روکو نہ مجھ کو مہرباں یوں بات بات میں
دل میں حُسین لے کے چلا ہوں صِراط میں
ملتا نہیں ہے خلق کوئی کائنات میں
سجدے میں سر کو پیش کرے جو صلات میں
کیسے مٹا سکے کوئی نامِ حُسین کو
شمعیں بقا کی جلتی ہیں بزمِ حیات میں
آلِ نبی کے جیسے کوئی اور ہی نہیں
دِکھتا ہے کِبْرِیا مجھے اِن کی صفات میں
اُن کو جو یاد کرتے ہیں ہم مشکلات میں
روشن کریں چراغ یہ ظلمت کی رات میں
سیرت نبی کی ہے یہی حیدر پُکار لو
کرنا گُرَیز چھوڑ دو اب اِحْتِیاط میں
افضل ہے ہر لحاظ سے کنبہ رسول کا
کوثر سے لے کے دین کی حُجَّت کی بات میں
احساں ہے دین پر بڑے سبتِ رسول کے
روشَن خَیال ہو گیے انساں کی ذات میں
دل میں حُسین ہے ترے تو حق سے بات کر
جنت ملی ہے حُر کو بھی راہِ نَجات میں
جب بھی سنُوں مصائب اِمامِ حُسین کے
مُضطر ہوا ہے تن بدن اُن واقِعات میں
دوبا ہوا ہے پیرہن اپنوں کے لہو سے
لاشے اُٹھا کے شاہ چلے ہیں قَنَات میں
سبطِ نبی کو قتل کیا جو لعین نے
پیاسے کی پیاس بجھ نہ سکی تھی فرات میں
آلِ نبی کا ذکر جو افضل عباد ہے
مدحت حُسین کی کروں اپنی بِساط میں
باقر تجھے بھی آئے گی خوشبو حُسین کی
چلتا رہوں اگر یہاں حق کی صراط میں

18