| ندوہ کی فَضاء سے خُلدِ بریں کی اورْ چلے مولانا سعید
|
| یہ علم و ادب اور دینی شَغَفْ سب چھوڑ چلے مولانا سعید
|
| ہر سَمْت ہی بس ہے آہ و فُغاں، ڈوبا ہے غمِ فُرقت میں جہاں
|
| ہر دل میں ہے اُن کا دردِ نہاں ، اشکوں سے بھری ہر آنکھ یہاں
|
| دامن کو یوں اپنے بزم جہاں، سے موڑ چلے مولانا سعید
|
| ندوہ کی فَضاء سے خُلدِ بریں کی اورْ چلے مولانا سعید
|
|
|