پھر آٹھویں کے بعد تَبَسُّم فضا ہوئی
فرحت لبِ اِمام سے جب آشنا ہوئی
دو ماہ آٹھ دن دیا پرسا حُسین کا

دل میں ملال ہے کہ نہ قیمت ادا ہوئی
فکرِ حسین چھا گئی انساں کی روح میں

باطل کی پیروی یوں ہی حق سے جُدا ہوئی
دل میں غمِ حُسین ہے ہر پل بسا ہوا
لیکن خوشی میں آلِ نبی کی ثنا ہوئی
اور آٹھ دن کے بعد مَسَرَّت یوں چھا گئی
آمد نبی کے ساتھ ہی جعفر کی کیا ہوئی
توحید کی کرن سے بنے تھے جو مُصْطَفیٰ
تخلیقِ کائنات کی تب ابتدا ہوئی
بارَہ چراغ ایسے ملے مجھ غریب کو
اللہ کے یہ گھر سے شروع اِنْتِہا ہوئی
ہے خوب سلسلہ یہ طہارت کے نور کا
ظلمت میں راہ میری رُخِ کِبْرِیا ہوئی
دیتے ہیں ہم کو جامِ ولایت رسول جو
پی لیں اگر تو ہم کو مکمل شفا ہوئی
جب بھی ثنائے آلِ نبی میں قلم اُٹھا
باقر تجھے بھی غیب سے کتنی عطا ہوئی

0
12