| کبھی تو ہم سے پوچھئے اگر تمہیں پتا نہیں |
| سَمَھلْ گیا جو جان کر تو پھر کوئی خطا نہیں |
| پدر ہیں مرطَضیٰ کے وہ مگر تو آشنا نہیں |
| دے پرورش رسول کو ہر اِک کو یہ عطا نہیں |
| مجال تھی کسی میں کیا کہ روک دے رسول کو |
| خدا کا جو پیام ہے امین بے وفا نہیں |
| مقام اُن کو کیا ملا اہم تریں یہ ذات ہے |
| ہے دین کی بسات کیا ملے جو مصطفیٰ نہیں |
| اگر تمھاری مان لیں تو پھر ہمیں بتا ئیے |
| نِکاح کیوں رسول کا کسی نے پھر پڑھا نہیں |
| ہمیں اُمید ہے یہی دیا جو جل رہا ہے یہ |
| چلی ہے آل اُن کی جو کہ دیں ابھی مٹا نہیں |
| خُدا کو جاننا ہے تو ذرا علی کو جانئے |
| مِلیں صفاتِ کبریا مگر علی خدا نہیں |
| کرو موازنہ نہیں خدا سے عبد کا کبھی |
| سمجھ گیا جو بات یہ کبھی بہک گیا نہیں |
| ملی وحی خُدا سے کے نبی انہیں بتا ئیے |
| اگر یہ بات رہ گئی تو تم نے کچھ کیا نہیں |
| چلے نبی غدیرِ خم وہاں خطاب یہ کیا |
| کتاب سے جو آل سے ہو مُنْسلِکْ تبا نہیں |
| جو مان لے مجھے ولی اُسے ملا علی ولی |
| اگر علی سے بے رُخی تو پھر نبی ملا نہیں |
| کرے وہ اِعْتِراض جو غدیر کے پیام پر |
| عَذاب وہ ملا اُسے نشان بھی بچا نہیں |
| پلائی ہے غدیر میں رسول نے مئے ولا |
| نشا تجھے نہ چڑھ سکا تو جام یہ پیا نہیں |
| پیام جب پھنچ گیا تو پھر خدا نے یہ کہا |
| تمام ہے یہ دین اب بچا ہے مدعا نہیں |
| بنی ہے یہ زمیں قمر یہ شمس اور یہ بَحْر و بَر |
| ابھی تو ہے یہ ابتدا ابھی یہ اِنْتِہا نہیں |
| علی ہے وہ جو ہِجْر میں بچا رہا ہے دین کو |
| وہ سو رہا ہے چین سے کہ حق ابھی ادا نہیں |
| تو دیکھ کر خدا نے یہ کہا کہ میں رعوف ہوں |
| مری رضا میں نَفْس کو جو بیچ دے فنا نہیں |
| ذرا سی دیر میں عَدُو وہ جنگ سے فرار تھے |
| کہ قلب ان کے بے یقیں جو نَفْس میں وفا نہیں |
| خدا کا دین ہے یہی اسے نہ آزْما ئیے |
| ہے عشق اِقْتِدار سے وہ تیرا رہنما نہیں |
| یوں تین دن گزر گئے قِلے کا در نہیں کھلا |
| تو پھر ہمیں پتا چلا گیا ہے لافتیٰ نہیں |
| جو پوچھا در سے ماجرا تو مسکرا کے یہ کہا |
| ملے بشر بہت مجھے ملا جو مرطَضیٰ نہیں |
| ہوئی ہے با سے ابتدا تو قاف سے قراں ملا |
| جو رے سے راہ مل گئی مزید تبصرہ نہیں |
| کہاں پھرے یہ در بدر ملا اسے علی کا در |
| کہ باقرِِ نحیف کا کچھ اور آسرا نہیں |
معلومات