کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دلِ غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوئے چشمکِ انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن
ہونٹوں پہ مرے جب نفسِ باز پسیں تھا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
1
542
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا
القصہ میر کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے
افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہوکر زخمِ رسا سے اس کے
سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


1
164
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا
جی کا جانا ٹہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا
عشق کیا سو دین گیا ایمان گیا اسلام گیا
دل نے ایسا کام کیا کچھ جس سے میں ناکام گیا
ہائے جوانی کیا کیا کہیے شور سروں میں رکھتے تھے
اب کیا ہے وہ عہد گیا وہ موسم وہ ہنگام گیا

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


2
314
مفت آبروئے زاہدِ علامہ لے گیا
اک مغبچہ اتار کے عمامہ لے گیا
داغِ فراق و حسرتِ وصل آرزوئے شوق
میں ساتھ زیر خاک بھی ہنگامہ لے گیا
پہنچا نہ پہنچا آہ گیا سو گیا غریب
وہ مرغ نامہ بر جو مرا نامہ لے گیا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


3
224
افسوس شراب پی رہا ہوں تنہا
غلطاں بہ سبو تمام خونِ فن ہا
ٹھٹھری ہوئی ساغر میں نظر آتی ہے
صہبا رضیَ اللہ تعالیٰ عنہا

6
143
مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا
اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا
اس گل زمیں سے اب تک اگتے ہیں سرو مائل
مستی میں جھکتے جس پر تیرا پڑا ہے سایا
یکساں ہے قتل گہ اور اس کی گلی تو مجھ کو
واں خاک میں میں لوٹا یاں لوہو میں نہایا

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


1
114
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ
ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگِ گردن جلا
بدر ساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ
ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
360
خواب میں تو نظر جمال پڑا
پر مرے جی ہی کے خیال پڑا
وہ نہانے لگا تو سایۂ زلف
بحر میں تو کہے کہ جال پڑا
میں نے تو سر دیا پر اے جلاد
کس کی گردن پہ یہ وبال پڑا

فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلن


0
72
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا
سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھاؤ پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں
دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتدادِ مدتِ ہجراں بیاں کروں
ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
124
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
دل نے ہم کو مثال آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا

فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلن


124
سخن مشتاق ہے عالم ہمارا
غنیمت ہے جہاں میں دم ہمارا
رہے ہم عالمِ مستی میں اکثر
رہا کچھ اور ہی عالم ہمارا
بہت ہی دور ہم سے بھاگتے ہو
کرو ہو پاس کچھ تو کم ہمارا

مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن


0
396
کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا
اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا
تھا جسم کا ترک اولیٰ ایام میں پیری کے
جاتا تھا چلا ہر دم جامہ بھی پرانا تھا
ہر آن تھی سرگوشی یا بات نہیں گاہے
اوقات ہے اک یہ بھی اک وہ بھی زمانہ تھا

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


0
125
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے
جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


0
87
عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دلِ پر خوں کی اک گلابی سے
جی ڈھہا جائے ہے سحر سے آہ
رات گذرے گی کس خرابی سے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
150
ایسی گلی اک شہرِ اسلام نہیں رکھتا
جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا
آزار نہ دے اپنے کانوں کے تئیں اے گل
آغاز مرے غم کا انجام نہیں رکھتا
ناکامیِ صد حسرت خوش لگتی نہیں ورنہ
اب جی سے گذر جانا کچھ کام نہیں رکھتا

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن


259
دیوانگی میں مجنوں میرے حضور کیا تھا
لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا
گردن کشی سے اپنی مارے گئے ہم آخر
عاشق اگر ہوئے تھے ناز و غرور کیا تھا
غم قرب و بعد کا تھا جب تک نہ ہم نے جانا
اب مرتبہ جو سمجھے وہ اتنا دور کیا تھا

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


275
نکلے چشمہ جو کوئی جوشِ زناں پانی کا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
لطف اگر یہ ہے بتاں صندلِ پیشانی کا
حسن کیا صبح کے پھر چہرئہ نورانی کا
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے
حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
65
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دلِ ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورِ نشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
325
مجھ کو محصور کیا ہے مری آگاہی نے
میں نہ آفاق کا پابند، نہ دیواروں کا
میں نہ شبنم کا پرستار، نہ انگاروں کا
اہلِ ایقان کا حامی نہ گنہگاروں کا
نہ خلاؤں کا طلب گار، نہ سیّاروں کا
☆☆☆

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


423
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


564