Circle Image

Altafkishtwari

@hussainaltaf

ہرطرف ہر نگر بے صدا بام و در
سبز خوابوں کا گھر بے صدا بام و در
رینگتی اب نہیں کاغذوں پر سطر
لفظ ہیں تر بتر بے صدا بام و در
آنکھیں خاموش ہیں گوش بر شور ہیں
لب تو ہلتے ہیں پر بے صدا بام و در

0
4
نہ تھم پائیں گے یہ بادل کبھی تم سے جدا ہوکر
ہَوا ہو جائے گی پاگل کبھی تم سے جدا ہوکر
یہ زیور عشق کے مٹی میں بھی محفوظ ہی ہونگے
نہ بن پائیں گے یہ پیتل کبھی تم سے جدا ہوکر
نہ چھو لیں گے کبھی لب سے تمہارے شوخ رنگوں کو
ہوا جب تھام لے آنچل کبھی تم سے جدا ہوکر

0
4
آنکھوں کا اشک ٹھہرا ہے ساغر میں ڈوب کر
سورج لہو لہو ہے سمندر میں ڈوب کر
جب کُرب ہجر کا بہا کاجل میں رات بھر
پھر نیند رہ گئی ہے مقدر میں ڈوب کر
ساحل پہ رہ گئی ہے کوئی لہر ٹوٹ کر
اُبھری تھی آنکھ سے دلِ مضطر میں ڈوب کر

0
9
درد سے خود دوائیں نکلیں گی
جسم سے جب قبائیں نکلیں گی
روشنی مٹھیوں میں قید کرو
اُنگلیوں سے شعائیں نکلیں گی
بے رخی سے جو پیش آو کبھی
ماں کے لب سے دعائیں نکلیں گی

0
4
ترے جانے سے بے کلی سی ہے
ایسا لگتا ہے کچھ کمی سی ہے
ترے بن کٹ رہی ہے عمر کی شام
جیسے بیوہ کی زندگی سی ہے
کون رہتا ہے دل کے شیشے میں
ایک بے شکل آدمی سی ہے

0
5
عمر بھر جو لکھی کتاب سراب
مرے نغمے ترا شباب سراب
وہ جو اُڑتے تھے دل کے ساگر پر
سارے نکلے ہیں وہ عقاب سراب
وہ جو احساس تھا یا منظر تھا
وہ صبا تتلیاں گلاب سراب

0
7
آنکھوں سے اُبلتے سبھی گوہر مجھے دینا
بچھڑے ہوئے لمحوں کے مقدر مجھے دینا
جب چھین لے مجھ سے مرا پوشاک زمانہ
تم اپنی وفاوں کی چادر مجھے دینا
جب بند ہوں ہر سمت یہ مے خانۂ الفت
تم اپنی نگاہوں کے ساغر مجھے دینا

11