مدحت کی بات ہے یا مَوَدَّت کی بات ہے
ذکرِ علی ہمیشہ فضیلت کی بات ہے
خالق یہ کہہ رہا ہے اِطاعَت کی بات ہے
کہہ دو نبی یہ سب سے رسالت کی بات ہے
بَلِّغ کَہا رسول کو نازِل ہوا ہے جو
مذہب کی آبرو ہے ضرورت کی بات ہے
ڈرنا نہیں ہے شر سے خُدا کا پیام ہے
خطرہ بشر سے ہے تو ضمانت کی بات ہے
مولا نبی ہیں جس کے بھی اُس کے علی بھی ہیں
واضِح نہیں اگر تو وَضاحَت کی بات ہے
مانگا عَذاب جس نے بھی وہ ہو گیا فَنا
منکر بنے علی کے تو لعنت کی بات ہے
کامِل کیا ہے دین کو پَرْوَرْدِگار نے
دے کر علی یہ کہہ دیا نعمت کی بات ہے
تخلیق کائنات میں خلقت کی بات ہے
اَوَّل ہے نور اِن کا حقیقت کی بات ہے
خلقت کی وَجْہ سوچ کے آتا ہے ذہن میں
عاشق کی عاشقی ہے مَسرت کی بات ہے
ایسا نہیں ہوا کوئی پیدا خدا کے گھر
کعبہ سنا رہا ہے وِلادت کی بات ہے
راضي کیا خدا کو جو حجرت کی رات میں
بیچا علی نے نفس کو قیمت کی بات ہے
لکھا ہے یہ کتاب میں کنبہ رسول کا
معصوم کی صِفات طہارت کی بات ہے
موقع گنوا کے بَیٹھے جو خیبر کی رات میں
ہوگا نہیں یہ تم سے شُجَاعَت کی بات ہے
اُس کا جو سامنا ہوا شیرِ خُدا کے ساتھ
مرحب بھی کہہ گیا کہ قِیامت کی بات ہے
بیعت جنہوں نے کی تھی اور پِھر پلٹ گئے
ایسا مزاج ہے تو خَباثَت کی بات ہے
عُہدوں کے پیچھے آج بھی رہتا ہے جو کوئی
خدمت ہے دین کی کہ سیاست کی بات ہے
بِدْعَت نہیں یہ شیخ جی ٹوکو نہیں مجھے
نکلے علی جو لب سے عبادت کی بات ہے
حیدر کا نام لیتے ہیں اپنے علاج میں
ایسی دَوا ملی کہ شفاعت کی بات ہے
بنتا نہیں ہے حیدری اپنی زبان سے
سجدوں کی بات ہے یہاں تُرْبَت کی بات ہے
ذکرِ علی اُٹھاتا ہے پردے نفاق کے
چہرہ نکھار دے تو یہ اُلفت کی بات ہے
باقر تو جان لے کہ یہ کارِ ثواب ہے
عِشْقِ علی میں لِکْھنا سعادت کی بات ہے

0
104