Circle Image

Muneeb choudhary

@MuneebPakistani1

کوئی کیسے کسی کا بنتا ہے
کوئی کیسے کسی کا ہوتا ہے
یہ گر ہمیں بھی بتلا دو ناں
کوئی کیسے کسی میں کھوتا ہے
کیا جو دکھتا ہے وہ ہوتا ہے
یا یہ ڈھونگی کا دھوکا ہے

0
10
وہ کسی ملک کی شہزادی لگتی
جہاں پر پرندے چہچہاتے
بلبل کو سر کا استاد مانا جاتا
شیر ہرن کا شکار نہیں کرتے
کمزور طاقت ور سے نہیں ڈرتے
وہاں لوگ آپس میں ملے بیٹھتے

0
15
نا بھولنا اور نا کرنا صورتوں پر تقسیم
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ

0
3
باندھ کے غم کی گٹھڑی کو
ہم پھینک آئے دریا میں
یہ تو تمہارا گھر نہیں ہے
تھوڑا نخرہ رکھو ادا میں
جان تو دینی پڑتی ہے
جی یہ بچتی نہیں وفا میں

0
4
یہ جو تمہیں شک لگتا ہے
ہر پہلو سے غلط لگتا ہے
باتیں ایسے تو نہیں بنتی
لاکھ کہو کہ فقط لگتا ہے
شوق سے لایا ہے ڈاکیا جس کو
تیرا لکھا ہوا خط لگتا ہے

0
15
یہ میرے تھل کی روایت ہے
کبھی گرمی کا شکوہ نہیں کرتے
بیٹا اک بات نا بھولنا تم
ہم مہمانوں سے نہیں لڑتے
تمہیں یہ کس نے کہہ دیا ہے
صحرا میں پھول نہیں کھلتے

14
آپ دنیا کے ہیں کیا
میں تو دنیا کا نہیں
کوئی مسئلہ ہے کیا
ایسا ویسا کچھ نہیں
موت کا خوف ہے کیا
تھوڑا سا اور کچھ نہیں

0
2
اے شکاری کیا تم تھوڑا ٹھہر سکتے ہو
ابھی تو فاختہ کے بچے بھی چھوٹے ہونگے

3
وہ سر پٹختے اپنے غرور کے ڈھلنے پر
یہ تو شکر کہ رخ سے نقاب اتر گیا تھا

0
5
میری تنہائی میری دشمن تو نا بن
تجھ سے بھی بچھڑا تو کہاں جاؤں گا

0
32
دیکھے جو بچے تو ہنس کر کہہ دیا بوڑھے نے
یہ زندگی اصل میں تو ان ہی کی ہے میاں

0
11
دشمن کے تیر میں بھی یوں دم نا تھا
گھائل تو بس اپنوں کے الفاظ نے کیا
وہ جو بھی پہن لے وہی چمکے لیکن
پاگل تو ہمیں بس ان کے انداز نے کیا
یہ تو تم اور میں کیا لگا رکھی ہے
رسوا ہمیں محفل میں گفتار نے کیا

0
29
اداسی ہم کو چمٹ رہی ہے
یہ بانہیں اپنی پھلا رہی ہے
خیال میرے پہ چھا گئی ہے
ٹھہر ٹھہر کے رلا رہی ہے
ادائیں اپنی دکھا رہی ہے
جو سرکشوں کو بلا رہی ہے

0
11
رہ رہ کر زندگی نے ستایا ہے
یہاں جو اپنا ہے وہ پرایا ہے

26
نا جانتے تھے ہم بچھڑنے کا غم
پھر جان گئے جب وہ بچھڑا ہم سے

25
خود کو ہی ہم نے بھری محفل میں رسوا کیا
غلطی سے جو ہم نے جدائی پہ شعر کہا

14
کیسے بھی کر کے یہ کیا ہم نے
خود ہی سے زندگی کو جیا ہم نے

0
12
عشق کے راستے سے، توبہ کرلی ہم نے
ایسے راستوں پر چلنا ممکن ہی نہیں
تم میری ہو میری تھی، اور میری رہنا
پھر سے ایسا کہنا تو مکمن ہی نہیں

0
13
دشمن جو میرے در کی جانب چلیں گے
ہم پھر سوچیں گے نہیں بس لڑ پڑیں گے
مشکل میں اگر یاروں نے ہی زخم دیے
ہم پاگل زخم لگتے ہی ہنس پڑیں گے ۔
کیوں خاک اڑا کر جی کو بہلا رہے ہو
کیا سوچتے ہو ہم ایسے گر پڑیں گے

0
1
54
دل و دماغ سے تیرے خیال صنم ہم ایسے نکالیں گے
مر مر کے جینے سے بہتر اک نیا رستہ بنا لیں گے ۔
ہر وہ چیز کریں گے جس سے تمہیں نفرت ٹھہری ہے
ہم آشفتہ سر ہیں، پھر الجھنوں سے یاری لگا لیں گے.
اور مقتل کی راہ پہ چلتے ہوئے جو بھی گھبرائے گا
ہم فوراً دوڑیں گے مدد کو اسے سینے میں چھپا لیں گے

3
46
ڈرتا نہیں حالات سے، یونہی مارا مارا پھرتا ہوں
کچھ ہیں! شکوے زندگی سے جو ہارا ہارا پھرتا ہوں

0
4
55
کل بڑے چپکے سے پھر ہم نے عجب چالاکی کی ہے
اپنے ہاتھوں سے تمہارے چہرے کی نقاشی کی ہے

0
8
غم زندگی تجھ سے لڑ کر مسکرا جاتا ہوں
نہیں بنتی تو بس اس سے بات نہیں بنتی!
میری منزل ہیں صحرا کے اونچے ٹیلے
وہ وادیوں کی شہزادی بات نہیں بنتی!
ہم یوں تو بہت سے محاذوں سے واپس آئے
اور تجھ سے بھی واپس جائیں،یہ بات نہیں بنتی!

0
52
ماضی یا حال پہ رونا آیا
تمہیں کس بات پہ رونا آیا
تمہیں معلوم کیا زندگی کا
آج اس بات پہ رونا آیا
رونے والوں کو برا بولتا تھا
آج ہر بات پہ رونا آیا ،

2
40