مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا
اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا
اس گل زمیں سے اب تک اگتے ہیں سرو مائل
مستی میں جھکتے جس پر تیرا پڑا ہے سایا
یکساں ہے قتل گہ اور اس کی گلی تو مجھ کو
واں خاک میں میں لوٹا یاں لوہو میں نہایا

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


1
77
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ
ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگِ گردن جلا
بدر ساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ
ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
135
خواب میں تو نظر جمال پڑا
پر مرے جی ہی کے خیال پڑا
وہ نہانے لگا تو سایۂ زلف
بحر میں تو کہے کہ جال پڑا
میں نے تو سر دیا پر اے جلاد
کس کی گردن پہ یہ وبال پڑا

فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلن


0
36
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا
سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھاؤ پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں
دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتدادِ مدتِ ہجراں بیاں کروں
ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
66
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
دل نے ہم کو مثال آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا

فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلن


50
سخن مشتاق ہے عالم ہمارا
غنیمت ہے جہاں میں دم ہمارا
رہے ہم عالمِ مستی میں اکثر
رہا کچھ اور ہی عالم ہمارا
بہت ہی دور ہم سے بھاگتے ہو
کرو ہو پاس کچھ تو کم ہمارا

مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن


0
167
کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا
اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا
تھا جسم کا ترک اولیٰ ایام میں پیری کے
جاتا تھا چلا ہر دم جامہ بھی پرانا تھا
ہر آن تھی سرگوشی یا بات نہیں گاہے
اوقات ہے اک یہ بھی اک وہ بھی زمانہ تھا

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


0
44
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے
جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


0
49
عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دلِ پر خوں کی اک گلابی سے
جی ڈھہا جائے ہے سحر سے آہ
رات گذرے گی کس خرابی سے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
68
ایسی گلی اک شہرِ اسلام نہیں رکھتا
جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا
آزار نہ دے اپنے کانوں کے تئیں اے گل
آغاز مرے غم کا انجام نہیں رکھتا
ناکامیِ صد حسرت خوش لگتی نہیں ورنہ
اب جی سے گذر جانا کچھ کام نہیں رکھتا

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


106
دیوانگی میں مجنوں میرے حضور کیا تھا
لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا
گردن کشی سے اپنی مارے گئے ہم آخر
عاشق اگر ہوئے تھے ناز و غرور کیا تھا
غم قرب و بعد کا تھا جب تک نہ ہم نے جانا
اب مرتبہ جو سمجھے وہ اتنا دور کیا تھا

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


119
نکلے چشمہ جو کوئی جوشِ زناں پانی کا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
لطف اگر یہ ہے بتاں صندلِ پیشانی کا
حسن کیا صبح کے پھر چہرئہ نورانی کا
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے
حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
27
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دلِ ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورِ نشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
77
مجھ کو محصور کیا ہے مری آگاہی نے
میں نہ آفاق کا پابند، نہ دیواروں کا
میں نہ شبنم کا پرستار، نہ انگاروں کا
اہلِ ایقان کا حامی نہ گنہگاروں کا
نہ خلاؤں کا طلب گار، نہ سیّاروں کا
☆☆☆

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
159
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
165
آئی ہے اُس کے کُوچے سے ہوکر صبا کُچھ اور
کیا سر میں خاک ڈالتی ہے اب ہَوا کُچھ اور
تدبِیر دوستوں کی مجھے نفع کیا کرے
بیماری اور کُچھ ہے کریں ہیں دوا کُچھ اور
مستان ِعِشق و اہلِ خرابات میں ہے فرق
مے خوارگی کُچھ اور ہے یہ نشّہ تھا کُچھ اور

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
38
مُوئے مِژگاں سے تِرے سینکڑوں مرجاتے ہیں
یہی نشتر تو رگِ جاں میں اُتر جاتے ہیں
حرم و دیر ہیں عُشاق کے مُشتاق مگر
تیرے کوُچے سے اِدھر یہ نہ اُدھر جاتے ہیں
کوچۂ یار میں اوّل تو گُزر مُشکل ہے
جو گُزرتے ہیں زمانے سے گُزر جاتے ہیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
149
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
مِلا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا
جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے
تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دو پہر کی زردیاں
اب آئینے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا

مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن


203
کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے
غمِ دل مرے رفیقو غمِ رائیگاں نہیں ہے
کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک سو و ہ مہرباں نہیں ہے
کسی آنکھ کو صدا دو کسی زلف کو پکار و
بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

فَعِلات فاعِلاتن فَعِلات فاعِلاتن


0
95
یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شبِ سست موج کا ساحل

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


140