ایک دن مثلِ پتنگِ کاغذی
لے کے دل سر رشتۂ آزادگی
خود بخود کچھ ہم سے کنیانے لگا
اس قدر بگڑا کے سر کھانے لگا
میں کہا اے دل ہوائے دلبراں
بس کہ تیرے حق میں کہتی ہے زباں

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
38
کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا
کیا درد ہے جز دل کوئی محرم نہیں جس کا
کیا داغ ہے جلنا کوئی دم کم نہیں جس کا
کیا غم ہے کہ آخر کبھی ماتم نہیں جس کا
کس داغ میں صدمہ ہے فراقِ تن و جاں کا
وہ داغ ضعیفی میں ہے، فرزندِ جواں کا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


1
164
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن


142
شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے
زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا ہے
فراتِ وقتِ رواں! دیکھ سوئے مقتل دیکھ
جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہے
زمین کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت
ہرا بھرا ہے جو اب بھی شجر حسینؑ کا ہے

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


1
137
مجھ کو محصور کیا ہے مری آگاہی نے
میں نہ آفاق کا پابند، نہ دیواروں کا
میں نہ شبنم کا پرستار، نہ انگاروں کا
اہلِ ایقان کا حامی نہ گنہگاروں کا
نہ خلاؤں کا طلب گار، نہ سیّاروں کا
☆☆☆

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
85
یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شبِ سست موج کا ساحل

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


61
(ہسپانیہ کی سرزمین بالخصوص قرطبہ میں لکھی گئی)
سلسلۂ روز و شب نقش گرِ حادثات
سلسلۂ روز و شب اصل حیات و ممات
سلسلۂ روز و شب تار حریرِ دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
سلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاں

مفتَعِلن فاعِلن مفتَعِلن فاعِلن


0
76
الٰہی خلقتِ آدم کے ہیجانی ارادے میں
کروروں ہونکتے فتنے ہیں غلطاں ہم نہ کہتے تھے
تری تسبیح کو حاضر ہے لشکر خانہ زادوں کا
یہ آدم ہے بڑا باغی نرا طاغی کھرا کھوٹا
ڈبو دے گا لہو میں دہر کو یہ خاک کا پتلا
بشر پیغمبرِ شر ہے اِسے پیدا نہ کر مولیٰ

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


117
یہ گنبدِ مینائی یہ عالمِ ِتنہائی
مجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی
بھٹکا ہوا راہی میں بھٹکا ہوا راہی تو
منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی
خالی ہے کلیموں سے یہ کوہ و کمر ورنہ
تو شعلۂ سینائی میں شعلۂ سینائی

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


0
28
پھر کوئی آیا دلِ زار نہیں کوئی نہیں
راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سوگئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار
اجنبی خاک نے دھندلا دیے قدموں کے سراغ

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
16
کیا شعلۂ طرّار وہ اللہُ غنی ہے
کیا لرزشِ تابندگیِ سیم تنی ہے
رشکِ مہِ کنعاں ہے غزالِ خُتنی ہے
افشاں ہے کہ آمادگیِ دُر شکنی ہے
تاروں میں بپا غلغلۂ سینہ زنی ہے
کیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
23
پھر چرخ زن ہے شیب پہ دورِ جواں کی یاد
کاخِ حرم پہ چھائی ہے کوئے بتاں کی یاد
بھیگی تھیں زمزموں کی مسیں جس کی چھاؤں میں
رہ رہ کر آ رہی ہے پھر اُس گلستاں کی یاد
پھر آئی ہے شباب کی رم جھم لیے ہوئے
شب ہائے ابر و باد کے خوابِ گراں کی یاد

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
21
آ ہم نشیں نمازِ صبوحی ادا کریں
خوشبوئے عود میں درِ میخانہ وا کریں
ہاں اٹھ کہ مُہرِ شیشۂ گُل رنگ توڑ کر
انسانیت کو دامِ خرد سے رہا کریں
باقی جو بچ رہا ہے کچھ ایمان خیر سے
اُس کو بھی آج پائے صنم پر فدا کریں

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
24
کل فکر یہ تھی کشورِ اسرار کہاں ہے​
اب ڈھونڈ رہا ہوں کہ درِ یار کہاں ہے​
پھر حُسن کے بازار میں بکنے کو چلا ہوں​
اے جنسِ تدبر کے خریدار کہاں ہے​
​پھر روگ لگایا ہے مرے دل کو کسی نے​
اے چارہ گرِ خاطرِ بیمار کہاں ہے​

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
57
بیدار تجربوں کو سلا کر چلی گئی
ہونٹوں سے وہ شراب پلا کر چلی گئی
خس خانۂ دماغ سے اٹھنے لگا دھواں
اِس طرح دل میں آگ لگا کر چلی گئی
میرے کتاب خانۂ ہفتاد سالہ کو
موجوں میں جو در آئے تو قلزم کراہ اٹھیں

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
39
جہاں میں دانش و بینش کی ہے کس درجہ ارزانی
کوئی شے چھپ نہیں سکتی کہ یہ عالم ہے نورانی
کوئی دیکھے تو ہے باریک فطرت کا حجاب اتنا
نمایاں ہیں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہانی
یہ دنیا دعوتِ دیدار ہے فرزند آدم کو
کہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوق عریانی

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
28
دیارِ غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہو
شدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پر
کچھ اتفاق ہو ایسا کہ ایک شام کہیں
کسی اِک ایسی جگہ سے ہو یوں ہی میرا گزر
جہاں ہجومِ گریزاں میں تم نظر آ جاؤ
اور ایک ایک کو حیرت سے دیکھتا رہ جائے!

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
21
کون سا اسٹیشن ہے؟
’ڈاسنہ ہے صاحب جی
آپ کو اُترنا ہے؟‘
’جی نہیں، نہیں ‘ لیکن
ڈاسنہ تو تھا ہی وہ
میرے ساتھ قیصر تھی

فاعِلن مفاعیلن


0
73
تمھارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے
اسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ
غنیمِ نور کا حملہ کہو اندھیروں پر
دیارِ درد میں آمد کہو مسیحا کی
رواں دواں ہوئے خوشبو کے قافلے ہر سو
خلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائی

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
49
شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواں
جو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا
راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر
جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا
اشک بن کر مری آنکھوں سے کبھی ٹپکا ہے
جو کبھی خونِ جگر بن کے مژہ پر آیا

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


57
خبر نہیں تم کہاں ہو یارو
ہماری اُفتادِ روز و شب کی
تمہیں خبر مِل سکی کہ تم بھی
رہینِ دستِ خزاں ہو یارو
دِنوں میں تفرِیق مِٹ چُکی ہے
کہ وقت سے خُوش گُماں ہو یارو

مَفاعلاتن مَفاعلاتن


0
55
دیکھنے کی تو کسے تاب ہے لیکن اب تک
جب بھی اس راہ سے گزرو تو کسی دکھ کی کسک
ٹوکتی ہے کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی
اور اس صحن میں ہر سو یونہی پہلے کی طرح
فرشِ نومیدیِ دیدار بچھا ہے اب بھی
اور کہیں یاد کسی دل زدہ بچے کی طرح

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
15
اس ہوس میں کہ پکارے جرسِ گل کی صدا
دشت و صحرا میں صبا پھرتی ہے یوں آوارہ
جس طرح پھرتے ہیں ہم اہلِ جنوں آوارہ
ہم پہ وارفتگیِ ہوش کی تہمت نہ دھرو
ہم کہ رمازِ رموزِ غمِ پنہانی ہیں
اپنی گردن پہ بھی ہے رشتہ فگن خاطرِ دوست

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
18
آج کے دن نہ پوچھو مرے دوستو
دور کتنے ہیں خوشیاں منانے کے دن
کھُل کے ہنسنے کے دن گیت گانے کے دن
پیار کرنے کے دن دل لگانے کے دن
آج کے دن نہ پوچھو مرے دوستو
زخم کتنے ابھی بختِ بسمل میں ہیں

فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن


0
24
کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ
نہ دست و ناخنِ قاتل نہ آستیں پہ نشاں
نہ سرخیِ لبِ خنجر نہ رنگِ نوکِ سناں
نہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغ
کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ
نہ صرف خدمتِ شاہاں کہ خوں بہا دیتے

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
20
پیوست ہے جو دل میں، وہ تیر کھینچتا ہوں​
اک ریل کے سفر کی تصویر کھینچتا ہوں​
​گاڑی میں گنگناتا مسرور جا رہا تھا​
اجمیر کی طرف سے جے پور جا رہا تھا​
​تیزی سے جنگلوں میں یوں ریل جا رہی تھی​
لیلیٰ ستار اپنا گویا بجا رہی تھی​

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


0
34
وہ در کھلا میرے غمکدے کا​
وہ آ گئے میرے ملنے والے​
وہ آگئی شام، اپنی راہوں
میں فرشِ افسردگی بچھانے​
وہ آگئی رات چاند تاروں
کو اپنی آزردگی سنانے​

مَفاعلاتن مَفاعلاتن


0
17
آج پھر درد و غم کے دھاگے میں​
ہم پرو کر ترے خیال کے پھول​
ترکِ الفت کے دشت سے چن کر​
آشنائی کے ماہ و سال کے پھول​
​تیری دہلیز پر سجا آئے​
پھر تری یاد پر چڑھا آئے​

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
18
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام
دھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے رات
اور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی
اور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہاتھ
ان کا آنچل ہے، کہ رخسار، کہ پیراہن ہے
کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
27
آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال
مد بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی
دلنشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی
حرفِ نفرت کوئی، شمشیرِ غضب ہو جیسے
تا ابد شہرِ ستم جس سے تباہ ہو جائیں
اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
31
افق سے سحر مسکرانے لگی
مؤذن کی آواز آنے لگی
یہ آواز ہرچند فرسودہ ہے
جہاں سوز صدیوں سے آلودہ ہے
مگر اس کی ہر سانس میں متصل
دھڑکتا ہے اب تک محمد کا دل

فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعَل


0
44
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ
میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں
روح کو اس کی اسیرِ غمِ الفت نہ کروں
اُس کو رسوا نہ کروں، وقفِ مصیبت نہ کروں
سوچتا ہوں کہ ابھی رنج سے آزاد ہے وہ
واقفِ درد نہیں، خوگرِ آلام نہیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
17
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


48
شام کے پیچ و خم ستاروں سے
زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات
یوں صبا پاس سے گزرتی ہے
جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات
صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار
سرنگوں محو ہیں بنانے میں

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
114
کوئی دیتا ہے بہت دور سے آواز مجھے
چھپ کے بیٹھا ہے وہ شاید کسی سیّارے میں
نغمہ و نور کے اک سرمدی گہوارے میں
دے اجازت جو تری چشمِ فسوں ساز مجھے
اور ہو جائے محبت پرِ پرواز مجھے
اڑ کے پہنچوں میں وہاں روح کے طیّارے میں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
33
خوشی تو ہے آنے کی برسات کے
پئیں بادۂ ناب اور آم کھائیں
سر آغازِ موسم میں اندھے ہیں ہم
کہ دِلّی کو چھوڑیں، لوہارو کو جائیں
سِوا ناج کے جو ہے مطلوبِ جاں
نہ واں آم پائیں، نہ انگور پائیں

فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعَل


0
29
بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج
ہر سلحشور انگلستاں کا
گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا

فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلن


0
29
آئی اگر بلا تو جگر سے ٹلی نہیں
ایرا ہی دے کے ہم نے بچایا ہے کِشت کو

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
15
ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدم
جہان و اہلِ جہاں سے جہاں جہاں فریاد

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن


0
13
منظُور ہے گُزارشِ احوالِ واقعی
اپنا بیانِ حُسنِ طبیعت نہیں مجھے
سَو پُشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے
آزادہ رَو ہوں اور مِرا مسلک ہے صلحِ کُل
ہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
27
چرخ تک دھوم ہے، کس دھوم سے آیا سہرا
چاند کا دائرہ لے، زہرہ نے گایا سہرا
رشک سے لڑتی ہیں آپس میں اُلجھ کر لڑیاں
باندھنے کے لیے جب سر پہ اُٹھایا سہرا

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
22
سلام اسے کہ اگر بادشہ کہیں اُس کو
تو پھر کہیں کچھ اِس سے سوا کہیں اُس کو
نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستائش ہے
کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس کو
خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی؟
کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس کو

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


28
ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو
اے دجلۂ خوں! چشمِ ملائک سے رواں ہو
اے زمزمۂ قُم! لبِ عیسیٰ پہ فغاں ہو
اے ماتمیانِ شہِ مظلوم! کہاں ہو
بگڑی ہے بہت بات، بنائے نہیں بنتی
اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
22
گھستے گھستے پاؤں کی زنجیر آدھی رہ گئی
مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی
سب ہی پڑھتا کاش، کیوں تکبیر آدھی رہ گئی
"کھنچ کے، قاتل! جب تری شمشیر آدھی رہ گئی
غم سے جانِ عاشقِ دل گیر آدھی رہ گئی"
بیٹھ رہتا لے کے چشمِ پُر نم اس کے روبروُ

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
13
پھر اس انداز سے بہار آئی
کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
دیکھو اے ساکنانِ خطۂ خاک
اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
رو کشِ سطحِ چرخِ مینائی

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
16
اے مرتضیٰ، مدینۂ علمِ خدا کے باب!
اسرارِ حق ہیں، تیری نگاہوں پہ بے نقاب
ہے تیری چشم فیض سے اسلام کامیاب
ہر سانس ہے مکارم اخلاق کا شباب
نقشِ سجود میں، وہ ترے سوز و ساز ہے
فرشِ حرم کو جس کی تجلی پہ ناز ہے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
27
بنا ہے کون، الٰہی، یہ کارواں سالار؟
کہ اہلِ قافلہ مبہوت ہیں، دِرا خاموش
یہ کس کے رعب نے گُدّی سے کھینچ لی ہے زباں؟
کہ باوقار ہیں لب بستہ، بے نوا خاموش
لدا ہوا ہے سروں پر مہیب سناٹا
ہوا کے پاؤں میں زنجیر ہے، فضا خاموش

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


73
آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی
رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی
میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی
میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی
میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی
زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


65
شیریں زبانیوں کے دریچے اُجڑ گئے
وہ لُطفِ حرف و لذّتِ حسنِ بیاں کہاں
پیچھے گُزر گئی ہے سِتاروں کی روشنی
یارو ، بسا رہے ہو نئی بستیاں کہاں
اے منزلِ ابد کے چراغو ، جواب دو
آگے اب اور ہو گا مرا کارواں کہاں

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


104
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمھیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی
مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
24