Circle Image

Baquer Abbas

@Baquer

اظہارِ مدعا

آیا نہیں اِس شان سے کوئی بھی مَسِیحا
نا پھر کِسِی اَدْوَار میں اللہ کا بندہ
کھل جاتی ہے دیوارِ حرَم جس کے شَرَف سے
ہے نفسِ نبی وہ تو کبھی ہے وہ ید اللہ
حیدر کے بہت نام ہیں اللہ کی صِفَت پر
مُسْلِم یہ بتاؤ مجھے کیا کوئی ہے ایسا

0
4
نہیں معلوم ہے تم کو تو پھر ہم سے پتا کِیجئے
حقیقت جان کر حضرت نہ پھر کوئی خطا کِیجئے
یہاں ہر بات کی واعظ پہل نقطے سے ہوتی ہے
ملے نقطہ نہیں تم کو تو کیسے ابتدا کیجئے
خدا کو جاننا ہے تو نبی نے یہ کہا ہم سے
علی کی عظمت و حِکْمَت سے خود کو آشنا کِیجئے

0
4
ساقی پلائے جا مجھے کوثر کے جام سے
چودہ ہیں مے کَدَے یہاں عِتْرَت کے بام سے
ان مے کدوں کے آخری ساقی کی راہ میں
پلکیں بچھایں بیٹھے ہیں ہم صبح و شام سے
پوچھو نہ حالِ مَے کَشی ہم سے یوں بارہا
پی کر بتاوں گا تمھیں میں بھی ارام سے

0
3
پھر آٹھویں کے بعد تَبَسُّم فضا ہوئی
فرحت لبِ اِمام سے جب آشنا ہوئی
دو ماہ آٹھ دن دیا پرسا حُسین کا

دل میں ملال ہے کہ نہ قیمت ادا ہوئی
فکرِ حسین چھا گئی انساں کی روح میں

باطل کی پیروی یوں ہی حق سے جُدا ہوئی

0
12
نہ پُوچھ کون سی دَولَت غمِ حُسین میں ہے

ہر ایک اشک پہ جنت غمِ حُسین میں ہے
مگر یہ طَرزِ عَمَل ہو فقط خدا کے لیے
یہی تو شرطِ شفاعت غمِ حُسین میں ہے
تمام کارِ رسالت اگرچہ یکجا ہو
کمالِ عَبْد کی حُجّت غمِ حسین میں ہے

0
13
کبھی تو ہم سے پوچھئے اگر تمہیں پتا نہیں
سَمَھلْ گیا جو جان کر تو پھر کوئی خطا نہیں
پدر ہیں مرطَضیٰ کے وہ مگر تو آشنا نہیں
دے پرورش رسول کو ہر اِک کو یہ عطا نہیں
مجال تھی کسی میں کیا کہ روک دے رسول کو
خدا کا جو پیام ہے امین بے وفا نہیں

0
28
ہر اک در سے جو افضل ہے وہی ہے فاطمہ کا در
یہی ہے مصطفیٰ کا در یہی آلِ عبا کا در
مقامِ سیدہ کی ہم فضیلت کیا بتائیں اب
عطا کوثر جہاں سے ہو وہ بے شک کبرِیا کا در
بھٹک جاؤ کبھی تم بھی تو حُر کو یاد کر لینا
ملے گی راہِ حق اُن کو جو سمجھیں گے ہُدیٰ کا در

0
79
دلِ مضطر سے مت پوچھو ہوا کیا حال فرقت میں
بتائے گا یہی تم کو دھڑکتا ہے وہ ظلمت میں
مگر ہے رنگ اگر جس میں ذرا سا بھی اِطاعَت کا
تو روشن ہے لحد اُس کی جہاں اُس کا حقیقت میں
یہی تو فرق ہے ہم میں یقیں ہے جو وسیلے پر
ہمارے واسطے تو واسطہ اُن کا ہے حاجت میں

0
30
جامِ وِلا پیا ہے رسالت مآب سے
ساقی کو جان لیتے ہیں رنگِ شراب سے
اس مے کشی سے آج مجھے وہ نَشَہ چڑھا
اوجِ خیال جا کہ ملے آفتاب سے
ظُلْمَت میں جب بھی دل نے پکارا علی کو تو
روشن ہوئی ہے رات مری ماہتاب سے

0
32
روکو نہ مجھ کو مہرباں یوں بات بات میں
دل میں حُسین لے کے چلا ہوں صِراط میں
ملتا نہیں ہے خلق کوئی کائنات میں
سجدے میں سر کو پیش کرے جو صلات میں
کیسے مٹا سکے کوئی نامِ حُسین کو
شمعیں بقا کی جلتی ہیں بزمِ حیات میں

18
مدحت کی بات ہے یا مَوَدَّت کی بات ہے
ذکرِ علی ہمیشہ فضیلت کی بات ہے
خالق یہ کہہ رہا ہے اِطاعَت کی بات ہے
کہہ دو نبی یہ سب سے رسالت کی بات ہے
بَلِّغ کَہا رسول کو نازِل ہوا ہے جو
مذہب کی آبرو ہے ضرورت کی بات ہے

0
104
نہ پوچھو حالتِ مضطر یہی ہے
ترے دیدار کی بس تشنگی ہے
عَرِیضَوں کا دعا کا آسرا ہے
تجھی سے ملنے کی حسرت رہی ہے
تری چاہت میں کیوں پروانگی ہے
نہ بُجھ سکے یہ ایسی روشنی ہے

0
53
نہیں مِلا کوئی انساں کسی ٹھکانے سے

کہے خدا جسے انساں بشر بتانے سے
کبھی ہے دَسْتِ خُدا اور کبھی یہ عینِ خُدا

ملے صِفات خُدا کے اِسی گھرانے سے
چلی تھیں بنتِ اسد خانۂ خدا کی طرف
کُھلی ہے کعبے کے قسمت یوں مسکرانے سے

0
27
زندہ ہے اپنے خون میں جب تک ولا کا رنگ
دنیا تمام دیکھے گی بزمِ عزا کا رنگ
ظاہر ہو ہر مقام پہ جب پرچمِ حُسین
بدلے گا ہر نظام کو اپنی فِضا کا رنگ
اشکوں سے پیش کرتے ہیں پُرسا حُسین کا
ذکرِ حُسین لاتا ہے آہ و بکا کا رنگ

0
32
اے سلامی عشق میں تجھ کو ابھی تک کیا ملا
کیا تجھے کوثر ملا یہ پھر تجھے کعبہ ملا؟
عشق میں مجھ کو ملا اُمید کا اِک سلسلہ
حالتِ ظُلمَت میں تھا اور واسطہ اُن کا ملِا
ہے عجب یہ ماجرا اِس چاہ میں لگتا ہے جی
جس نے پی جامِ وِلا آزاد وہ اُڑتا ملا

0
49
آیا نہیں بَشَر کوئی اِس اِحْتِشام سے
آغاز زندگی کا ہے بیتُ الحَرام سے
اُن پر کہے قصیدے یوں ہر اِک زبان نے
دنیا جو آشنا ہے علی کے مقام سے
مانے ولی نہ کیسے امامِ علی کو ہم
دیتے ہیں یہ زَکوٰۃ رُکُوع و قیام سے

0
96
خدا کی رحمتوں سے ہیں منور فاطمہ زہرا
عطا ہو جو نبی کو ہیں وہ کوثر فاطمہ زہرا
ہیں اپنے باپ کی الفت کا مَنظر فاطمہ زہرا
نبی کہہ دیں جسے خود اپنی مادر فاطمہ زہرا
اگر وہ ہی نہیں ہوتیں تمہیں کیسے پھنچتا دیں
رسالت سے امامت کا ہیں محور فاطمہ زہرا

1
196
آئی ندائے چاند یہ غمخوار کے لیے
فرشِ عزاء بچھا دو عزادار کے لیے
پہچی صدائے غم گوشِ دل میں جو
شور و فغاں ہے بیکس و لاچارؑ کے لیے
گِرْیہ و بکہ کا سما ہر سو ہے عیاں
مجلس بپا ہوئی شہِ ابرارؑ کے لیے

0
76
باطل کو تو حق سمجھتا ، گر نہ ہوتی کربلا
کُفر میں یہ دین ڈھلتا گر نہ ہوتی کربلا
کس کو تو کرتا بیان کس کا زکر اشک لاتا
آج فرشِ عزاء نہ بِچھتا گر نہ ہوتی کربلا
کیفیت یہ کیسے بنتی افسُردگی میں دل دھڑکتا
فاطمہؐ کا خون نہ بہتا گر نہ ہوتی کربلا

1
83
علی کے چاہنے والے گزر کر یاد رہتے ہیں
یہ مر جائیں مگر پھر بھی یہ زندہ باد رہتے ہیں
علی جب دل میں ہو تو سامنے یوں آ ہی جاتا ہے
دلِ مومن علی کا ذِکر سُن کر شاد رہتے ہیں
نمازوں میں مجالس میں اِنہیں ہرگز نہ اُلجھاؤ
عزا کے فرش پر آکر بھی یہ سجاد رہتے ہیں

384