Circle Image

سید ہادی علی

@hadiali05

بے نور دل کو نور کا رستہ انہی سے ہے
اور جستجوۓ حق کا وسیلہ انہی سے ہے
-
عرشِ بریں پہ ذکرِ محمدؐ بلند ہے
فرشِ زمیں پہ عشق کا چرچا انہی سے ہے
-

0
18
چلو اک کام کرتے ہیں
نیا آغاز کرتے ہیں
تمہاری یاد کے بوجھل، تھکے لمحوں کی دہلیزوں پہ
جو برسوں پڑی ہے گردِ ہجراں کی اداسی سی
اُسے خاموش ہاتھوں سے ذرا ہلکا سا کرتے ہیں
وہی بوسیدہ وعدے جو زمانوں سے بکھر بیٹھے

64
شکستِ شب کا نوید نامہ، طلوعِ امکاں لہو کے قطرے
مٹا رہے ہیں فریبِ سلطاں، غرورِ ایواں لہو کے قطرے
نشانِ سوزِ نہاں، دلیلِ شکستِ ایواں لہو کے قطرے
نوائے محشر، صدائے بیدادِ اہلِ عصراں لہو کے قطرے
شکستہ تیغوں کی آبرو ہیں، جلالِ میداں لہو کے قطرے
سپہرِ ظلمت پہ بن کے اُبھرے شہابِ تاباں لہو کے قطرے

76
ہیں کرم کی انتہا مولا علیؑ
صاحبِ جود و سخا مولا علیؑ
جب بھی ٹوٹا حوصلوں کا حوصلہ
حوصلوں نے تب کہا مولاعلیؑ
آپؐ کے شانوں پہ چڑھ توڑے صنم
رتبوں کی ہیں انتہا مولا علیؑ

51
"وہ ماہرِ زبان و بیاں ماہرِ سخن"
ہر دل عزیز ہے وہی ہر دل کی ہے لگن
انداز ہے کمال تو گفتار پر کشش
کھلتی ہے اس جہان پہ لہجے کی بانکپن
کرتا ہے اپنے علم سے روشن جہان کو
وہ میرِ کاروان وہی میرِ انجمن

80
عجب پاگل سی لڑکی ہے،
کبھی ہنستی، کبھی روتی،
کبھی خاموش رہتی ہے،
کبھی باتوں میں وہ کہتی،
کہ جیسے دل کے جنگل میں
کوئی معصوم تتلی ہو۔

306
شاعرِ عصر کی تخلیق کا انداز ہے اور
یہ بھی اک رنگِ تغیر کا فسوں ہے یوں ہے

109
وہ مہرِ علم و حکمت و تدبیر، ہے قدیرؒ
آغوشِ علم و فن کا قلم گیر، ہے قدیرؒ
میدانِ عقل و فکر کا فرزانۂ جلال
اک فلسفہ نما، شہِ تعبیر، ہے قدیرؒ
وہ نوحہ خواںِ زخمِ وطن، محسنِ جہاں
جو بن گیا ہے قوم کا دلگیر، ہے قدیرؒ

139
چہرہ ہے کہ تفسیرِ تجلی کی عبارت
آنکھیں ہیں کہ قرآن کے اسرارِ طہارت
ماتھا ہے کہ اللہ کی وحدت کا اشارہ
لب ہیں کہ نزولِ سخنِ حق کی صدارت
اک نام ترے ذکر سے آباد زمانہ
اک ذکر ترے دم سے ہے تسکینِ فسانہ

80
گزرتی ہے اب تو شبِ ہجر کچھ یوں
کہ لیتے ہیں عشاق خلوت میں سیلفی

95
سینے میں جلے تھے خواب کئی
ماتم کی صدا تھی، رات بھری
وہ جسم پڑے تھے مقتل میں
اور جشن ہوا
چل ہاتھ ملا
توپوں کی صدا میں مر گئے گل

0
72
تو روک سکے گا نہ کبھی موجِ رواں کو
ہم اہلِ وفا سیلِ قیامت بھی بہا دیں
آئے گا اگر حرف کوئی نامِ وطن پر
پھر خون سے ہم ریت پہ کربل بھی سجا دیں

98
موجوں کی داستاں کو نگاہوں سے پڑھ گیا
اک فرد تھا، سکوتِ سمندر سے ہم کلام

3
1065
دستِ فقیر میں ہے ضیائے فلک کا راز
مزدور، سرمہ سازِ نگاہِ شگفتہ ساز
مٹی سے جگمگاتے ستارے بنا گیا
وہ خاک پوش، صاحبِ لوح و قلم کا ناز

184
دریا کو جو روکے گا وہ دریا میں بہےگا
تاریخ کا ہر حرفِ گواہ بول رہا ہے

83
لہو میں ڈوبتے بچے، جلے کتبے، جفا کا راج
فغاں میں ڈھل گئی مسجد، ندا میں کھو گیا اعراج
زمیں پہ کربلا ہر صبح بنتی ہے نئی صورت
خدا کی بستیوں پر ہے عدو کا خنجرِ معراج

3
175
کرتی ہے قضا وار بھی چھپ چھپ کے علیؑ پر
ہمت ہی نہیں اس میں کہ دیکھے رخِ حیدر

80
عجیب رت کے عجیب دن ہیں
نہ صبح روشن، نہ شام باقی
نہ خواب پیاسے، نہ نیند گہری
نہ چاند چمکے، نہ رنگ بولے
کبھی ہواؤں میں تیرتے ہیں
سراب لمحے، سرود جیسے

115
جو نفرت کو مٹاتا ہے اسے استاد کہتے ہیں
محبت جو سکھاتا ہے اسے استاد کہتے ہیں
کہ پڑھ لینا ، سنا دینا ہنر سب کا ہے اے لوگو
جو ذہن و دل پہ چھاتا ہے اسے استاد کہتے ہیں
قلم سے تخت چھینیں یا کہ تقدیریں بنا ڈالیں
جو دنیا کو ہلاتا ہے اسے استاد کہتے ہیں

105
کچھ ہو خزاں بہار لگا ئیں گے قہقہے
کر کر کے غم شمار لگا ئیں گے قہقہے
پیغام لاۓ گا جو فر شتہ بھی موت کا
تک کر اسے ہزار لگا ئیں گے قہقہے
غلبہ دکھوں کا ہو کیا اداسی میں کاٹ دیں
دل ہوگا بے قرار لگا ئیں گے قہقہے

140
نیند آنکھوں میں ناآئے دل میں ناآئے خوشی
اب تو ہر سو خاک ہے یاں بھاڑ میں جا ئے خوشی
لٹ گئے سارے اجالے چین رخصت ہو گیا
بعد تیرے اس شہر میں ہم کو نا بھائے خوشی
پھول وہ معصوم تھے جن سے جہاں آباد تھا
قتل کرکے ان کو ظالم کہتا ہے ہا ئے خوشی

76
مفلس بھوکا ننھا بچہ
اک روٹی لے کر بھا گا ہوٹل سے
سب کے سب ہوٹل والے
اسکے پیچھے پیچھے
میں نے سوچا
اربوں ڈالر چوری کرنے والے

89
آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان ہے
اس پہ تو قربان میری جان ہے

85