ۔یہ سوال اگر اس کی انسٹا فلٹر لگا کر سلفی کی بے عزتی کے بعد کیا جاۓ تو بلاکنگ یقینی ہے ۔4- انسٹا یا واٹس ایپ یا فیس بک پر rude کمنٹس پاس کریں ۔اور ساتھ ہی اپنی غربت کا اعلان کریں ۔خود کو عقل کل ڈکلئیر کر دو ۔بلاک ہو جاؤ گے ۔5- بلاک ہونے کا سب سے آسان طریقہ ہے کہ کسی سے سچا عشق کریں ۔لازمی بلاک کر دے گی ۔۔۔۔تحریر : کاشف علی عبّاس 

0
2
21
اپنے بچوں سے گزارش   سنُو ہی نہیں دیکھو بھی میری طرف۔ دوسروں کے شاہکار کو سراہو ضرور مگر متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ آپ اپنا شاہکار تخلیق کرو اگر کسی نے کیا تو آپ بھی کر سکتے ہو۔ابوظہبی میں Louvre Museum  میوذیم میں سکندر کا مجسمہ دیکھا تو احساس یوا ذندہ اور مردہ پتھراۓ انسان میں کیا فرق ہوتا ہے۔ ہم بولتے ہیں تو وہ چُپ چاپ ہمیں سُنتا ہے بولتا نہیں۔ چلیں  چھوڑیں ویسے بھی وہ ہماری پھوپھی کا بیٹا بھی تو نہیں تھا۔ ہمیں اہنا جہاں خود آباد کرنا ہے۔ بقول اقبال رح : - نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی جناب عالی ہم تو مزدورں کی اولاد ہیں ہمیں تو ایسی کوئی سدَر بھی نہیں۔  ہمیں بڑی بڑی کشور کشائی کا انجام بھی پتہ چلا۔ اتنا جدید میوزیم لوگوں کی بھیڑ میں بالکل خاموشی کیوں؟ جی جی منہ بند ہیں پتھراۓ لوگ ! بس بس یہاں زیادہ زکر نہیں کرنا۔ میں نے فیس بک پہ ایک پیج دیکھا نکمے فارغ لوگ رنگدار چوزے فوٹو میں گننے لگے تھے مسلسل آٹھ دن سے۔۔۔ میں نے ایک موٹا سا رنگدار سا تبرہ تول کر لکھا پھر اسے مذید بولڈ بھی کر دیا اور پوسٹ کرنے کے بعد پیج ڈیلیٹ کر دیا تاکہ چوزے گننے والے مچھروں کی طرح حملہ

22
لوگ سمجھتے ہیں رزق دولت کو کہتے ہیں۔بابا، رزق عزت ہے، پیسہ ہے، اولاد، علم، فہم، قلم، عشق، عرفان، فیضان، سب رزق ہیں۔ جس کے پاس صرف پیسہ ہو، قرآن اُس سے کہتا ہے:وَ اللّٰهُ الْغَنِيُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُسو اگر پیسہ نہیں ہے، تو مالک کسی اور چیز میں اضافہ کرتا ہے۔ عزت، فہم، قلم بیچ کر پیسہ مت خریدو۔

0
12
 نوٹ : کمزور دل حضرات اس کو ہرگز ہرگز نہ پڑھیں، اور مضبوط دل افراد بھی رات کو پڑھنے سے گریز کریں ...شکریہ ...منجانب مصنف  یہ ایک سچا واقعہ ہے، عام طور پر کسی آپ بیتی یا قصّے کو محض زیب داستان کے لیے ، مزید سنسنی خیز بنانے کے لیے یہ فقرہ کہا جاتا ہے ، مگر اس واقیۓ کے مندرجات بلا کم و کاست بیان کر دیے گیے ہیں ... میں بلواسطہ طور پر اس کا چشمدید گواہ ہوں، بات چند مہینے پیشتر کی ہے جب مرے قریبی دوست ، شہاب احمد کو ٹیو شن کی ضرورت پڑھی... میں ان دنوں ایک سرکاری یو نیورسٹی  میں لیکچرر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا ، تو جب اس نے مجھ سے نکر کیا، تو مجھے وہ سرخ رنگت بالوں اور گہری کالی آنکھوں والی لڑکی یاد آی، جس نے کچھ عرصہ پہلے مجھ سے ٹیو ٹر لگوانے کی بات کی تھی، یو نیورسٹی میں روز ہی تقریباً سینکڑوں ایسے لوگ ملتے ہیں ، جو آپ کی مدد چاہتے ہیں ... مگر وہ لڑکی مرے ذھن کے کسی خانے میں بیٹھ گیئ تھی، جس کی  وجہہ میں خود نہیں جانتا ... بس یہ تھا کے میری چھٹی حس کچھ زیادہ ہی تیز تھی، کچھ تو گڑ بڑ تھی، مگر میں ادارک نہ کر سکا، اور یہ تو بہت بعد میں کھلا...تب تک بہت دیر ہو چکی تھی... اس لڑکی کا نا

0
32
عرض یہ ہے مجھ پر اچا نک  حملہ ہو گیا ہے ۔ یکایک چاروں طرف سے بھیانک اور  خوفناک ٹرولرز اور خطرناک میمرز نے مجھ پر سوشل یلغار کر دی ہے ۔میرے انباکس پر چڑ ہائی کر دی ہے ۔تنقیدی پیغامات کا تانتا بندھ گیا ہے ۔جیسے یہ کیا ہے جی ؟ یہ کیوں ہے جی ؟ مریں ہمارے دشمن ہم کیوں مریں ۔تم مرو ۔۔۔وجھہ صرف یہ تھی کہ میری پچھلی تحریر کا عنوان تھا * کمال کی پانچ کتابیں جو مرنے سے پہلے پڑ ھیں * تو شاید انھیں مرنے سے ڈر لگتا ہے یا شاید جہنم کا خوف ہے تو بہرحال اب اس نئی لسٹ کا عنوان ہے "وہ پانچ کتابیں جو آپ جنت جانے سے پہلے پڑھ لیں " اب خوش ہو رذیل ٹرولرز ؟ ہاں ہاں خوش ہی ہوں گے ۔تو پہلی کتاب ہے علی پور کا ایلی اور جھونگے میں "لبیک " بھی شامل ہے ۔ممتاز مفتی جیسا کوئی نہیں لکھ سکتا ۔ شہزاد کا کردار ایک رنگین دلنشیں ادبی معرکہ ہے ۔ مرزا رسوا کی امراؤ جان ادا اور ڈپٹی نظیر احمد کی اکبری اصغری سے کسی طور کم نہیں۔ منشی پریم چند کے افسانوں  اور خاص طور پر ان کے شہرہ آفاق ناول *شطرنج * میں جو ٹکسالی قسم کا انداز بیان ہے اسی میں تھوڑا سا منٹو اور کرشن چندر کا مکسچر ہو تو نتیجہ علی پور کا ایلی اور ٹین کا آدمی

47
١۔  جنگ اور امن ( ٹالسٹائی ) اس کتاب کا سحر آج بھی مجھ پر روز اول یعنی دس سال سے طاری ہے 🔆۔پرنس نکولائی پسندیدہ کردار  اور نفسیاتی پرت جو ٹالسٹائی نے لا تعداد کردار لکھ کر بنا دی ہے وہ بھی کمال ہے ۔ میں روسی نہیں جانتا تو انگریزی اور اردو ادب کا ورزن پڑھا ۔ ہر صفحے پر ایک نیا کردار ملتا ہے ۔امن کی حالت میں جنگ کا خوف ایک اچھوتی تخلیقی کاوش ہے ۔2- (کاونٹ آف مانٹی کرسٹو ) جو ڈوما نے لکھا ہے ۔ہسپانوی ادب میں ایک ڈان کے خھوتے ( اسے کھوتے نا پڑھا جائیے ) اپنے مریل گدھے پر مہم جوئی کو نکلتا ہے تو دوسری طرف ڈوما اور تھری مسکیٹرز اور کاونٹ ہے ۔ اس ناول میں ایک شریف بھولے سے بندے کو دھوکہ دہی سے ایک جرم میں پھنسا دیا جاتا ہے ۔ نپولین بذات خود اس سازش میں شامل ہے ۔قید خانہ ایک جزیرے پر ہے جسے chaitu'if کہا جاتا ہے ۔وہاں اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں ۔آخر وہاں اسے ایک استاد ملتا ہے ۔جو اسے خزانے کا پتا دیتا ہے (نقشہ )اور یہ بھولا بندہ وہاں سے بھاگ کر خزانہ تلاش کر کے ایک فیک پہچان یعنی کاؤنٹ بن کر واپس آتا ہے اور اپنا انتقام اپنی محبوبہ اور بہترین دوست اور ایک جج سے لیتا ہے ۔ اعلیٰ ناول اور شاندار تحر

0
39

2
67
*Banda us waqt tak naik nahi ban sakta jab tak dusron ko gunahgar samjhta rahe jis din us nai dusron ko naik khud ko gunahgaar guman karna shuru kar diya us din wo naik ban gaya**Allah paak mujhe Aur Aapko naik banai🤲🏻🤲🏻🤲🏻🌹**✍🏻 Noor Ali Attari Razavi*

12
*Banda us waqt tak naik nahi ban sakta jab tak dusron ko gunahgar samjhta rahe jis din us nai dusron ko naik khud ko gunahgaar guman karna shuru kar diya us din wo naik ban gaya**Allah paak mujhe Aur Aapko naik banai🤲🏻🤲🏻🤲🏻🌹**✍🏻 Noor Ali Attari Razavi*

13
دُکھ جوڑتے ہیں ہمیں۔خوشی تو کسی سے بھی بانٹی جا سکتی ہے۔

0
37
بازارِ مصر میں حسن بِکتا ہے۔ ضمیر تو کسی کو دِکھائی بھی نہیں دیتا۔

53
بعض اوقات انسان کو غلطی کرنا اتنا بڑا گناہ نہیں لگتا جتنا غلطی مان لینا لگتا ہے۔

46
تنگ دست ہونا تنگ دل ہونے سے ہزار درجے بہتر ہے.

0
62
السلام علیکم پچھلے دنوں ایک ہندی اردو نظم کی تقطیع کے حوالے سے بہت سی دشواریاں پیش آئیں تدوین کرتے کرتے پورا پیج ہنیگ کرجاتاٗ بہر نوع وہ تو آٹھ دن کی مشقت سے حل ہوگیا مسئلہ لیکن ابھی ہندی عربی اور فارسی کے حوالے اس پہلے سے ہی بہترین سافٹ وئیر کو اور مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے 

0
3
73
تب تک موٹیویشن خود کی ناکامی کی موٹیویشن ہے جب تک اس کو اپنی خود کی موٹیویشن کا نہیں پتا ۔

42
شخص وہ عجیب تھادل کے بھی قریب تھادل کا وہ امیر تھاوہ نہیں غریب تھااستفادہ کچھ نہ کیامیں ہی بد نصیب تھادل کے بھی وہ حال کوجانتا طبیب تھاعلم کا خزینہ تھاوہ خوش نصیب تھاپردہ ہم سے کر گیاقلب کے قریب تھا

0
41
من پسندی من پسندی ایک ایسا پنجرہ ہے جو کہ ہماری ذات میں فطرتاََ موجود ہے۔  ہم سب اپنی ذات میںمن پسندی کے رُجحان کو بڑی احتیاط و تمنّا کے ساتھ سینت سینت کررکھتے ہیں۔  اور اس پنجرے اپنے من پسندوں اپنے من چاہوں کو پرندوں کی طرح قید کرتے ہیں۔ اور اُن سے ہمہ وقت سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ہماری من پسند بولیاں سیکھیں اور اُن کو اپنی توتلی محبت بھری زبان میں دُھرا کر، ہماری خُوبیوں کے گیت گا گا کر ہمارا دل خُوش کرتے رہیں۔ہمارے من پسند اطوار اپنائیں، جیسا ہم چاہیں ویسا پہنیں ، جو ہم چاہیں کریں،  الغرض جیسے ہمیں پسند ہو بالکل ویسے ہی بنے رہیں۔ لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہو جاتا کہ ہماراپگلا من کسی ایسے پرندے پر آجاتا ہے جو یہ سب کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ جو ہماری’ حسیں توقعات‘ کو چکنا چُور کر دیتا ہے۔ جو ہمیں اپنی سی سُنانا چاہتا ہے، اور اپنی سی کرنا چاہتا ہے۔اُس وقت ہمارے من پسندی کے پنجرے کا انجر پنجر سب خطرے میں پڑ جاتا ہے۔تب ہمارا من پسندی کا پنجرہ زندانِ نفرت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔یاپھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جس پرندے کو ہم نے اپنے پنجرے کی زینت بنانا چاہا اُس کے بال و پر ہماری توقع سےکہیں بڑھ کر

0
80
سلام زیشان صاحبplease add following words to dictionary"دکھاؤمنجھدارمُستثناشکنیںنیرنگئِآگہسُلگاتابین السطورکسَمپُسریکڑہائی، سینکڑے"خیر اندیشعدنان مغل

1
117
سلام زیشان صاحبplease add following words to dictionaryدکھاؤمنجھدار

3
81

0
315
اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ۔ آپ سب حضرات کی خدمت میں ناچیز کی طرف چند اشعار پیش ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ اس غزل کا آپ صاحبان تنقیدی جائزہ کریں براہِ کرم۔اگرچہ رات گذری ہے تو پھر یہ رات سی کیا ہےسحر تیری جبیں پر نقش داغِ تیرگی کیا ہےجلا ڈالیں نہ اپنا گھر تو اے آتش کریں کیا ہمہماری ظلمتوں میں اور وجہِ روشنی کیا ہےاُسے کہتے تو ہیں شبنم گلستاں میں سبھی لیکنیہ گُل ہی جانتا ہے اُس کے داماں کی نمی کیا ہےبجھی نا پیاس حالانکہ پلایا تھا لہو تجھ کودلِ مضطر بتا مجھ کو کہ تیری تشنگی کیا ہےکہ گذریں گے یہ دن مشکل یہی اک آس ہے تم سےوگرنہ زندگی مجھ کو ملالِ خودکشی کیا ہےسہارے کی ضرورت ہر گھڑی محسوس ہوتی ہےسواۓ آدمی کے اِس جہاں میں آدمی کیا ہےبدل پائی نہ انساں کی اگر حالت تو اے شاعریہ سب لوح و قلم تیرے یہ تیری شاعری کیا ہےاُسے دیکھا نہیں میں نے عمل پیرا کبھی واعظجسے دیکھا ہے بتلاتے کہ نیکی کیا بدی کیا ہےہے اب آئینہ بھی منکر ترے اس چہرے کا غازیکہ صورت کیا تھی پہلے اور اب صورت بنی کیا ہےعرفان غازی

0
4
141
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

189
2187
اصلاح سیکشن میں حال ہی میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں

5
612
بے نیاز ہونا اچھی بات ہے۔ لوگ کیا کہتے اور سوچتے ہیں، اس سے آپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے۔لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کیچڑ میں کھڑے رہیں اور کہیں کہ مجھے لوگوں کی پروا نہیں۔بےنیاز اور بے پروا ہونے میں فرق ہے۔Ria

0
122
عزت اور رزق اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ آپ کا اختیار صرف اتنا ہے کہ اپنے حصے کا رزق اور اپنے حصے کی عزت دائیں ہاتھ سے وصول کرنے ہیں یا بائیں ہاتھ سے۔ یعنی رزق حلال کمانا ہے یا حرام۔ عزت زبردستی حاصل کرنی ہے یا اخلاق کے ساتھ۔ یاد رکھیے، اللہ کہتا ہے کامیاب دائیں ہاتھ والے ہیں، بائیں والے نہیں۔

0
79

7
723