نہیں مِلا کوئی انساں کسی ٹھکانے سے

کہے خدا جسے انساں بشر بتانے سے
کبھی ہے دَسْتِ خُدا اور کبھی یہ عینِ خُدا

ملے صِفات خُدا کے اِسی گھرانے سے
چلی تھیں بنتِ اسد خانۂ خدا کی طرف
کُھلی ہے کعبے کے قسمت یوں مسکرانے سے
کہ بن سکا نہیں قبلہ کسی زمانے سے

ملی ہے کعبے کو عضمت علی کے آنے سے
دیار عشقِ نبی ہے دیار عشقِ علی
بنی ہے عالمِ خلقت اسی بہانے سے
مٹا سکے نہیں ہم کو سیہ مٹانے سے
کہ میثمی نہیں ڈَرتے زباں کٹانے سے
سکوت قلب میں باقر یہی ملا ہے تجھے
ملا ہے عشقِ خدا مجھ کو یہ سنانے سے

0
27