Circle Image

Irfan Fayaz Gaazi

@IrfanGaazi

اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ۔ آپ سب حضرات کی خدمت میں ناچیز کی طرف چند اشعار پیش ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ اس غزل کا آپ صاحبان تنقیدی جائزہ کریں براہِ کرم۔اگرچہ رات گذری ہے تو پھر یہ رات سی کیا ہےسحر تیری جبیں پر نقش داغِ تیرگی کیا ہےجلا ڈالیں نہ اپنا گھر تو اے آتش کریں کیا ہمہماری ظلمتوں میں اور وجہِ روشنی کیا ہےاُسے کہتے تو ہیں شبنم گلستاں میں سبھی لیکنیہ گُل ہی جانتا ہے اُس کے داماں کی نمی کیا ہےبجھی نا پیاس حالانکہ پلایا تھا لہو تجھ کودلِ مضطر بتا مجھ کو کہ تیری تشنگی کیا ہےکہ گذریں گے یہ دن مشکل یہی اک آس ہے تم سےوگرنہ زندگی مجھ کو ملالِ خودکشی کیا ہےسہارے کی ضرورت ہر گھڑی محسوس ہوتی ہےسواۓ آدمی کے اِس جہاں میں آدمی کیا ہےبدل پائی نہ انساں کی اگر حالت تو اے شاعریہ سب لوح و قلم تیرے یہ تیری شاعری کیا ہےاُسے دیکھا نہیں میں نے عمل پیرا کبھی واعظجسے دیکھا ہے بتلاتے کہ نیکی کیا بدی کیا ہےہے اب آئینہ بھی منکر ترے اس چہرے کا غازیکہ صورت کیا تھی پہلے اور اب صورت بنی کیا ہےعرفان غازی

0
4
208
اگرچہ رات گذری ہے تو پھر یہ رات سی کیا ہے
سحر تیری جبیں پر نقش داغِ تیرگی کیا ہے
جلا ڈالیں نہ اپنا گھر تو اے آتش کریں کیا ہم
ہماری ظلمتوں میں اور وجہِ روشنی کیا ہے
اُسے کہتے تو ہیں شبنم گلستاں میں سبھی لیکن
یہ گُل ہی جانتا ہے اُس کے داماں کی نمی کیا ہے

0
83