Circle Image

Bilal Ahmed khan

@bilal090

یادوں کے سب ٹھکانوں کو مسمار کر دیا
وہ جو کبھی نہیں کیا اس بار کر دیا
کاندھوں سے بوجھ زیست کا پھینکا زمیں پے اور
اپنے بھی ساتھ چلنے سے انکار کر دیا
مجھ سے کہا تھا آپ نے مجھ کو تو بھول جا
میں نے یہ کام آپ کا ، سرکار کر دیا

2
78
اک روز بر آئے گی تمنّائے مدینہ
دیکھیں گے کبھی ہم بھی تو دنیائے مدینہ
ہم لوگ جو اس دنیا سے اکتائے ہوئے ہیں
راس آئے گا ہم لوگوں کو صحرائے مدینہ
ممکن ہی نہیں اور کسی شہر کی الفت
دل میرا ہے مخمورِ تولائے مدینہ

87
سامنے جس کے ہوا کرتی تھی ہر بات میں چپ
جاتے جاتے وہ مجھے دے گیا سوغات میں چپ
میں ترے شہر سے جانے کا اگر سوچوں بھی تو
دم بہ دم پھیلنے لگ جائے گی اعصاب میں چپ
لوگ کرتے ہیں نئے شہر کو آباد مگر
چھوڑ کے جاتے ہیں اجداد کے دیہات میں چپ

0
44
سامنے جس کے ہوا کرتی تھی ہر بات میں چپ
جاتے جاتے دے گیامجھ کو وہ سوغات میں چپ
میں ترے شہر سے جانے کا اگر سوچوں بھی تو
دم بہ دم پھیلنے لگ جائے گی اعصاب میں چپ
لوگ کرتے ہیں نئے شہر کو آباد مگر
چھوڑ کے جاتے ہیں اجداد کے دیہات میں چپ

0
35
ظالم ہیں ستمگر ہیں یہ شمشیر کی آنکھیں
مظلوم ہیں معصوم ہیں کشمیر کی آنکھیں
اوروں پہ عنایت کرے اوروں کا خداوند
ہم پر تو غصب ڈھاتی ہیں تقدیر کی آنکھیں
تنہائی کے لمحوں میں ہنساتی ہیں یہ مجھ کو
کرتی ہیں شرارت تری تصویر کی آنکھیں

0
28
تیرے در پے پڑے ہیں اور یہیں اچھے ہیں
سب بڑے لوگوں سے ہم خاک نشیں اچھے ہیں
ہم برے حال میں ہیں مانا یہ لیکن پھر بھی
تیرے اس عہد کے اچھوں سے کہیں اچھے ہیں
قتلِ انساں نہیں دیکھا تھا تو تب تک میں بھی
یہ سمجھتا تھا کہ یہ اہلِ زمیں اچھے ہیں

0
29
خوش بہت ہوں شکستِ ذات پہ آج
ہنس رہا ہوں میں بات بات پہ آج
بھول بیٹھا ہوں سب خساروں کو میں
ہاتھ اُس کا ہے میرے ہاتھ پہ آج
اس اداسی کو کر رہا ہوں میں دنگ
رقص کرکے غمِ حیات پہ آج

0
51
اپنی آنکھوں سے پلاتے ہیں وہ ایسا پانی
جو یہ پی لے وہ نہ مانگے گا دوبارہ پانی
دن گزارا ہے تری یاد کے صحراؤں میں
شام آئی تو مری آنکھ میں اترا پانی
چاہتا ہوں کے کسی روز نچوڑوں اس کو
روک کے رکھا ہے کچھ آنکھ میں کھارا پانی

0
143
وہ نظر مجھ سے ملاتا ہے چلا جاتا ہے
دل میں جذبات جگاتا ہے چلا جاتا ہے
رات کو آکے تری یاد کا جگنو جاناں
ظلمتِ شب کو مٹاتا ہے چلا جاتا ہے
تیری دنیا کا تھکا ہارا مُسافر اک دن
جسم کا بوجھ گراتا ہے چلا جاتا ہے

0
46
جو تیرے بارے میں گلشن کو ہم بتانے لگے
درخت جھوم گئے پھول مسکرانے لگے
وہ رات صحن میں جو آیا بال کھولے ہوئے
تو چاند شرما گیا تارے منہ چھپانے لگے

0
53
دریا بھی ڈوبا تھا اس بات کی حیرانی میں
کیوں ترا عکس ترے بعد رہا پانی میں
چاند کہہ کے مری ماں نے مجھے چوما اور پھر
سب ستارے ہوئے روشن مری پیشانی میں
میرے مر جانے سے بچ جائے گی عزت گھر کی
بس وہ یہ سوچتے ہی کود گئی پانی میں

0
47
تیری آنکھوں نے بڑی دھوم مچا رکھی ہے
شہر سارے میں عجب آگ لگا رکھی ہے
مجھ سے نظروں کو چرا کے یوں گزرنے والے
تیری آنکھوں میں مرے غم کی دوا رکھی ہے
جب سے ماں باپ گئے دنیا سے تب سے گھر کے
صحن میں بچوں نے دیوار بنا رکھی ہے

0
47
تیری زلفوں کو کبھی ہم نے سنوارا ہوتا
ناز کرتے جو مقدر یہ ہمارا ہوتا
کوئی میسر ہی نہیں خود سا وگرنہ ہم تو
چاہتے تھے کہ کوئی دوست ہمارا ہوتا
ڈوبتے شمس کی کرنوں میں برابر میرے
ہوتے تم اور کسی دریا کا کنارا ہوتا

0
266
یوں مجھے دیکھ کے نظروں کو چرانے والے
آگئے تجھ کو بھی انداز زمانے والے
تجھ پے وارے تھے ، کبھی سارے خزانے میں نے
چند سکے مری جھولی میں گرانے والے
یہ ستارے بھی تو اس شخص کے جیسے ہی ہیں
دسترس میں مری یہ بھی نہیں آنے والے

0
71