Circle Image

دانیال خان فاؔنی

@faani

نازک سا دل ہے نازک سے ہم لوگ
مت کھیل یہ کھیل عشق جاں کا ہے روگ
راحت ہی نہیں کہ منزل طے کر لیں
ہے عشق نہیں شوق منانا ہے سوگ

1
جتنی الفت سے بیج بو دیتی ہے
احساس یہ دلاتی ہم کو میری ہے
تیری یہ محبت مجھ سے پیار ہے پیار
اتنی نفرت سے کاٹ تو لیتی ہے

4
کس شدت سے کھینچتی ہے اپنی اور
میرا یہ عشق ہے رواں تیری اور
یہ چاہت کی نشانی ہی ہے فاؔنی
ہر سو مشکل یہ رستے ہیں میری اور

2
دنیا کی بِھیڑ میں کیا ہے ذَرَّہ
دنیا میں لوگوں نے ہم سے کھیلا
فاؔنی تُو تلاش خود میں پہچان یہ کر
باقی رہے نام تیرا سب سے اعلیٰ

4
نَسوَار کہ ہوتا ہے پَٹھانوں میں شُمار
اب ہونے لگا ہر جگہ اس کا مِعْیار
سردی ہو یا گرمی خِزَاں ہو یا بَہار
رہتا ہے پَٹھانوں کا سَدا یہ ہَتِھیار

3
تاریخ پہ تاریخ وہ ناکام تو ہو
ہو کوئی نہ کوئی اب الزام تو ہو
ہر وقت بیاں کرتے کہتے ہیں ہم
وہ ہے بے وفا تیرا لقب عام تو ہو

7
اک وہ ہی تو ہے کہ بس نہیں چلتا جی
پیاری سی جان تو یہ سن ہے تو مری
اور ہر کوئی میں ایسی بات نہیں
جو ملتی پرانی سی شرابوں میں غشی

8
یہ دنیا امتحاں کی جا ہے فاؔنی
کر اچھے کی تیاری جزا ہے فاؔنی
یہ کھیل تماشا جو ہے سب وقتی ہے
میں تُو یہ وہ سب کچھ دنیا ہے فاؔنی

4
ہے ہماری شاگردی ان سے ہی
ہے کمال استادی ان ہی کی

5
کیا رتبہ بخشا کیوں اتنا گلہ ہے
چھوٹے سے دل میں بھی ہوتا خدا ہے
یہ جنت صبر کا صلہ ہے فاؔنی
انساں کیا اور چھوٹا سا دل کیا ہے

7
انتخاب ان کی رب نے کیا ہی کی ہے
آپ سے یہ وفا عشق پرداز ہے

7
جب ذِکر ہوتا ہے دل ہی دل میں
یہ بندہ روتا ہے دل ہی دل میں
کرنے لگے ہیں ہم یاد جب سے
اس کو سموتا ہے دل ہی دل میں
ہر وقت اپنی اور ہے بلاتا
وہ عشق بوتا ہے دل ہی دل میں

16
جتنی نظر اندازی کرنی ہے کر
ہم تم سے یوں ہی ملتے رہیں گے رہ گزر
مَن کی جو بات ہے وہ تو کرنی ہے
ہو تم بھی برابر شامل ہے کیا ڈر

2
تب تک موٹیویشن خود کی ناکامی کی موٹیویشن ہے جب تک اس کو اپنی خود کی موٹیویشن کا نہیں پتا ۔

6
کیسے پوچھیں کیا کوئی ہے تیرا
تم بھی پوچھو ہم سے کوئی ہے میرا
میں چپ وہ چپ ہیں نظریں ہَم سَفَری
دل تیرا مرا گھِیرا ہے اک ڈیرا

10
مشکل سے پرچے کی تیاری کی
اور پیار سے اُس نے کیا گفتاری کی
کیا چالاکی کی اور پھر ہم نے کی
تھوڑی دل داری کی فن کاری کی

14
موسم وہ جو گزرا یادوں میں ہے
اب یہ موسم بہتے اشکوں میں ہے
بارش کو برسنے کی یہ عادت بڑی ہے
میرا یہ برسنا برساتوں میں ہے

14
تھے اپنی سی دنیا میں تَلَاطُم سے پہل
کس رہ کا سفر ہے یہ تَظَلُّم سے پہل
ہو کون ہو تم غرق ہوئے اب کے بعد
تب شوخ تو اپنے تھے بہت تم سے پہل

5
اک بار ہماری جو خواہش کر لو
اب ہم سے ملنے کی سازش کر لو
لگتے نہیں ہم آسانی سے کسی ہاتھ
موقع سے اپنی یہ گزارش کر لو

5
یہ شکوہ مرے خدا مناجاتوں میں ہے
ہے اس کا ملنا کِن ہاتھوں میں ہے
تو ہی تو ہے جو کردے کُن سے تمام
اک چھوٹا سا پھل سوغاتوں میں ہے

5
اس کو خوش کبھی دیکھا ہے تو فاؔنی
دیکھ آنکھوں میں آنسو جو نہیں خوش
اپنی خوشیاں تجھے سونپ رہا ہوں
میرے درد کا کیا تو جو نہیں خوش

7
سڑ کوں پہ سراب ہے دکھاوے کے لئے
کیوں لوگوں کو چاہت ہے دکھانے کے لئے
اندھے ہیں کیا خبر بھٹکنے کے لئے
یہ دام ہے میری جاں تماشے کے لئے

5
اُڑْتی پُڑتی خبریں اڑنے کے لئے
ملتی ہیں راہوں میں چرچے کے لئے
سب کے سب باتیں ہیں ملبے کے لئے
اک تازے سے فتنے کے تماشے کے لئے

6
قربت سوچوں پہ بوجھ لاد آتی ہے
تم تک یہ سنانے فریاد آتی ہے
تجھ سے دوری کی عادت ہم میں نہیں
جس شدت سے تیری یاد آتی ہے

10
میری بربادی ہو یا آزادی
جن راستوں کی منزل میں نے چن لی
ہوں پاگل خود کی قسمت جو لکھ دی
اپنی ہی قسمت کا ہوں میں باغی

10
دل نے سن لی تیری دل کی آہٹ
دل کی دستک دروازے پر کٹ کٹ
دل کے در کوئی ملنے آیا ہے
دل نے کھولا وہ دروازہ جھٹ پٹ

15
کیوں چپکے چپکے سے تم آتے ہو
کیوں چپکے چپکے سے تم جاتے ہو
کس سوچ سے آخر ملتے جلتے ہو
یہ کیا کرتب ہم کو جہاں پاتے ہو

6
خوشبو مہکی گلشن میں آس پاس
ہے قریب دل میں وہ خاص پاس
میرے باغ کا گل ہے گل فراز
ہے مرے چمن کا کرشمہ ساز
زندگی ترے نام مسکرائے
جینے کا ہنر خود پہ آزمائے

33
آزاد ہے اپنی آزادی پہچان
کیوں رہتا ہے دنیا میں اک بے جان
دنیا سنتی ہی کیوں خاموشیوں کو
جو حق ہے تو زندہ انساں کر اعلان

52
تیری قربت میری یادوں سے ہے
تیرا ہونا میری سوچوں سے ہے
یہ کیا ہے جو ہم میں تم ہو شامل
یہ میری محبت جو برسوں سے ہے

59
کیا سمجھے تم بن رہتے ہیں کیسے
اب پیسے بولتے ہیں پیسے پیسے
جتنے کھو دیئے رشتے ناطے ایسے
کیا رشتے ہو جائیں گے پہلے جیسے

17
میرے خوابوں میں تو نہ توڑ ان کو تو
میرے رستوں میں تو نہ چھوڑ ان کو تو
میری شاموں میں تو راتوں میں تو
میرے ہر غم میں تو نچوڑ ان کو تو

46
وہ ہنس کر لت پت بھیگا بارشوں میں
ہوں چپ اسے دیکھتا ہنسا بارشوں میں
واللہ عجب نظارہ تھا بارشوں میں
ہک ہک قطرہ تھا پیارا بارشوں میں

25
کہانی کی خاطر ہوں
نشانی میں آخر ہوں
بیانی میں ماہر ہوں
کہ فاؔنی سا شاعر ہوں

13
ایندھن ہے تری ادا جلانے کے لئے
کیوں کر چلے آتے ہو ستانے کے لئے
اپنی لذت میں بہکا نے کے لئے
اپنی ادا کا جام پلا نے کے لئے

20
زنجیر کہاں رشتوں میں اب مرے یار
کیا کرتب ہے اپنا مطلب مرے یار
لمحوں میں پھوٹ ڈالے ان رشتوں کو یار
جھولے تھے اک گود میں وہ سب مرے یار

21
مستی تو زرا سی دیکھئے ان کی آپ
شرمیلی سی تھوڑی نخریلی بھی آپ
چلمن سے لگے نظریں چرائی ہم سے
یہ کیسا پردہ ہے بتائیے جی آپ

29
یہ زندگی گزرے اتنی الفتوں میں
بے پروا ہو کر تیری مستیوں میں
ملئے نہ ابھی ہم سے کچھ ہیں بے خبر
ہم قید ہوئے ہیں ان کی چاہتوں میں

22
اس عید کی عیدی کو ہم ترسے صنم
ہم دیکھتے تھے آپ کی رہ چلتے صنم
ہمرے عیدی کی ہو جھلک آپ صنم
اور آپ نہ آئے فانی سے ملنے صنم


48