| آئی ندائے چاند یہ غمخوار کے لیے |
| فرشِ عزاء بچھا دو عزادار کے لیے |
| پہچی صدائے غم گوشِ دل میں جو |
| شور و فغاں ہے بیکس و لاچارؑ کے لیے |
| گِرْیہ و بکہ کا سما ہر سو ہے عیاں |
| مجلس بپا ہوئی شہِ ابرارؑ کے لیے |
| منظرِ خلق کو دیکھ کر بولے یہ مَلَک |
| ذِکرِ بَشَر ہے سیدِ سَردارؑ کے لیے |
| آئیں ہیں فاطمہؑ ترے اشکوں کے واسطے |
| بخشش بنے ہیں آنسو گناہ گار کے لیے |
| رونا غمِ حُسینؑ میں تقدیر پر نہیں |
| دے دی مثالِ حر ترے افكار کے لیے |
| پل بھر میں بدل جائے قسمت جو یوں کبھی |
| آوازِ حق ضَرُوری ہے بیدار کے لیے |
| شانے قلم ہوئے ترے وفائے حُسینؑ میں |
| تو ایسا کچھ ہوا ہے وفادارؑ کے لیے |
| جب تک رہے گا ذِکر امامِ حُسینؑ کا |
| تب تک اٹھیگا علم علمدارؑ کے لیے |
| خریدی تھی قبر اپنی کربل کی زمیں پر |
| مشکل نہیں ہو کوئی بھی زوار کے لیے |
| آئِیں یہ کیسی مُشکلیں آلِ رسولؐ پر |
| نکلا جو قافلہ سرِ بازار کے لیے |
| نواسی ے پیمبر ہیں اور بازو میں رسن ہے |
| دیتی تھیں خُطبے عابدِ ِبیمارؑ کے لیے |
| مقتل میں سَکِینَہؑ تھیں پیاسی اور پریشاں |
| بابا کو ڈھونڈتی تھیں وہ رُخسار کے لیے |
| پوچھا کہ کیوں یہ دشمنی لیتا ہے تو لعیں |
| بولا یہ بُغْضِ حیدرِ کرارؑ کے لیے |
| کربل کا فلسفہ نہیں سمجھے جو آج تک |
| فاسق بنے ہیں وہ اقتدار کے لیے |
| ذکرِ غمِ حُسینؑ ہے افسانہ یہ نہیں |
| نہ ہے کوئی ترانہ یہ فنکار کے لیے |
| دل سے پڑھو مصائب اِمامِ حُسینؑ کے |
| پُرسہ دو سیدہؑ کو گھر بار کے لیے |
| کیسی زمیں ملے مجھے کیسی طرح ملے |
| دل میں حُسینؑ چاہئے اِظہار کے لیے |
| دکھاتی ہے راہ میرے قلم کو تری رضا |
| نکلی ہے دُعا میرے مددگار کے لیے |
| باقر یہی ہے آرزو اِک دن یہ ہم کہیں |
| نکلے ہیں گھر سے شاہؑ کے دربار کے لیے |
معلومات