| دلِ مضطر سے مت پوچھو ہوا کیا حال فرقت میں |
| بتائے گا یہی تم کو دھڑکتا ہے وہ ظلمت میں |
| مگر ہے رنگ اگر جس میں ذرا سا بھی اِطاعَت کا |
| تو روشن ہے لحد اُس کی جہاں اُس کا حقیقت میں |
| یہی تو فرق ہے ہم میں یقیں ہے جو وسیلے پر |
| ہمارے واسطے تو واسطہ اُن کا ہے حاجت میں |
| پھر آ جائے کوئی مشکل کوئی بھی امتحاں ہم پر |
| ملے راحت ہمیں جب بھی کریں فریاد شِدَّت میں |
| فرشتوں کا مَلائِک کا وہاں آنا یَقِیناً ہے |
| جہاں آلِ عَبا کا تَذْکِرَہ آتا ہے الفت میں |
| مَوَدَّت میں مُحبت میں ہیں چرچے اُن کی غیبَت میں |
| وہ آ جائیں تو پھِر دُہرا مزا آئے گا مِدحت میں |
| علی اول علی آخر علی اوسط علی کل ہے |
| ہے اول نورِ احمد پھر علی کا نور خلقت میں |
| شجاعت میں بلاغت میں طہارت میں یا حکمت میں |
| زمانہ ڈُھونڈ کر لائے کوئی ایسا بھی اُمت میں |
| کوئی اُن کو بشر سمجھے کبھی کوئی خدا مانے |
| اُنھیں سمجھا نہیں کوئی سوا احمد حقیقت میں |
| کہاں سمجھا کسی نے بھی حقیقت میں ترا رُتْبَہ |
| بنے کافر مسلماں بھی خدائی کی وضاحت میں |
| کسی کے بغض میں جل کر کرے قُرباں ہزاروں کو |
| نہیں یہ رنگ دیکھا ہے کبھی کوئی بھی عورت میں |
| ہوا تم کو گلا اُن سے کیوں آتے ہیں نہیں اب تک |
| بلاتے ہو مگر تم تو فقط اپنی مصیبت میں |
| عَرِیضَوں کا لکھا پڑھ کر گلا نہ سوچنا اِس کو |
| ہوئیں اظہار مُشْکِل سے کیے جو پیشِ خدمت میں |
| خطوں کے آسرے دلبر ذرا سی دیر رُک جانا |
| ابھی تھوری سی زحمت ہے اُنھیں آنے کی مُدَّت میں |
| نہ شُہْرَت میں نہ دولت میں کرو یہ بس تَہِ دل سے |
| سُناؤ آلِ احمد کے قصیدے تم سعادت میں |
| نشا اُس جام کا ساقی مَسَرَّت میں جو پیتا ہے |
| ہمیں تو ساقِیٔ کَوثَر پلاتا ہے عبادت میں |
| سنا ہے حشر میں اکثر پکاریں گے محمد کو |
| پکاروں گا میں زَہْرَہ کو سفِ مَحْشَر قیامت میں |
| بتا دی زندگی جس نے ترے آنے کی حسرت میں |
| مرے آقا اُنھیں ملنا وہ جاگیں جب بھی تربت میں |
| جو حالِ دل میں لکھتا ہوں سدا اپنے قصیدوں میں |
| یہی باقر تمنا ہے سناوں گا زِیارَت میں |
معلومات