| دلِ مضطر سے مت پوچھو ہوا کیا حال فرقت میں
|
| بتائے گا یہی تم کو دھڑکتا ہے وہ ظلمت میں
|
| مگر ہے رنگ اگر جس میں ذرا سا بھی اِطاعَت کا
|
| تو روشن ہے لحد اُس کی جہاں اُس کا حقیقت میں
|
| یہی تو فرق ہے ہم میں یقیں ہے جو وسیلے پر
|
| ہمارے واسطے تو واسطہ اُن کا ہے حاجت میں
|
|
|