| علی کے چاہنے والے گزر کر یاد رہتے ہیں |
| یہ مر جائیں مگر پھر بھی یہ زندہ باد رہتے ہیں |
| علی جب دل میں ہو تو سامنے یوں آ ہی جاتا ہے |
| دلِ مومن علی کا ذِکر سُن کر شاد رہتے ہیں |
| نمازوں میں مجالس میں اِنہیں ہرگز نہ اُلجھاؤ |
| عزا کے فرش پر آکر بھی یہ سجاد رہتے ہیں |
| نہ سمجھو گے کبھی تم نیک دل سادہ فقیروں کو |
| یہ ظاہر بھی نہیں ہوتے مگر اُستاد رہتے ہیں |
| جو اہلِ فکر ہیں جذبات اُنکے کیا بتاؤں میں |
| ثنائے آلِ احمد میں سدا اِرشاد رہتے ہیں |
| خیالوں کو بدلنے کی کبھی کوشش نہ کرنا تم |
| کہ یہ میثم خیالی ہیں اٹل فولاد رہتے ہیں |
| اگر ہیں خود پرستی میں نہیں یہ چاہنے والے |
| بِنا اِخلاق کے بے شک یہ سب برباد رہتے ہیں |
| جسے دیکھو وہ اس دنیا میں ہی جنت کا خواہاں ہے |
| مری بستی میں ہر جانب کئی شدًاد رہتے ہیں |
| تخیّل میں ترے باقر یوں ہی شامل رضا ہو جب |
| عطائے سیدہ سے ہی یہ لب فریاد رہتے ہیں |
معلومات