| اے سلامی عشق میں تجھ کو ابھی تک کیا ملا |
| کیا تجھے کوثر ملا یہ پھر تجھے کعبہ ملا؟ |
| عشق میں مجھ کو ملا اُمید کا اِک سلسلہ |
| حالتِ ظُلمَت میں تھا اور واسطہ اُن کا ملِا |
| ہے عجب یہ ماجرا اِس چاہ میں لگتا ہے جی |
| جس نے پی جامِ وِلا آزاد وہ اُڑتا ملا |
| اُلفتِ آلِ نبی کی بات ایسی ہے ذَرا |
| جس نے مانگا کچھ نہیں اُس کو جہاں سارا ملا |
| تھا یہی حُکمِ خدا کہہ دو نبی سب سے ذرا |
| جس کا تو مولا بنا اُس کو علی مولا ملا |
| ہاتھ اُس کا تھا خدا آواز اُس کی تھی خُدا |
| پوچھ لینا تم نبی سے عرش پر پھر کیا ملا |
| کیسے سمجھو گے علی کو خُود کو سمجھے ہو نہیں |
| حافِظِ قرآں بنا پھر بھی نہیں نقطہ ملا |
| شر کی عادت ہے یہی آدم ہو یا کوئی نبی |
| رحمتوں کے درمیاں اکثر یہی روتا ملا |
| اے مسلماں آج تک ہوتا نہیں کیوں فیصلہ |
| چھوڑ کر آلِ نبی تجھ کو ابھی تک کیا ملا |
| کیا عَظِیمُ الشّان ہے یہ نسلِ طاہر کا شجر |
| جس نے پالا تھا نبی کو اُس کو یہ رتبہ ملا |
| ہے علی اول اگر تو آخری بھی ہے علی |
| ہم کو بھی ہر دور میں اللہ کا چہرہ ملا |
| ڈُھونڈ نے نِکلا تھا خود کو فکر کے بازار میں |
| یا علی کہتا چلا اور ظرف بھی سستا ملا |
| محفلِ آلِ نبی میں فِکر کی قِلَّت نہیں |
| ہم کو یوں دنیا سے پہلے خُلد کا رستہ ملا |
| پھر نہیں کہنا مجھے تجھ کو ابھی تک کیا ملا |
| جسم کو قبلہ ملا تو روح کو سَجدَہ ملا |
| دَعْویٰ کیا باقر نے یہ مل جائے گی تجھ کو شِفا |
| ہو اگر حاصل رضا تجھ کو ترا کعبہ ملا |
معلومات