Circle Image

اسامہ گلزار | Usama Gulzar Poetry

@UsamaGulzar

Usama Gulzar Poetry | اسامہ گلزار کی شاعری

اپنے ہاتھ میں لے کر بینر
عورت کیوں نکلے سڑکوں پر
اس سب کی نوبت کیوں آئے
حق نہ ملے کیوں اس کو گھر پر
کیوں کوئی اس کو مارے پیٹے
اس پر ظلم کرے کیوں شوہر

0
5
کبھی تو مِرا یوں تو تھا بھی نہیں
مگر اس قدر تھا جدا بھی نہیں
مری عقل کہتی ہے اب بھول جا
مگر دل اسے بھولتا بھی نہیں
محبت اسے مل گئی ہے نئی
سو اب وہ مجھے دیکھتا بھی نہیں

0
1
ابھی تک مرے ساتھ یادیں ہیں اس کی
ابھی تک اسے میں نے کھویا نہیں ہے
ابھی اس کے ہاتھوں پہ مہندی ہے میری
ابھی اس نے ہاتھوں کو دھویا نہیں ہے

0
4
تہذیب وہ مغرب کی ہمارا ہے تقاضا
کالج کی عمارت بنی فیشن کا پلازہ
گوروں کی ثقافت سے محبت ہے سبھی کو
خاموش کرا دیتے ہیں سب ہم کو لہذا
گورے کی غلامی کی طرف پھر سے چلے ہیں
حتیٰ کہ وہ پہلے بھی زخم اپنے ہیں تازہ

0
6
اس شہر میں ہمارے کوئی راز دار ہوں
گتنی میں چاہے کم ہوں مگر غم گسار ہوں
ہم کو نہیں پسند کوئی بھی ترے سوا
تجھ سے حسین چاہے یہاں بے شمار ہوں
اک بے وفا ہمارے نگر میں ہے آگیا
عاشق مزاج لوگ سبھی ہوشیار ہوں

0
3
یوں بھی نہیں ہے کہ محفل میں تُو نہیں ہوتی
تری مگر ہم سے گفتگو نہیں ہوتی
ہمارے بارے میں پوچھتی ہو غیروں سے
مگر ہمارے ہی روبرو نہیں ہوتی
یہ چشمِ نم بھی کچھ تو پیام دیتی ہے
فقط لبوں سے تو گفتگو نہیں ہوتی

0
3
جو اردو زباں کا سخن کار ہوں میں
ستاروں سے بڑھ کے چمکدار ہوں میں
نہیں کوئی سرحد مری روشنی کی
سو سب کہہ رہے ہیں کہ غدار ہوں میں
جہاں میں نہیں ہے کوئی میرے جیسا
کہ فصلِ خزاں میں ثمربار ہوں میں

0
8
ترا دل کیوں سمجھتا ہے
کہ دنیا جاودانی ہے
تماشہ کچھ دنوں کا ہے
یہ سب کچھ اک کہانی ہے
مرے بھائی سمجھ جاؤ
یہ دنیا کھیل فانی ہے

16
ہمارے میں آج اک عجب فاصلہ تھا
مرے سامنے ہو کے مجھ سے جدا تھا
نہ کچھ کہہ سکا وہ نہ کچھ کہہ سکا میں
وہ مجھ سے خفا تھا میں اس سے خفا تھا
اگرچہ مرا بخت تھا رات جیسا
مگر یار تو بھی تو اک چاند سا تھا

0
33
لڑے گی زمینوں پہ اولاد تیری
کسی کو نہ ہوگی مگر یاد تیری
اٹھانا پڑے گا تجھے بوجھ اپنا
کوئی کر سکے گا نہ امداد تیری
اسامہ ابھی وقت ہے کر لو توبہ
سنے گا نہ تب کوئی فریاد تیری

0
16
بہت دور دنیا سے پردہ نشیں ہوں
میں مدفون مٹی کے نیچے کہیں ہوں
میں دنیا کے رنگوں میں کھویا ہوا تھا
مگر اب اندھیرے مکاں کا مکیں ہوں
سمجھ میں نہ آئی جہاں کی حقیقت
مرا وہم تھا میں بہت ہی ذہیں ہوں

14
ڈھونڈیں بھی اگر ہم تو پیارے نہیں ملتے
گرنے جو لگیں ہم تو سہارے نہیں ملتے
وہ لوگ جنہیں ہم نے تھی سینے میں جگہ دی
وہ لوگ گلے آج ہمارے نہیں ملتے
لاتا نہیں قاصد بھی خبر کوئی تمھاری
اور خط بھی ہمیں آج تمھارے نہیں ملتے

10
بے وفا سے نہ کچھ گلہ کرنا
چھوڑ جائے تو حوصلہ کرنا
وہ تمہیں جو بھلا چکا ہے تو
تم بھی اس کا نہ تذکرہ کرنا
دل لگانے سے قبل آ کے تم
ہم بے چاروں سے مشورہ کرنا

27
مجھے سیدھا رستہ دکھا میرے مولا
گناہوں سے مجھ کو بچا میرے مولا
یہ دنیا کے رنگوں کا بیمار دل ہے
تو اس دل کی کر دے دوا میرے مولا
فحاشی کی دنیا میں مجھ کو عطا کر
توں عثمان جیسی حیا میرے مولا

11
جو آیا وقتِ بیداری
تو تپھکی دے سلا ڈالا
مٹانا تھا جو غربت کو
غریبوں کو مٹا ڈالا
معیشت کو بڑھانا تھا
تو قیمت کو بڑھا ڈالا

23
سبھی آدم کے بیٹوں کو مرا پیغام دے دینا
اگر عزت لٹے میری انہیں الزام دے دینا
ہمارے جسم کے اوپر درندے جب لپکتے ہیں
ہماری آنکھ سے اشکوں کے موتی پھر ٹپکتے ہیں
ہماری عزتیں گلیوں میں ہی نیلام ہوتی ہیں
نہ ہو غلطی ہماری بھی تو ہم بدنام ہوتی ہیں

31
چاہے جتنا حسین ہوگا
وہ نہ ہم سا ذہین ہوگا
جس حسن پر ہے یہ تکبر
وہ بھی زیرِ زمین ہوگا
مجھ کو پتھر یہ کس نے مارا
کوئی تو ہم نشین ہوگا

21
لاکھوں ماؤں کے بیٹوں کا خون بہایا جاتا ہے
پھر جا کر یہ پیارا پاکستان بنایا جاتا ہے
پاکستان کی خاطر اپنا سارا مال لٹایا تھا
لیکن اب تو سال بہ سال یہ دیس لٹایا جاتا ہے
لالچ میں کرسی کے جنرل بھاگے بھاگے آتے ہیں
منصب کے چکر میں ایسا شور مچایا جاتا ہے

19
آؤ تمہیں سناؤں میں اک بابا جی کی بات
ظلم کیے تھے جس کے اپنے خوں نے اس کے ساتھ
جس اولاد کے واسطے اس نے جھیلے تھے صدمات
ایک کیے تھے جن کے واسطے اس نے دن اور رات
جب بابا جی پر آئے تھے بڑھاپے کے لمحات
بھول گئے بچے بھی اپنے والد کے مقامات

35
لگتی ہیں جیسے منڈی میں حیواں کی بولیاں
اب لگ رہی ہیں حضرتِ انساں کی بولیاں

17
میں جا رہا ہوں مجھ کو صدائیں نہ دیجیے
جاتے ہوئے کو تو یہ سزائیں نہ دیجیے
گر بے وفائی آپ سے میں نے ہے کی تو پھر
بدلے میں آپ بھی یہ وفائیں نہ دیجیے
مجھ کو مرے ہی حال پہ اب چھوڑ دیجیے
میں جل رہا ہوں مجھ کو ہوائیں نہ دیجیے

78
اپنا بھی نہیں ہوش اسے کام کے وقت
روٹی جو لے جانی ہے اسے شام کے وقت
دن بھر کی تھکن سے جو ہوا چور تو پھر
فٹ پاتھ پہ سوتا ہے وہ آرام کے وقت

30
عطا کر سمجھ مجھ کو قرآن کی
محمد پیارے کے فرمان کی
کفییت توں ایسی دے ایمان کی
چلے چال کوئی نہ شیطان کی
توں حالت بدل دلِ نادان کی
حیا مجھ کو دے دے تو عثمان کی

15
کوئی کیسے چھوڑ کے جائے گا
جب ساتھ کوئی آباد نہیں
وہاں کون کسی کو بھولے گا
جہاں کوئی کسی کو یاد نہیں

25
ہے آج کی تعلیم تو بربادی ہماری
جس نے فحاشی سے جوانوں کو نوازا
مخلوط اداروں کی یہ ہے کرم نوازی
تعلیم ہے کالج کی کہ غیرت کا جنازہ

31
یہاں روز تماشہ ہوتا ہے
پر حاکم چین سے سوتا ہے
یہاں عزت لوٹی جاتی ہے
پر شرم نہ ان کو آتی ہے
ہیں پٹیاں ان کی آنکھوں پر
اور سامنے ان کے اندھیرے ہیں

22
وہ گھر سے جو اپنے نکلنے لگے ہیں
تو حالات اپنے بدلنے لگے ہیں
خوشی سے ہم ایسے اچھلنے لگے ہیں
کہ جس طرح انڈے ابلنے لگے ہیں
سو اب ان کا ہر روز دیدار ہوگا
کہ دن اب ہمارے بھی ڈھلنے لگے ہیں

36
آنکھوں میں اسے اپنی بسایا بھی نہیں ہے
اپنا ہے مگر کوئی پرایا بھی نہیں ہے
کیوں تہمتیں سب لوگ لگانے بھی لگے ہیں
میں نے تو اسے پاس بٹھایا بھی نہیں ہے
اس شخص کے جانے کا مجھے خوف بہت ہے
جس شخص کو میں نے ابھی پایا بھی نہیں ہے

42
وہ رات بھر میرے لئے روتا رہا
میں بے خبر آرام سے سوتا رہا
بیٹھی رہی ٹی وی لگا کے صاحبہ
شوہر بے چارہ کپڑوں کو دھوتا رہا
گر یاد کرنا کامیابی ہے تو پھر
ہم سے زیادہ کامراں طوطا رہا

25
گلی سے پھر گزر گیا ہے بے وفا
نہ میرے گھر مگر گیا ہے بے وفا
کبھی کھڑا تھا تھک کے جن کی چھاؤں میں
وہ کاٹ سب شجر گیا ہے بے وفا
وفا کا عہد اس نے بھی کیا تھا پر
وہ عہد سے مکر گیا ہے بے وفا

96
اس قدر ظلم کر نہیں سکتے
کاٹ اپنے شجر نہیں سکتے
تہمتوں کا ہے خوف اتنا کہ ہم
اس گلی سے گزر نہیں سکتے
اس کی آنکھوں میں ڈوبنے والے
عمر ساری ابھر نہیں سکتے

32
سمجھ بھی رہے ہیں اشارے ہمارے
سمجھتے نہیں پھر بھی پیارے ہمارے
اگر وہ جنم دن پہ میرے نہ آیا
تو کس کام کے یہ غبارے ہمارے
میسر تمہیں ہیں بہت لوگ لیکن
فقط ایک تم ہو سہارے ہمارے

26
بے رخی سے کلام کر رہے ہو
عشق کا اختتام کر رہے ہو
میرے دل سے چلے گئے تھے تم
کس کے دل میں قیام کر رہے ہو
مدتوں بعد ملنے آیا ہوں
دور سے ہی سلام کررہے ہو

56