Circle Image

Mufti Munawwar Bhatabari

@muftimunawwarbhatabari

ہر اک فَریبِ نفس کا انکار کیجیے
دل کو خدا کی یاد سے سَرشار کیجیے
دنیا کی بھیڑ میں کبھی بھولیں نہ آخرت
عُقبیٰ کا توشہ آج ہی تیار کیجیے
اِن فانی لَذَّتوں کو پَسِ پُشت ڈال کر
سجدوں میں گر کے رب سے ہی بس پیار کیجیے

0
24
مری زندگی میں خوشی بھی ہے، مری زندگی میں الم بھی ہے
اِسی بے بسی میں گھری ہے جاں، یہی زندگی کا ستم بھی ہے
کبھی صبحِ نَو کی کرن ملی ، کبھی شامِ غم کی چُبھن ہوئی
کبھی دل میں زندہ اُمنگ رہی، ابھی دل میں دردِ بَہَم بھی ہے
کبھی آنکھ میں وہ سما گئے، کبھی حال دل بھی سنا گئے
کبھی درد دے کے رلا گئے، مرے دل پہ سب یہ رقم بھی ہے

16
علم کا حسیں گلشن، ہے اشاعت القرآن
فکر و فن کا اک خرمن، ہے اشاعت القرآن
درسِ دیں کی محفل ہے، ذکرِ حق کی منزل ہے
کیا ہی خوب اور احسن ، ہے اشاعت القرآن
سنتوں کا مظہر ہے، علم کا سمندر ہے
اہلِ علم کا مسکن، ہے اشاعت القرآن

12
میں نبی کی نعت لکھوں پڑھوں، یہی مشغلہ شب و روز ہو
میرے دل میں الفت مصطفٰی کا یہ سلسلہ شب و روز ہو
میرے رنج و غم کی یہی دوا، میرے ہر الم کی یہی شفا
میرے دل میں نعتِ رسول کا یہی ولولہ شب و روز ہو
وہ خیال گنبدِ سبز کا، جو نگاہِ شوق میں ہے بسا
مجھے دید روضۂ پاک کا، یہی حوصلہ شب و روز ہو

0
4
مری ماں دعاؤں کی اک کہکشاں ہے
مری ماں تو مجھ پے بڑی مہرباں ہے
وہ ہنس دے تو گھر بھر میں ہر سو چراغاں
اسی مسکراہٹ سے روشن مکاں ہے
مری ماں کی چادر حیا کی امانت
مری ماں کا آنچل بڑا سائباں ہے

4
ندوہ کی فَضاء سے خُلدِ بریں کی اورْ چلے مولانا سعید
یہ علم و ادب اور دینی شَغَفْ سب چھوڑ چلے مولانا سعید
ہر سَمْت ہی بس ہے آہ و فُغاں، ڈوبا ہے غمِ فُرقت میں جہاں
ہر دل میں ہے اُن کا دردِ نہاں ، اشکوں سے بھری ہر آنکھ یہاں
دامن کو یوں اپنے بزم جہاں، سے موڑ چلے مولانا سعید
ندوہ کی فَضاء سے خُلدِ بریں کی اورْ چلے مولانا سعید

0
13
دل توڑنے والے تو، بے حد ہیں زمانے میں
غمخوار نہیں ملتا، رشتوں کے خزانے میں
میٹھی سی زباں والے، سب زہر لیے اندر
ہنس ہنس کے ہیں سینے پر، خنجر ہی چلانے میں
باتیں تو صداقت کی، دعوے تو امانت کے
لمحے میں بدل جاتے ، سچ کو ہی دبانے میں

41
علم و ادب کے پیکر ہیں شیخ مفتی طاہر
فہم و خِرَد کے گوہر ہیں شیخ مفتی طاہر
لہجے میں نرمی ایسی، جیسے نسیم گلشن
اخلاق کے وہ مظہر ہیں شیخ مفتی طاہر
مسند پہ جب وہ بیٹھیں ، انوار علم بکھرے
علموں کے ایسے مصدر، ہیں شیخ مفتی طاہر

0
17
پہلے آدابِ عشق و وفا سیکھ لوں
پھر ثنائے حبیبِ خداﷺ سیکھ لوں
مَدحِ سرکار ﷺ میں لب کشائی نہیں
پہلے آدابِ قول و نَوا سیکھ لوں
خود کو آتا نہیں فَنِّ مِدحَت ابھی
پہلے اِس فن کی ہر اِبْتِدا سیکھ لوں

0
14
ہاں وہی ہاں وہی میرا استاد ہے
میرے علم و ہنر کی جو بنیاد ہے
میری ہر سانس پر جس کا سایہ ہے آج
جس کی محنت سے گلشن یہ آباد ہے
جس کی باتوں میں حکمت کا دریا بہے
جو سلیقے قرینے میں شہزاد ہے

42
خدا کی رِضا میں ہی دل شاد رکھنا
خودی کو زمانے سے آزاد رکھنا
فقیری میں بھی سر جھکانا نہیں ہے
کہ دل میں خودی کو ہی شہزاد رکھنا
بگڑ جائے دنیا تَو پرواہ نہ کرنا
لہو میں وفا کو ہی فولاد رکھنا

47
اے میرے ہمدم سنبھل کے چلنا، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے
ہمیشہ اپنا خیال رکھنا، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے
یہ مسکراتے ہیں جتنے چہرے، دلوں میں ان کے وفا نہیں ہے
فریب کھاکے بہک نہ جانا ، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے
کسی کو اپنا سمجھ کے یہ غم، زباں پے ہرگز کبھی نہ لانا
کہ راز کو راز رہنے دینا ، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے

51
ماں تو الفت کا حسیں عنوان ہے
نہ کرے جو قدر وہ نادان ہے
اُف بھی مت کہنا، وَّلَا تَنْهَرْهُمَا
رب کا کتنا سخت یہ اعلان ہے
خود سکھایا رب نے رَبِّ ارْحَمْهُمَا
کیسی عظمت اور کیا ہی شان ہے

46
ذروں سے فلک تک وہ سلطان محمد ﷺ ہے
دونوں ہی جہاں میں تو، فیضانِ محمد ﷺ ہے
ہیں خلقِ بشر وہ بھی، ظاہر تو مگر دیکھو
خلقت سے جدا ہر اک، کیا شانِ محمد ﷺ ہے
روشن ہے وہ چہرہ کہ تابانی قمر بھولے
ہر نور یہی کہتا، پہچانِ محمد ﷺ ہے

50
سیرتِ خیر الوری قرآن ہے
مدحِ محبوبِ خدا ایمان ہے
آپ ہیں دونوں جہاں کے تاجدار
عرش سے یہ فرش تک اعلان ہے
آپ کا ہر اک عمل ہے اک کرم
خلق پر کتنا بڑا احسان ہے

0
15
قرآں کفایت اللہ نے اب شروع کیا ہے
ہے شکر رب کا دل نے اس سے رجوع کیا ہے
وہ پیر کا بھی دن تو کتنا حسین دن ہے
رب کے کلام کی دل نے جستجو کیا ہے
اللہْ حافظِ قرآں تو بنا دے اس کو
تیرے کلام سے خود کو سرخرو کیا ہے

0
15
سرکارِ دو جہاں کا، دربار ہے نرالا
اقوال ہیں نرالے، کردار ہے نرالا
سیرت مرے نبی کی، قرآن ہے سراپا
لاریب میرے رب کا، اظہار ہے نرالا
زلفوں کی وہ تجلی، رخسار کی وہ رونق
رب کی قسم وہ حسنِ سرکار ہے نرالا

0
46
فتنوں کا دور دیکھو کیسا یہ آ رہا ہے
انساں کو راہِ حق سے کتنا ہٹا رہا ہے
بازار میں حیا کا، اب ذکر بھی نہیں ہے
بے پردگی کا عالم ہر گھر کو کھا رہا ہے
فیشن کا بھی جنوں ایسا طاری ہو گیا ہے
جو عصمتوں کے آنچل کو ہی گرا رہا ہے

0
13
دارِ فانی چھوڑ کر سلمان رخصت ہو گئے
ماسٹر اصحاب کے ارمان رخصت ہو گئے
باپ ماں بھائی بہن اور سب کو نالاں چھوڑ کر
زندگی اور علم و فن کے سارے میداں چھوڑ کر
آہْ پیارے حافظِ قرآن رخصت ہو گئے
دارِ فانی چھوڑ کر سلمان رخصت ہو گئے

12
میں غلط ہوں تو غلط ہی مجھ کو رہنے دیجیے
آپ کو ہی متقی اور اچھے کہنے دیجیے
کیوں دلاسہ دے رہے ہیں ڈھاکے یہ ظلم و ستم
آنسوؤں کو میری آنکھوں سے ہی بہنے دیجیے
آئینہ میں نے دکھایا تو برا کیوں لگ گیا؟
آپ اپنا اصلی چہرہ سب کو پڑھنے دیجیے

33
کرکے غمگین اک رہنما چل دیے
مولانا عبدالحنان شاہ چل دیے
ماہرِ علم و فن ،باغبانِ چمن
علم و حکمت کا روشن جہاں چل دیے
کرکے غمگین اک رہنما چل دیے
مولانا عبدالحنان شاہ چل دیے

0
22
علم و عمل کے پیکر، ہیں پیارے مفتی ہارون
اک باکمال رہبر، ہیں پیارے مفتی ہارون
تقوی سے دل مزین، کردار ہے مطہر
ہر قول و فعل جن کا، سنت سے ہے معطر
اخلاص کے سمندر، ہیں پیارے مفتی ہارون
علم و عمل کے پیکر، ہیں پیارے مفتی ہارون

53
علم و ادب کا ہر فن ،سیراب آپ سے ہے
پیارے ادیب صاحب، ہر باب آپ سے ہے
گلشن کے باغباں ہیں، ہر فن کے آسماں ہیں
اسلاف کے نشاں ہیں، رفعت کے اک جہاں ہیں
فکر و ہنر کا گلشن، شاداب آپ سے ہے
علم و ادب کا ہر فن، سیراب آپ سے ہے

0
20
یہ ستمگروں کا ہے مے کدہ، میں بتاؤں کس کا ستم تجھے؟
یہ تو ظالموں کا ہے مے کدہ، میں سناؤں کتنا الم تجھے؟
میری دل خراش ہے داستاں، جو گھڑی گھڑی کی ہے امتحاں
کبھی سن کے رو دیا بے زباں، میں سناؤں کتنا یہ غم تجھے؟
یہاں باطلوں کا مکان ہے، یہاں فاسدوں کا زمان ہے
یہاں ظالموں کی کمان ہے، میں بتاؤں کس کا علم تجھے؟

107
جو سبھی دلوں کو رلا گیے، وہی پیرِ پیر تھے ذوالفقار
کہ جو جامِ تقوی پلا گیے، وہی پیارے میر تھے ذوالفقار
جو ملی تھی دورئ دیں جہاں، وہیں شمعِ علم جلا گیے
جو تھے دور رب سے رسول سے ، انہیں رب، رسول بتا گیے
کیا ہی دل پذیر تھی گفتگو، وہ دلوں میں جس کو بٹھا گیے
وہ خدا کی باتیں سنا گیے، وہ زُبانِ شٖیْر تھے ذوالفقار

101
بلغ العلیٰ بکمالہٖ ۔ کشف الدجیٰ بجمالہٖ
حسنت جمیعُ خصالہٖ ۔ صلوا علیہ و اٰ لہٖ
میرے مصطفیٰ کے کمال کی ،میرے مجتبٰی کے جمال کی
میرے مرتضی کے خصال کی، نہ مثل کوئی، نہ مثال ہی
وہ کتابِ حق لیے آگیے ، جو جہاں میں سب کو سنا گیے
ابدی نظام بتا گیے ، ہیں سراپا صدقِ مقال ہی

170
ماہرِ فن تجوید قاری رضی
علم و فن کی ہیں تمہید قاری رضی
شانِ اجداد کے اک نشاں آپ ہیں
علمِ تجوید کے باغباں آپ ہیں
طالبوں کے لیے اک جہاں آپ ہیں
نسلِ نو کی ہیں امید قاری رضی

140
انصاف ہمیں اب کیسے ملے؟ منصف ہی یہاں جب قاتل ہے
امید بھلا اب کیسے رہے ؟ رہبر ہی یہاں جب باطل ہے
ووٹوں کے بِھکاری در پے کھڑے،اِیقان سبھی کا بھانپیں گے
نوٹوں کے پُجاری در پے کھڑے، ایمان سبھی کا جانچیں گے
ہاں ووٹ ذرا سنبھل کر دیں، اکثر ہی یہاں تو قاتل ہے
انصاف ہمیں اب کیسے ملے؟ منصف ہی یہاں جب قاتل ہے

59
قہر خدا کا جو آگیا ہے وہ دیکھو امریکہ جل رہا ہے
عذابِ رب میں جو مبتلا ہے وہ دیکھو امریکہ جل رہا ہے
جہاں میں چیلنج کر رہا تھا ، بڑا ستم گر بنا ہوا تھا
خودی کو بےبس سمجھ رہا ہے وہ دیکھو امریکہ جل رہا ہے
عذابِ رب سے نہ ڈر رہا تھا،کبھی کسی سے نہ ڈر رہا تھا
قہر جو قہار کا بپا ہے وہ دیکھو امریکہ جل رہا ہے

0
1
77
الوداع اے مدرسہ اسلامیہ اب الوداع
الوداع اے علم و فن کا میکدہ اب الوداع
رہتے ہیں سب ہی یہاں پے پاسبانِ علم و فن
ہوتے ہیں سیراب ہردم تشنگانِ علم و فن
بنتے ہیں فضلِ خدا سے ترجمانِ علم و فن
اے خدا محفوظ رکھ یہ گُلْسِتانِ علم و فن

445
یہ نائسی انار کلی کی ہیں اک کلی
اب احتشام کو ہو مبارک یہ زندگی
محفل سجی ہے شادی مبارک کی دل نشیں
پھولوں سے ہر گلی ہے سجی میرے ہمنشیں
یہی دعا ہے رب سے ہو خوش حال زندگی
یہ نائسی انار کلی کی ہیں اک کلی

85
انصاف ہمیں اب کیسے ملے؟ منصف ہی یہاں جب قاتل ہے۔
امیدِ بھلا اب کیسے رہے؟ رہبر ہی یہاں جب قاتل ہے۔
لگتا ہی نہیں حاکم ہے کوئی، جاہل کو صدارت جب سے ملی
معصوم کی کشتی پھنسنے لگی ، مجرم کو سزا تو مل نہ سکی
کشتی بھی بھنور میں کیوں نہ پھنسے؟ کرسی پے یہاں جب قاتل ہے ۔
انصاف ہمیں اب کیسے ملے؟ منصف ہی یہاں جب قاتل ہے۔

163
انصاف ہمیں اب کیسے ملے؟ منصف ہی یہاں جب قاتل ہے ۔
امیدِ بھلا اب کیسے رہے؟ رہبر ہی یہاں جب قاتل ہے ۔
رو داد سنا جو رونے لگا، ہم زخم سدا سہہ لیتے ہیں
امید وفا پر دھوکہ ملا، ہم پھر بھی وفا ہی کرتے ہیں
امیدِ وفا اب کیسے رہے؟دھوکہ ہی وفا میں داخل ہے ۔
انصاف ہمیں اب کیسے ملے؟ منصف ہی یہاں جب قاتل ہے ۔

329
رہبر و رہنما جامعہ للبنات
علم کا مے کدہ جامعہ للبنات
فکر آزاد اک لےکے آئے یہاں
علم و فن کا شجر پھر لگائے یہاں
محنتیں کوششیں آج ان کی عیاں
علم و فن کا شجر یہ پھلے بس یہاں

131
مفتی شاہد حسن ، مفتی شاہد حسن
ماہرِ علم و فن ، مفتی شاہد حسن
آپ شانِ بُزُرْگوں کے ہیں اک نشاں
تشنگی بجھتی ہے ، علم و فن کی جہاں
منبع علم و فن ، باغبانِ چمن
مفتی شاہد حسن ، مفتی شاہد حسن

72
مفتی ہدایت اللہ مفتی ہدایت اللہ
ہیں دینِ حق کے شیدا مفتی ہدایت اللہ
تفسیر ہے مثالی تقریر بھی مثالی
علموں کے ہیں وہ دریا مفتی ہدایت اللہ
مفتی ہدایت اللہ مفتی ہدایت اللہ
ہیں دینِ حق کے شیدامفتی ہدایت اللہ

59
دلنشیں پیارے لمحات یہ مبارک ہو
رخصتی یہ شان الرحمن کو مبارک ہو
کتنے دلربا ، دلکش دلنشیں نظارہ ہے
ہر طرف محبت اور دل لگی نظارہ ہے
دلکشی نظارے لمحات یہ مبارک ہو
دلنشیں پیارے لمحات یہ مبارک ہو

47
رہبر و رہنما ہے علی گڑھ اسِکول
علم کا مے کدہ ہے علی گڑھ اسکول
فکر نعمان اک لیکے آئے یہاں
علم و فن کا شجر پھر لگائے یہاں
پیکرِ علم و فن اب ہوں پیدا یہاں
بادلِ علم و فن تو برس اب یہاں

99
سب چلو راہِ حق سب چلواجتماع
ہوگا  لوچا  ندی  پاس اک  اجتماع
فکر اور محنتیں لے کے آئیں سبھی
کر کے توبہ خدا کو منائیں سبھی
نیکیاں مل کے اب تو کمائیں سبھی
بوڑھے بچے وہاں سب چلو اجتماع 

62
نیکی ہی کمائیں سب رمضان مبارک ہے
رمضان مبارک ہے رمضان مبارک ہے
ہروقت نمازی ہو ہر شب میں تراویح ہو
بے داری شبوں میں ہو روزہ بھی دنوں میں ہو
نیکی ہی کمائیں سب رمضان مبارک ہے
رمضان مبارک ہے رمضان مبارک ہے

53
سیتَا گاچھ کے مکھیا جی تو چل دیے عقبیٰ
چل دیے حبیب الرحمن جانبِ عُقبی
ہاں ملے فضلیت رمضان کی سبھی ان کو
اے خدا عطا کر جنتْ بَرِیں وہاں ان کو
ہے دعا منور کی،  بخششیں ملے ان کو
بے مثال اک مکھیا تھے جو چل دیے عقبیٰ

92
علم کے بحرِ رواں ہیں اک مربی باکمال
یعنی مولانا خلیلَ احمد مربی باکمال
حق و باطل کے لیے ہاں صاحبِ للکار ہیں
قوم و ملت کے لیے تَو صاحبِ افکار ہیں
دینِ حق کے ترجُماں ہیں اک مربی باکمال
علم کے بحرِ رواں ہیں اک مربی باکمال

81
عید کا دن آ رہا ہے ہو خوشی کا اِہتِمام
ساتھ اپنے لا رہا ہے وہ خوشی کا اک پیام
خوشنما رونق ہے ہر سو مسکراتا ہے چمن
عید تو دل سےمنائیں مل کے سب اہلِ وطن
ہر طرف سے لا رہا ہے بس محبت کا پیام
عید کا دن آ رہا ہے ہو خوشی کا اہتمام

45
انصاف منور کیسے ملےمنصف ہی یہاں جب قاتل ہے
امیدِ بھلا اب کیسے رہے رہبر ہی یہاں جب قاتل ہے
کندھوں پے جنازہ حق کا لیے بازار میں ہردم پھرتے ہیں
بس حق کو دبانے کے ہی لیے ہر گام وہ کوشاں رہتے ہیں
بس راج سدا وہ کرنے لگے خاموش یہاں جب عاقل ہے
انصاف منور کیسے ملے منصف ہی یہاں جب قاتل ہے

157
سنت ہے خلیل کی قربانی سنت یہ کریں کیسے وہ ادا
غزّہ کی زمیں میں ہے بربادی سنت یہ کریں کیسے وہ ادا
کہ خوں سے لُہان جسد ان کے ہر آن ستم وہ سہتے رہے
گھر بار اجڑ ہی گئے ان کے ہر گام و سحر وہ مٹتے رہے
فریاد نہیں کوئی سن پائے وہ آہ و فگاں ہی کرتے رہے
تمْہاری یہ کیسی مسلمانی اور کیسی ہے تمہاری یہ ادا  

161
ہو رہی ہیں رب کی تجھ پر رحمتیں ہی رحمتیں
کرتا جا طے اے منور منزلیں ہی منزلیں
رحمتیں ہی رحمتیں ہوں ان پے ہر شام و سحر
محنتیں جو کرتےتھے تجھ پے سدا شام و سحر
شفقتیں جوکرتے تھے تجھ پے سدا شام و سحر
اے خدا  کر نازل ان پر، رحمتیں ہی رحمتیں

89
بہت ہی پیارے بہت دل حسیں ہیں
بہت ہی پیارے بہت دل نشیں ہیں
ہیں منت نگر گو رومارا کے بابل
وہ تو دھان گڑہا کے حافظ ہیں بابل
صلاح و فلاح کے سدا وہ ہیں قابل
سنن کے ہیں حامل ظُلَم کے ہیں قاتل

77
مفتی جسیم اختر مفتی جسیم اختر
ہستی بڑی ہے رہبر مفتی جسیم اختر
ماہر ہیں علم و فن کے داعی ہیں دینِ حق کے
علموں کے ہیں وہ محور مفتی جسیم اختر
مفتی جسیم اختر مفتی جسیم اختر
ہستی بڑی ہے رہبر مفتی جسیم اختر

244