جامِ وِلا پیا ہے رسالت مآب سے
ساقی کو جان لیتے ہیں رنگِ شراب سے
اس مے کشی سے آج مجھے وہ نَشَہ چڑھا
اوجِ خیال جا کہ ملے آفتاب سے
ظُلْمَت میں جب بھی دل نے پکارا علی کو تو
روشن ہوئی ہے رات مری ماہتاب سے
اِس میں تو کوئی شک نہیں اے بانیٔ جفا
ہم حق شناس ہو گئے تیری کتاب سے
عرشِ بریں پہ خلق کا کیسا مُوازَنَہ
افضل بنا بشر وہاں وہ بھی تراب سے
جس پل سے ابتدا ہوئی اُن کی خُدا کے گھر
بُت بھی خدا خدا کرے ہیں اِضْطِراب سے
اَشْتَر سے پوچھئے کبھی وارِ علی ہے کیا
نوکِ سناں جو چھوڑ دے نسلیں حساب سے
نوکِ سناں کے زور پہ کیا کچھ ملا کبھی
اسلام کو ملی ہے بقا بو تراب سے
نورِ محمدی کو سمیٹا علی نے جو
نقطہ مٹا سکا نہیں کوئی کتاب سے
نسبت علی سے دیتی ہے دنیا الگ الگ
خیبر کے باب سے کبھی حِکمت کے باب سے
مُشْکِل کُشا تو شیرِ خُدا لا فتی علی
ملتے ہیں یہ خِطاب نہیں اِنْتِخاب سے
جس میں نہیں ہو اُلفتِ آلِ نبی اگر
کیسے بچے ہے حشر میں کوئی عَذاب سے
جب تک نہیں ہے واسطہ تیرا علی کے ساتھ
بدلے ترے نِظام نہیں انقلاب سے
رکھتے ہیں پر فرشتے بچانے زمیں زمیں
جب جب ہے ذُوالْفِقار نکالی نقاب سے

اُس پل کا انتظار ہے اب ذُوالْفِقار کو
جس پل ہوئے ظُہُور علی کا حجاب سے
آلِ عَبا کا جشن ہے محفل سجی ہوئی
خوشبو سنا رہے ہیں قصیدے گلاب سے
کیسے مٹا سکو گے کسی کے خیال کو
جن کو ملی حیات جو کوثر کے آب سے
جامِ ولائے آلِ نبی کا اثر ہے یہ
ہوتا ہوں کامیاب میں رندِ خراب سے
باقر ثنائے آلِ نبی میں لکھا کرو
ہونا ہے فَیض یاب اگر اِس ثواب سے

0
32