پھیلا ہے اسی شام کا منظر مرے آگے
جب نرم اندھیرے ہوۓ پتھر مرے آگے
حالات وہی تو وہی امید بھی تجھ سے
دشمن مرے پیچھے ہے سمندر مرے آگے
اک عمر سے پھر جاگتی آنکھوں کے مرے خواب
پیچھے مرے رہتے ہیں یا اکثر مرے آگے
کوشش کا مکلف ہوں ، مجھے اس سے غرض کیا
بنتا کہ بگڑتا ہے مقدر مرے آگے
اتنے ہیں علم خواب زمینوں پہ لگانے
ہاں ہیچ ہے اس میں تو سکندر مرے آگے
ابلاغ ذرائع یہ روا بط و تعلق
رکھا ہے پھر اس دور نے ممبر مرے آگے
ارشد میں یہ سمجھا تھا گیا دار کا موسم
آیا ہے وہی وقت گزر کر مرے آگے

37
1115
سبحان اللہ سبحان اللہ۔کیا کہنے سر

0
حضرت بڑی نوازش عزت افزائ - شکریہ

0
ابلاغ ذرائع یہ روابط و تعلق
رکھا ہے پھر اس دور نے ممبر مرے آگے

بہتر ترین شعر۔۔۔

آپکا ادنیٰ قدر دان اور ریختہ کا شاگرد

0
بہت خوب جناب

0
بہت اعلی بھائی جان
ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن سے آپ کو داد دی جاۓ۔
بہت خوب بھائی جان

0
حضرت کیوں شرمندہ کر رہے ہیں - اصل میں میں اپنے کلام کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اسکو کہیں لکھوں یہ بھی میں نے اس لیے شائع کی تھی کہ میں دیکھنا چاہتا تھا یہ فیچر کیسے کام کرتا ہے

سر ارشد میری ایک غزل پر تبصرہ فرما دیں۔ نوازش ہوگی

0
https://www.aruuz.com/poetry?id=2uChn0POuJx6oubXuL9o
سلام وعلیکم ۔
بھائی جان میری یہ غزل دیکھ کے بتائیں بہتری آئی ہے کہ نہیں۔نہیں۔شکریہ

0
خوبصورت کلام۔۔۔۔ کیا کہنے

0
https://www.aruuz.com/message?id=C0OVjygaJ9bFjAiZN2Sb#FEgPRSI5D29IWRQymzCamRELJ98d0y

میری غزل پہ تبصرہ کیجیے ارشد صاحب

0
https://www.aruuz.com/message?id=C0OVjygaJ9bFjAiZN2Sb#rG9DmulRTvzfQ2zfPwcDgk7ETel7RY
ارشد صاحب اس کا جواب دے دیجیے ۔ بہت شکریہ ❤️

0
جی دے دیا - شکریہ

محترم ارشد صاحب ! میں نے آپ کا تبصرہ پڑھا ، اپنی غزل کے نیچے اور اپنی غلطیاں بھی جان لیں آپ سے گزارش ہے کہ مجھے شکست ِِماورا کے بارے میں بتا دیجیے ، اور میری شاعری کی بہتری اور اصلاح کے لیے کن کن باتوں کا دھیان رکھنا ہوگا اور کن کتابوں کو پڑھنا ہوگا اس میں بھی رہنمائی کردیں ، خدا کا شکر ہے وقت پہ مجھے آپ جیسے استاد مل گئے ،
یہ میرا نمبر ہے عنایت ہوگی کہ مجھ سے WhatsApp پہ جر جائیں تاکہ باآسانی میں آپ سے رہنمائی کر سکو ۔ آپ کا بہت ممنون ہوں ❣️❣️03349372417

مجھے اس پہ میسج کردیجیۓ گا شکریہ ❤️

0
بہت شکریہ جناب ! ایک بات عرض کرتا چلوں کہ مجھے لکھتے ہوئے ابھی صرف 6 ماہ ہوئے ہیں اور اپنے دم سے عروض سیکھے ہیں باقی آپ کو میں استاد کی حیثیت دیتا ہوں کیوں کہ آپ نے کافی مدد دی ہے مجھے بتا دیجیے کہ میل کس طرح کرتے ہیں مجھے کرنا نہیں آتا بہت شکریہ

0
بسمل یاد رکھیۓ- ؑ عروض سکیھ کر وزن میں شاعری کرنا تو پہلا درجہ ہے - اس سے آپ کا کلام شعر کہلاۓ گا مگر شعر بننے کا عمل اسکے بعد شروع ہوتا ہے-۔

https://www.aruuz.com/?user=officialabdulber@gmail.com
اس پہ رہنمائی فرمادیجے

0
شکستِ ناورا کی سمجھ نہیں آئی ، مثال سے بتا دیں

0

0
بہت خوب محترم ۔۔۔ ماشاءاللہ
کیا آپ نے مرزا غالبؔ صاحب کی غزل کا وزن استعمال کیا ہے؟؟؟

0
آیا ہے وہی وقت گزر کر مرے آگے
بہت خوب،،، بہت خوب

0
اسلام علیکم جناب!
خاکسار کی درخواست ہے کہ براہ کرم اصلاح فرما دی جائے۔۔
https://www.aruuz.com/poetry?id=3AZwvD4e22yj3SGU3J4g
خاکسار آپ کا بے حد ممنون ہو گا۔ جنابِ عالی مقام!

0
اسلام علیکم جناب!
خاکسار کی درخواست ہے کہ براہ کرم اصلاح فرما دی جائے۔۔
https://www.aruuz.com/poetry?id=3AZwvD4e22yj3SGU3J4g
خاکسار آپ کا بے حد ممنون ہو گا۔ جنابِ عالی مقام!

0
سر میں نے اپنی گذارشات اس غزل کے تبصرے میں لکھ دی ہیں
خود کو خاکسار لکھ کر ہم کو شرمسار نہ کریں
"اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں " :)

جناب یہ آپ کا بڑا پن ہے۔

0
ما شاء اللہ
بہت خوب ?

0
شاید کتابت میں سہو کی وجہ سے ” مِنبر” کو ممبر لکھ دیا

0
واہ کمااااال است

0
ماشآاللہ بہت خوب غزل ہے اور وہ بھی غالب کی زمین میں

پلیز ذرا وضاحت فرمائیں کہ اس کا کیا مطلب ہے
اتنے ہیں علم خواب زینوں پہ لگانے

پیشگی شکریہ

0
یہ شعر یوں تھا
اتنے ہیں علم خواب زمینوں پہ لگانے
ہاں ہیچ ہے اس میں تو سکندر مرے آگے

- عَلم کا مطلب ہے جھنڈا - تو میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جس طرح سکندرِ اعظم نے دنیا کی زمینوں پر اپنے جحنڈے گاڑے تھے ویسے ہی میرے پاس اتنے زیادہ خواب ہیں کہ میں ان خوابوں کی زمینوں پر اپنے جھنڈے گاڑنا شروع کروں تو سکندر بھی اس کے آگے ہیچ پڑ جائیاگا۔

0
ماشآآللہ

0
ماشاءاللہ بہت شاندار غزل ہے
مگر ابلاغ ذرائع والا مصرع بے بحر ہے

روابط وتعلق میں "ط" اور "واو" پر غور کریں
مزید یہ کہ ذرائع ابلاغ کا الٹا ابلاغ ذرائع کا استعمال بھی محل نظر ہے۔
اور علم خواب والے شعر میں دونوں مصرعوں میں لفظی تعلق معلوم نہیں ہو رہا ہے مفہوم صحیح ہے البتہ الفاظ کا ہیر پھیر ضروری ہے۔

اور نرم اندھیرے اور پتھر کا تعلق؟
دار کا موسم؟

0

مگر ابلاغ ذرائع والا مصرع بے بحر ہے
--- اس غزل کی بحر ہے "مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن" یہ مصرع اس پر پورا اترتا ہے لہذا بے بحر نہیں ہے - آپ شائد لفظ ذرائع کی تقطیع غلط کر رہے ہوں گے -

روابط وتعلق میں "ط" اور "واو" پر غور کریں
--- غور کر لیا - کچھ غلط نہیں نظر آہا

مزید یہ کہ ذرائع ابلاغ کا الٹا ابلاغ ذرائع کا استعمال بھی محل نظر ہے۔
-- جی مگر یہ استعمال جائز ہے لہٰذا مصرعے کی بناوٹ کے پیشِ نظر درست ہے -

اور علم خواب والے شعر میں دونوں مصرعوں میں لفظی تعلق معلوم نہیں ہو رہا ہے مفہوم صحیح ہے البتہ الفاظ کا ہیر پھیر ضروری ہے۔
-- یہ شعر تلمیح ہے اور تلمیح سمجھنے کے لیئے واقعہ سے واقف ہونا ضروری ہوتا ہے - جس طرح سکندر نے بے شمار زمینیوں پہ جھنڈے گاڑھے تھے اسی طرح شاعر کو خواب زمینوں پر اتنے جھنڈے گاڑھنے ہیں کہ سکندر بھی ہیچ ہے -

اور نرم اندھیرے اور پتھر کا تعلق؟
نرمی نرم ہوتی ہے اور پتھر سخت - یہ دو متضاد چیزیں ہیں - نرم اندحیرا لطاٖفت لاتا ہے مگر شاعر کہہ رہا ہے وہ سختی لایا تھا- نرم اور سخت یعنی پتھر کی لفظی مطابقت ذہن میں رکھیں-

دار کا موسم؟
اگر آپ جدید شاعری پڑھیں گے جیسے فیض اور فراز تو آپ کو یہ اصطلاح سمجھ میں آ جائیگی ٓ یہ معاصرانہ اصطلاح ہے

شکریہ -

0

ابلاغ۔۔۔۔۔۔مفعول
ذرائع۔۔۔۔۔۔مفاعی
یہ۔۔۔۔۔۔۔ل
روابط۔۔۔۔۔۔۔مفاعی (ط کا ساکن ہونا لازمی ہے بحر کی سلامتی کے لئے آپکے مصرع میں متحرک ہے۔)
ل۔۔۔۔۔و
تعلق۔۔۔۔فعولن

ابلاغ ذرائع یہ روابط یہ تعلق۔
یوں ہو جائیے تو بہتر ہے۔




0
جناب آپ کی تقطیع میں آپ ایک بات بھول رہے ہیں

پہلا رکن ہے مفولُ - یہاں لام متحرک ہے اس کو آپ نے ابلاغ کے برابر مان لیا ہے حالانکہ ابلاغ میں غ ساکن ہے
کیوں؟؟ اس لیئے کہ قاعدے کے مطابق جب آپ کسی ساکن پہ رکتے نہیں ہیں تو وہ متحرک ہوجاتا ہے لہٰذا یہ صحیح ہوا-
بالکل اسی طرح روابط بھی ہے - روابط کی بھی تقتیع مفاعی صحیح ہوگی کیوںکہ آپ اس پر بات ختم نہیں کر رے ہیں -
یہ اصول اگر نظر انداز کر دیں گے تو پھر تو بڑے بڑے شعر بے بحر ہو جائیں گے - آپ اس پہ خود تحقیقات کر لیجیئے- ساکن کے مقابل ساکن کا کلیہ صحیح ہے جیسے صبر فَع ل ہے - یہاں آپ کا ب ساکن ہونا چاہیئے -

باقی آپ کی یہ بات میں مان سکتا ہوں کہ و کے بجاۓ یہ کر دیا جاے تو مصرعہ اور رواں ہو جائے گا - مگر و بھی غلط نہیں ہے -

0
ابھی آپ کی نعت دیکھی - اس میں آپ نے خود بھی یہی کلیہ استعمال کیا ہے
آپ کا مصرعہ ہے
نبی کی ذات پہ ایمان جو بھی رکھتے ہیں
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مفاعلن --- نبی کی ذا
فعلاتن ----- ت پہ ایما
مُفاعلن ----- ن جو بھی رکھ

یہاں آپ نے مفا کے میم جو کہ متحرک ہے ، کے مقابل ایمان کا نون رکھا ہے کو کہ ساکن ہے -
کیوں؟؟
بالکل اسی کلیئے سے جو میں نے اوپر لکھا ہے

0
چناب ارشد صاحب!

ابلاغ میں یا ہماری نعت میں کلیہ الگ ہے یہاں مسئلہ کچھ اور ہے۔۔

اردو میں عطف ومعطوف کو پڑھنے کا یہ طریقہ نہیں ہے جو مصرع میں ہے۔ شجروحجر ،برگ وثمر میں شجر کی" ی "اور برگ میں" گ" ساکن نہیں ہیں متحرک پڑھے جاتے ہیں۔

اب آپ روابط وتعلق کی ترکیب کو ملاحظہ فرمائیں۔

آپ کی تقطیع کے حساب سے ط ساکن ہو رہا ہے جو کہ عطف ومعطوف کے پڑھنے کے قاعدہ کے خلاف ہےجس پرآپ اوپر والے قاعدہ کلیہ کا انطباق فرما رہےہیں۔










0
شائد میں اب آپ کی بات سمجھا ہوں -
آپ واو عطف کی بات کر رہے ہیں تو آپ کی بات بالکل صحیح ہے اس کو اپنے پچھلے والے لفظ پہ پیش لگا کر تقطیع کرتے ہیں - تو یہ واو جب روابط کے آخر کے ط پہ لگے گا تو اسے متحرک کر دے گا اور تقطیع کچھ ایسے ہوگی

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
اِبْ لا غ ذ را ئع ی ر وا بط طُ تَ عَلْ لَق

بط ایک بار عی کے برابر ہوگا اور ایک بار واؤ عطف کے - اسے دو دفعہ پڑھنا پڑے گا-
یہی تقطیع آپ اس ویب سائٹ پہ بھی دیکھ سکتے ہیں - لہٰذا میرا نکتہ نظر یہی ہے کہ یہ صحیح ہے

0