نہیں معلوم ہے تم کو تو پھر ہم سے پتا کِیجئے
حقیقت جان کر حضرت نہ پھر کوئی خطا کِیجئے
یہاں ہر بات کی واعظ پہل نقطے سے ہوتی ہے
ملے نقطہ نہیں تم کو تو کیسے ابتدا کیجئے
خدا کو جاننا ہے تو نبی نے یہ کہا ہم سے
علی کی عظمت و حِکْمَت سے خود کو آشنا کِیجئے
اِطاعَت ہے اگر تم میں خدا کی اور رِسالت کی
علی مولا کہا کِیجئے محمد سے وفا کِیجئے
شکم میں لے کے حیدر کو وہ پَہُنْچی جب خدا کے گھر
کہا بنتِ اسد نے یہ خدا مجھ پر جزا کِیجئے
کھلی دیوارِ اقدس اور یہ کعبے سے صدا آئی
نہ گھبرائِیں چلی آئِیں قدم راہِ خدا کِیجئے
ہوئیں داخل خدا کے گھر ولادت کی گھری آئی
کہا جبریل نے آ کر خدا کا شکریہ کِیجئے
نہیں آیا بشر ایسا زَمانے میں کبھی کوئی
ہوے پیدا خدا کے گھر ذرا تو تَبْصِرَہ کِیجئے
لعابِ پاک جب پہنچا رسالت سے امامت کو
علی بولے محمد سے کہ مجھ سے کیا سنا کِیجئے
سُناوں آپ کو انجیل یا تَورات میں احمد
اِجازَت ہو تو قرآں سے کلامِ کِبْرِیا کِیجئے
علی آئے جو کعبے میں بتوں سے یہ ندا آئی
نہیں ہم ہیں خدا کوئی علی ہم کو رِہا کیجئے
علی کی بات کرنا بھی عبادت کا اَجْر دے دے
عبادت کا مزہ لیجے علی کا تذکرہ کِیجئے
نہ شُہْرَت سے نہ دولت سے نہ پھر دنیا کے مطلب سے
عقیدت سے مودت سے ثناۓ مرتضیٰ کِیجئے
کہا مرحب کی مادر نے نہ لڑنا تم کبھی اُس سے
وہ جس کا اِسْم حیدر ہے نہیں اُس سے بھڑا کِیجئے
علی کے وار کو روکیں نہیں ممکن فرشتوں سے
کہا ہوگا مصیبت میں نہیں یہ انتہا کیجئے
ملے تم کو کبھی یاور علی کے بغض میں کوئی
علی کا نام لے لے کے اِنہیں تھورا خفا کِیجئے
ہَٹا دو شیخ جی تم بھی نہیں گھٹ کے جیو ایسے
ولائے جامِ کوثر کو عقیدت سے پیا کیجئے
کبھی ہم سے مُحَبَّت ہے کبھی ہم سے ندامت ہے
خدا کے واسطے اب تم کوئی تو فیصلہ کیجئے
علی اَوَّل علی اَوسَط علی آخر علی کُل ہے
علی کا واسطہ لے کر خدا سے التجا کیجئے
نہیں مایوس ہوں مومن کہ ہر شب کا اُجالا ہے
زمانے کے علی سے تم بَیانِ مُدَّعا کیجئے
وصیلہ دے کے باقر نے کہا اللہ سے یہ جھک کر
دُعا میری ہے بس یہ ہی سدا مجھ پر عطا کِیجئے

0
4