| نہیں مِلا کوئی انساں کسی ٹھکانے سے |
| کہے خدا جسے انساں بشر بتانے سے |
| کبھی ہے دَسْتِ خُدا اور کبھی یہ عینِ خُدا |
| ملے صِفات خُدا کے اِسی گھرانے سے |
| چلی تھیں بنتِ اسد خانۂ خدا کی طرف |
| کُھلی ہے کعبے کے قسمت یوں مسکرانے سے |
| کہ بن سکا نہیں قبلہ کسی زمانے سے |
| ملی ہے کعبے کو عضمت علی کے آنے سے |
| دیار عشقِ نبی ہے دیار عشقِ علی |
| بنی ہے عالمِ خلقت اسی بہانے سے |
| مٹا سکے نہیں ہم کو سیہ مٹانے سے |
| کہ میثمی نہیں ڈَرتے زباں کٹانے سے |
| سکوت قلب میں باقر یہی ملا ہے تجھے |
| ملا ہے عشقِ خدا مجھ کو یہ سنانے سے |
معلومات