نہ پوچھو حالتِ مضطر یہی ہے
ترے دیدار کی بس تشنگی ہے
عَرِیضَوں کا دعا کا آسرا ہے
تجھی سے ملنے کی حسرت رہی ہے
تری چاہت میں کیوں پروانگی ہے
نہ بُجھ سکے یہ ایسی روشنی ہے
فرشتوں کا وہاں آنا رہا ہے
جہاں بھی اُلفتِ آلِ نبی ہے
خطا میری ہے کیا تھوری ہی پی ہے
غَضَب ساقی غَضَب یہ مےکشی ہے
بتا دے کب تلک ظلم و ستم ہیں
ترے وارث کی کب تک واپسی ہے
اٹھے پردے تو بولے گا خدا یہ
ترا مولا ترا آقا یہی ہے
دیا ہر دور میں تم کو جو رہبر
ہے قائم آج تک ہادی یہی ہے
جُدائی وقت سے ممكن نہیں ہے
کمالِ جلوَہ گَر ایسا کوئی ہے؟
جو ہے اول تو آخر بھی علی ہے
انہیں کے عشق میں دنیا بنی ہے
اُلٹ سمجھا نصیری بات اِتنی
علی اللہ نہیں اللہ علی ہے
بہک جانا نہیں سُن کر یہی تم
صِفاتِ کِبْرِیا اَعْلیٰ یہی ہے
دلِ مومن میں کیوں یہ بےکلی ہے
اِمامِ وقت کی محفل سجی ہے
ثَنائے پنج تن سے کیوں پریشاں
تجھے اِس بات سے کیا بے رخی ہے؟
بتا دو جانثاروں میں تمھارے
کہ کوئی قمبری یہ میثمی ہے؟
نہیں آساں اُسے گمراہ کرنا
شکم سے آج تک جو ماتمی ہے
اگر مجھ پر کبھی مشکل پَڑی ہے
انہی کے نام سے وہ طل گئی ہے
بُلاتے ہو نہیں اُن کو جو دل سے
یہی تو باعثِ شرمندگی ہے
ہمارا ظرف اس قابل نہیں ہے
تری جانب سے جو وابستگی ہے
کسے دولت کسے شہرت ملی ہے
وِراثَت میں ہمیں مِدْحَت ملی ہے
پھر آئے گا تری خدمت میں باقر
زرا سی دیر کی زحمت رہی ہے

0
53