| نہ پُوچھ کون سی دَولَت غمِ حُسین میں ہے |
| ہر ایک اشک پہ جنت غمِ حُسین میں ہے |
| مگر یہ طَرزِ عَمَل ہو فقط خدا کے لیے |
| یہی تو شرطِ شفاعت غمِ حُسین میں ہے |
| تمام کارِ رسالت اگرچہ یکجا ہو |
| کمالِ عَبْد کی حُجّت غمِ حسین میں ہے |
| ہے سچ یہ رب کی اِطاعَت کو جاوِداں کر دے |
| کہ فکرِ مقصدِ خلقت غمِ حُسین میں ہے |
| ہو دل میں اُلفتِ آلِ نبی اگر مضطر |
| تو اوجِ مَحْوِ عبادت غمِ حسین میں ہے |
| جفا کی ظُلم و سِتم کی فِضا بدلنے کو |
| نمازِ حق کی اِقامَت غمِ حسین میں ہے |
| ملے خَلِیل سے احمد تو شان سے بولے |
| سُنو بشر کی فضیلت غمِ حسین میں ہے |
| وہاں مقامِ نبوَّت کو آزمائے خدا |
| یہاں تو نَفْس کی قیمت غمِ حسین میں ہے |
| قلم کی ہم نے سیاہی بدلتی دیکھی ہے |
| ابھی بھی سچ کی عبارت غمِ حسین میں ہے |
| شناس ہو نہیں پائے جو حق و باطل میں |
| تو راہِ حق کی صداقت غمِ حسین میں ہے |
| بچھے جو فرشِ عزا تو خیال کر لینا |
| امامِ وقت کی شرکت غمِ حسین میں ہے |
| قَسَم ہے عصر کی اِنْسان ہے خسارے میں |
| یہی تو بات کی نسبت غمِ حُسین میں ہے |
| سمجھ سکا نہیں جو فَلْسَفَہ فِدائی کا |
| تو نقشِ جامِ شَہادَت غمِ حسین میں ہے |
| مٹا سکا نہیں اب تک غمِ حُسین کوئی |
| نہ جانے کون سی طاقت غمِ حُسین میں ہے |
| جہاں ہو ذکر حقوق العباد کا یاوَر |
| کہو یہ درس و ہدایت غمِ حُسین میں ہے |
| نہیں موازنہ ممکن کبھی بَہَتَّر سے |
| کہ جن کی شان و شُجَاعَت غمِ حُسین میں ہے |
| لبوں کو تر کریں شُکر و عبادتوں سے ولی |
| اُس ایک رات کی مہلت غمِ حُسین میں ہے |
| لہو لہو ہے زُباں پر ہے تشنگی اُن کے |
| نبی کی آل پہ آفت غمِ حُسین میں ہے |
| زباں سے نفس سے چہرے سے تھا جو مثلِ نبی |
| سنو وہ قتلِ شَباہَت غمِ حُسین میں ہے |
| کبھی زمیں سے مُخاطِب کبھی فَلَک سے ہوئے |
| کہ خونِ طفل کی غربت غمِ حُسین میں ہے |
| کٹے ہیں بازو کہیں اور کہیں ہے چَھلْنی بدن |
| بغیر سر کی بھی مَیَّت غمِ حُسین میں ہے |
| نہیں تھا کربلا کافی کہ شام میں بھی ستم |
| کہاں کہاں کی مصیبت غمِ حسین میں ہے |
| لبِ فرات سے پوچو کہ تشنگی کیا ہے |
| کہے وہ پیاس کی شدت غمِ حُسین میں ہے |
| جو کٹ سکے نہیں دل میں ملال رکھتے ہے |
| تو اُن کو اجر و سَعادَت غمِ حُسین میں ہے |
| نہیں ہوا ہے جو مایوس اِس جہاں باقر |
| کہ ظلمتوں میں بھی ہمت غمِ حُسین میں ہے |
معلومات