یادوں کے سب ٹھکانوں کو مسمار کر دیا
وہ جو کبھی نہیں کیا اس بار کر دیا
کاندھوں سے بوجھ زیست کا پھینکا زمیں پے اور
اپنے بھی ساتھ چلنے سے انکار کر دیا
مجھ سے کہا تھا آپ نے مجھ کو تو بھول جا
میں نے یہ کام آپ کا ، سرکار کر دیا
اُس دل کو دوسری کوئی خواہش نہیں ہوئی
جس دل کو اس نے اپنا طلب گار کر دیا
میں بھی تو تیرے خاص غلاموں میں تھا مگر
تیرے سلوک نے مجھے غدار کر دیا
وہ دے رہا تھا بھیک میں دنیا مجھے مگر
میری انا نے لینے سے انکار کر دیا
اس کو نہ بھا سکے گی یہ مینا و مے کبھی
جس کو ترے خیال نے سرشار کر دیا

2
78
جناب ایک زمانے کے بعد اس سائٹ پہ کوئی ڈھنگ کا کلام پڑھنے کو ملا-
بہت خوب غزل ہے -
(پے کو پہ لکھیں)

0
یادوں کے سب ٹھکانوں کو مسمار کر دیا
وہ جو کبھی نہیں کیا اس بار کر دیا
کاندھوں سے بوجھ زیست کا پھینکا زمیں پہ اور
اپنے بھی ساتھ چلنے سے انکار کر دیا
مجھ سے کہا تھا آپ نے مجھ کو تو بھول جا
میں نے یہ کام آپ کا ، سرکار کر دیا
اُس دل کو دوسری کوئی خواہش نہیں ہوئی
جس دل کو اس نے اپنا طلب گار کر دیا
میں بھی تو تیرے خاص غلاموں میں تھا مگر
تیرے سلوک نے مجھے غدار کر دیا
وہ دے رہا تھا بھیک میں دنیا مجھے مگر
میری انا نے لینے سے انکار کر دیا
اس کو نہ بھا سکے گی یہ مینا و مے کبھی
جس کو ترے خیال نے سرشار کر دیا