زندہ ہے اپنے خون میں جب تک ولا کا رنگ
دنیا تمام دیکھے گی بزمِ عزا کا رنگ
ظاہر ہو ہر مقام پہ جب پرچمِ حُسین
بدلے گا ہر نظام کو اپنی فِضا کا رنگ
اشکوں سے پیش کرتے ہیں پُرسا حُسین کا
ذکرِ حُسین لاتا ہے آہ و بکا کا رنگ
چاہے ہزار کوششیں کر لیں یزید آج
بختہ ہے اپنے زہن پہ اپنی بقا کا رنگ
بیچا ہے جس نے دین کو فرشِ عزا کے نام
دیکھا ہے خوب ہم نے بھی اُن کی انا کا رنگ
ذریعہ ہے یہ حیات کا مَقْصَد نہیں ہے یہ
سیکھو غمِ حُسین سے حق کی ادا کا رنگ
آلِ نبی بِنا ہمیں کیسے ملے رسول
جیسے بنا رسول کے سمجھو خدا کا رنگ
رنگوں سے پوچھ لوں کہ کیا ہے خدا کا رنگ
جس میں ملے فقد تجھے آلِ عبا کا رنگ
اُنچا ہے ہر مقام پہ عباس کا علم
نظریں اُٹھا کے دیکھ لے یہ ہے وفا کا رنگ
لشکر سے خوف کی مہک آتی تھی بار بار
دیتے جو ہر نِگاہ کو شیرِ خدا کا رنگ
ملتا جو اُن کو اذن تو کرتے بپا وہ جنگ
دیتے تھے فوج کو جری اُن کی قضا کا رنگ
مٹی میں جب ملا لہو آلِ رسول کا
دینے لگی ہے خاک بھی ہم کو شفا کا رنگ
آیا درِ حُسین سے باقر دُعا کا رنگ
اس طرح سے ملا ہمیں حاجت روا کا رنگ

0
32