من پسندی من پسندی ایک ایسا پنجرہ ہے جو کہ ہماری ذات میں فطرتاََ موجود ہے۔  ہم سب اپنی ذات میںمن پسندی کے رُجحان کو بڑی احتیاط و تمنّا کے ساتھ سینت سینت کررکھتے ہیں۔  اور اس پنجرے اپنے من پسندوں اپنے من چاہوں کو پرندوں کی طرح قید کرتے ہیں۔ اور اُن سے ہمہ وقت سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ہماری من پسند بولیاں سیکھیں اور اُن کو اپنی توتلی محبت بھری زبان میں دُھرا کر، ہماری خُوبیوں کے گیت گا گا کر ہمارا دل خُوش کرتے رہیں۔ہمارے من پسند اطوار اپنائیں، جیسا ہم چاہیں ویسا پہنیں ، جو ہم چاہیں کریں،  الغرض جیسے ہمیں پسند ہو بالکل ویسے ہی بنے رہیں۔ لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہو جاتا کہ ہماراپگلا من کسی ایسے پرندے پر آجاتا ہے جو یہ سب کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ جو ہماری’ حسیں توقعات‘ کو چکنا چُور کر دیتا ہے۔ جو ہمیں اپنی سی سُنانا چاہتا ہے، اور اپنی سی کرنا چاہتا ہے۔اُس وقت ہمارے من پسندی کے پنجرے کا انجر پنجر سب خطرے میں پڑ جاتا ہے۔تب ہمارا من پسندی کا پنجرہ زندانِ نفرت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔یاپھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جس پرندے کو ہم نے اپنے پنجرے کی زینت بنانا چاہا اُس کے بال و پر ہماری توقع سےکہیں بڑھ کر

0
26
سلام زیشان صاحبplease add following words to dictionary"دکھاؤمنجھدارمُستثناشکنیںنیرنگئِآگہسُلگاتابین السطورکسَمپُسریکڑہائی، سینکڑے"خیر اندیشعدنان مغل

1
24
سلام زیشان صاحبplease add following words to dictionaryدکھاؤمنجھدار

3
21

0
45
اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ۔ آپ سب حضرات کی خدمت میں ناچیز کی طرف چند اشعار پیش ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ اس غزل کا آپ صاحبان تنقیدی جائزہ کریں براہِ کرم۔اگرچہ رات گذری ہے تو پھر یہ رات سی کیا ہےسحر تیری جبیں پر نقش داغِ تیرگی کیا ہےجلا ڈالیں نہ اپنا گھر تو اے آتش کریں کیا ہمہماری ظلمتوں میں اور وجہِ روشنی کیا ہےاُسے کہتے تو ہیں شبنم گلستاں میں سبھی لیکنیہ گُل ہی جانتا ہے اُس کے داماں کی نمی کیا ہےبجھی نا پیاس حالانکہ پلایا تھا لہو تجھ کودلِ مضطر بتا مجھ کو کہ تیری تشنگی کیا ہےکہ گذریں گے یہ دن مشکل یہی اک آس ہے تم سےوگرنہ زندگی مجھ کو ملالِ خودکشی کیا ہےسہارے کی ضرورت ہر گھڑی محسوس ہوتی ہےسواۓ آدمی کے اِس جہاں میں آدمی کیا ہےبدل پائی نہ انساں کی اگر حالت تو اے شاعریہ سب لوح و قلم تیرے یہ تیری شاعری کیا ہےاُسے دیکھا نہیں میں نے عمل پیرا کبھی واعظجسے دیکھا ہے بتلاتے کہ نیکی کیا بدی کیا ہےہے اب آئینہ بھی منکر ترے اس چہرے کا غازیکہ صورت کیا تھی پہلے اور اب صورت بنی کیا ہےعرفان غازی

0
4
89
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

94
1083
اصلاح سیکشن میں حال ہی میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں

4
280
بے نیاز ہونا اچھی بات ہے۔ لوگ کیا کہتے اور سوچتے ہیں، اس سے آپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے۔لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کیچڑ میں کھڑے رہیں اور کہیں کہ مجھے لوگوں کی پروا نہیں۔بےنیاز اور بے پروا ہونے میں فرق ہے۔Ria

0
55
عزت اور رزق اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ آپ کا اختیار صرف اتنا ہے کہ اپنے حصے کا رزق اور اپنے حصے کی عزت دائیں ہاتھ سے وصول کرنے ہیں یا بائیں ہاتھ سے۔ یعنی رزق حلال کمانا ہے یا حرام۔ عزت زبردستی حاصل کرنی ہے یا اخلاق کے ساتھ۔ یاد رکھیے، اللہ کہتا ہے کامیاب دائیں ہاتھ والے ہیں، بائیں والے نہیں۔

0
31

7
626