اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ۔ آپ سب حضرات کی خدمت میں ناچیز کی طرف چند اشعار پیش ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ اس غزل کا آپ صاحبان تنقیدی جائزہ کریں براہِ کرم۔


اگرچہ رات گذری ہے تو پھر یہ رات سی کیا ہے

سحر تیری جبیں پر نقش داغِ تیرگی کیا ہے


جلا ڈالیں نہ اپنا گھر تو اے آتش کریں کیا ہم

ہماری ظلمتوں میں اور وجہِ روشنی کیا ہے


اُسے کہتے تو ہیں شبنم گلستاں میں سبھی لیکن

یہ گُل ہی جانتا ہے اُس کے داماں کی نمی کیا ہے


بجھی نا پیاس حالانکہ پلایا تھا لہو تجھ کو

دلِ مضطر بتا مجھ کو کہ تیری تشنگی کیا ہے


کہ گذریں گے یہ دن مشکل یہی اک آس ہے تم سے

وگرنہ زندگی مجھ کو ملالِ خودکشی کیا ہے


سہارے کی ضرورت ہر گھڑی محسوس ہوتی ہے

سواۓ آدمی کے اِس جہاں میں آدمی کیا ہے


بدل پائی نہ انساں کی اگر حالت تو اے شاعر

یہ سب لوح و قلم تیرے یہ تیری شاعری کیا ہے


اُسے دیکھا نہیں میں نے عمل پیرا کبھی واعظ

جسے دیکھا ہے بتلاتے کہ نیکی کیا بدی کیا ہے


ہے اب آئینہ بھی منکر ترے اس چہرے کا غازی

کہ صورت کیا تھی پہلے اور اب صورت بنی کیا ہے

عرفان غازی


0
4
237
عرفان صاحب - یہ سب کچھ ایک ہی لائن میں گڈ مڈ لکھا ہے - پڑھا ہی نہیں جاتا

غزل پر کلک کریں تو سب اپنی ترتیب سے کھلے گا۔ شکریہ۔

0
عرفان صاحب - یہ میرا تجزیہ ہے ہو سکتا ہے آپ اتفاق نہ کریں اور اسکے لیے پیشگی معذرت
آپ کی یہ غزل اچھی کوشش ہے - زبان کی کوئ ایسی غلطی بھی نظر نہیں آتی اس میں خیال بھی ملتا ہے
مگر میری دانست میں آپ اپنے خیالوں کو نبھا نہیں سکے ہیں۔

اگرچہ رات گذری ہے تو پھر یہ رات سی کیا ہے
سحر تیری جبیں پر نقش داغِ تیرگی کیا ہے
-- اگرچہ رات گذری ہے تو پھر یہ رات سی کیا ہے- دیکیۓ آپ کہ رہے ہیں کہ رات گزری ہے تو پھر آگے یہ کہنا تو پھر یہ رات سی کیا ہے گرامر کے حساب سے میچ نہیں کرتا اگر آپ کہتے
گذر چکی ہے میری رات تو پھر یہ رات سی کیا ہے- گزر چکی اس میں مفہوم زیادہ واضح ہے -
دوسرے میرے حساب سے نقش دوسرے مصرعے میں نہیں ہونا چاہئۓ کیونکہ پھر یہ تو جواب ہوگیا
" کیا ہے " کا کہ نقش ہے۔

جلا ڈالیں نہ اپنا گھر تو اے آتش کریں کیا ہم
ہماری ظلمتوں میں اور وجہِ روشنی کیا ہے
-- یہ اچھا شعر ہے مگر اس میں آتش سے مخاطب ہونا مرے حساب سے غلط ہے- آتش کو کوئ مطلب نہیں ہوتا کسی کے جلنے سے- یہاں دوست قسم کا لفظ زیادہ مناسب ہے

اُسے کہتے تو ہیں شبنم گلستاں میں سبھی لیکن
یہ گُل ہی جانتا ہے اُس کے داماں کی نمی کیا ہے
-- اچھا شعر ہے اس میں "دامن میں" کر دیں تو زیادہ اچھا ہوگا
بجھی نا پیاس حالانکہ پلایا تھا لہو تجھ کو
دلِ مضطر بتا مجھ کو کہ تیری تشنگی کیا ہے
-- نا اس میں غلط ہے کیوں کہ نا مرکبات بنانے کے لیئے استعمال ہوتا ہے جیسے ناواقف ناآشنا یہاں نہ آۓ گا اور اس کے لیے آپکو وزن صحیح کرنا ہوگا
-- اتنا کافی ہے لوگ مجھ سے ناراض ہو جاتے ہیں تو بس اتنا ہی لکھتا ہوں مجھے نہیں پتہ آپکا ردعمل کیا ہوگا

آپ کا بہت بہت شکریہ۔ میں نے اس سے بھی کڑی تنقید کی امید کی تھی۔ آپ نے جو جو مشورے دیے ہیں ان پر میں ضرور غور کروں گا۔ جس نے سیکھنے سے انکار کیا اس نے بلندی سے انکار کر دیا۔ لہذا آپ کا بہت مشکور ہوں آپ کی قیمتی راۓ اور وقت کے لیے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ وسلام۔

0