آیا نہیں بَشَر کوئی اِس اِحْتِشام سے
آغاز زندگی کا ہے بیتُ الحَرام سے
اُن پر کہے قصیدے یوں ہر اِک زبان نے
دنیا جو آشنا ہے علی کے مقام سے
مانے ولی نہ کیسے امامِ علی کو ہم
دیتے ہیں یہ زَکوٰۃ رُکُوع و قیام سے
راضی کیا خدا کو جو ہجرت کی رات میں
بیچا علی نے نفس کو مرضی کے دام سے
اُن کے شدید عدل کو کیسے کروں بیاں
مومن ملے تو چھوڑ دیں نسلِ حرام سے
رکھتے تھے پر فرشتے بچانے زمیں کو جب
نکلی تھی ذُوالفِقار جو اُن کی نیام سے
ہم کو مِلا طریقہ یہ خَیرُ الْاَنام سے
جو مانگنا ہے مانگ لو اپنے امام سے
قرآں بتا رہا ہے سلیقہ دعا کا یہ
مانو انہیں وسیلہ خُدا کے کلام سے
بدر و حنین و خیبر و خندق سے پوچھئے
غالب ہوا ہے دین یہ حیدر کے کام سے
آئے تھے جو نبی کی حفاظت کے واسطے
جنگوں میں بھاگ جاتے تھے اکثر زُکام سے
تکلیف بن گیے ہیں یوں آ کر وہ غار میں
عاجز ہوئے تھے سانپ بھی اس شور و تام سے
اِحساں کیے علی نے رسالت پہ یوں کئی
کامل ہوا ہے دین جو خم کے پیام سے
مشکل میں ہو کبھی تو بلانا علی کو بس
مشکل پناہ لیتی ہے حیدر کے نام سے
اب کیا بتائوں آپ کو ہم کیوں نہ مِٹ سکے
ہم کو ملی حیات جو کوثر کے جام سے
اُن کی رضا ملے مجھے تو سب تمام ہے
باقر کیا ہے قصد یہ اپنے کلام سے

0
96