بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
نہ گھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر
اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
183
دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو
اور پھر خود ہی ہوا دوں اس کو
جو بھی ہے اس کو گنوا بیٹھا ہے
میں بھلا کیسے گنوا دوں اس کو
تجھ گماں پر جو عمارت کی تھی
سوچتا ہوں کہ میں ڈھا دوں اس کو

فاعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
343
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا
اسے صبحِ ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
167
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں
زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں
خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں
مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
386
اے فنا انجام انساں کب تجھے ہوش آئے گا
تیر گی میں ٹھوکریں آخر کہاں تک کھائے گا
اس تمرد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا
کیا کرے گا سامنے سے جب حجاب اٹھ جائے گا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا
☆ ☆ ☆

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
430
کیا شعلۂ طرّار وہ اللہُ غنی ہے
کیا لرزشِ تابندگیِ سیم تنی ہے
رشکِ مہِ کنعاں ہے غزالِ خُتنی ہے
افشاں ہے کہ آمادگیِ دُر شکنی ہے
تاروں میں بپا غلغلۂ سینہ زنی ہے
کیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


1
577
نہ وہ راتیں نہ وہ باتیں نہ وہ قصّہ کہانی ہے
فقط اک ہم ہیں بستر پر پڑے اور ناتوانی ہے
بھلا میں ہاتھ دھو بیٹھوں نہ اپنی جان سے کیوں کر
خرام اس کے میں اک آبِ رواں کی سی روانی ہے
تو یوں بے پردہ ہو جایا نہ کر ہر ایک کے آگے
نیا عالم ہے تیرا اور نئی کافر جوانی ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


1
1738
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر ِخامہ نوائے سروش ہے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
498
رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
پھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت
جگر کو مرے عشقِ خوں نابہ مشرب
لکھے ہے 'خداوندِ نعمت سلامت'
علیَ اللّرغمِ دشمن، شہیدِ وفا ہوں
مبارک مبارک سلامت سلامت

فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن


1
504
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
مِلا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا
جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے
تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دو پہر کی زردیاں
اب آئینے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا

مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن


3
2053
کوئی دن گر زندگانی اور ہے
اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں
سوزِ غم ہائے نہانی اور ہے
بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں
پر کچھ اب کے سر گرانی اور ہے

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


1
2327
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا، مگر، بہ تنگیِ چشمِ حُسود تھا
آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


1
1978
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا
یہی تو ہیں دو ستُونِ محکم انہی پہ قائم ہے نظمِ عالم
یہی تو ہے رازِ خُلد و آدم ،نگاہ میری، شباب تیرا
صبا تصدّق ترےنفس پر ،چمن ترے پیرہن پہ قرباں
شمیمِ دوشیزگی میں کیسا بسا ہوا ہے شباب تیرا

مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن


2
1473
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے"
ہوں کش مکشِ نزع میں ہاں جذبِ محبّت
کچھ کہہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم
آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


2
1004
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کا لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا زنجیر پڑی دروازے پر
کیوں رات گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانہ کیا

بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف


2
1541
عجب گھڑی تھی
کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی
چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو بلا رہے تھے
مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا
نظر میں اک اور ہی جہاں تھا
نئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوں

مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن


4
1032
چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں
لیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں
عمر ہے فانی عمر ہے باقی اس کی کچھ پروا ہی نہیں
تو یہ کہہ دے وقت لگے گا کتنا آنے جانے میں
تجھ سے دوری دوری کب تھی پاس اور دور تو دھوکا ہیں
فرق نہیں انمول رتن کو کھو کر پھر سے پانے میں

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


2
460
ستم سکھلائے گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا
صنم دکھلائيں گے راہِ خدا، ایسے نہیں ہوتا
گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں
مرے قاتل حسابِ خوں بہا ، ایسے نہیں ہوتا
جہانِ دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
یہاں پیمانِ تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


2
1825
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
پلک جھپکتے، ہَوا میں لکیر ایسا تھا
اُسے تو، دوست کے ہاتھوں کی سُوجھ بوجھ ، بھی تھا
خطا نہ ہوتا کسی طور، تیر ایسا تھا
پیام دینے کا موسم، نہ ہم نوا پاکر !
پلٹ گیا دبے پاؤں ، سفیر ایسا تھا

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


2
1383
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


1
2774