| آیا نہیں اِس شان سے کوئی بھی مَسِیحا |
| نا پھر کِسِی اَدْوَار میں اللہ کا بندہ |
| کھل جاتی ہے دیوارِ حرَم جس کے شَرَف سے |
| ہے نفسِ نبی وہ تو کبھی ہے وہ ید اللہ |
| حیدر کے بہت نام ہیں اللہ کی صِفَت پر |
| مُسْلِم یہ بتاؤ مجھے کیا کوئی ہے ایسا |
| کوشش جو کرو گے تو مٹا بھی نہیں سکتے |
| ممکن نہیں مِٹ جائے جو بسمل سے یہ نقتہ |
| ہم سے نہ کہو کیوں یہ فَضائِل نہیں رُکھتے |
| اللہ کو سمجھنا ہے تو بس ہے یہ وَظِیفَہ |
| سولی پہ چڑھا لو تو بھی میثم یہ کہے گا |
| من ماتَ علیٰ حُبِّ علی ماتَ شہیدا |
| میداں کے فراروں کو یوں تم کیسے چَڑھاؤ |
| خوبی نہیں اِن میں نہ ہے کوئی بھی سلیقہ |
| باقر ترے اندازِ سخن میں ہو اُجالا |
| جب تک ہو زباں پر ترے بس نام علی کا |
معلومات