| ظالم ہیں ستمگر ہیں یہ شمشیر کی آنکھیں |
| مظلوم ہیں معصوم ہیں کشمیر کی آنکھیں |
| اوروں پہ عنایت کرے اوروں کا خداوند |
| ہم پر تو غصب ڈھاتی ہیں تقدیر کی آنکھیں |
| تنہائی کے لمحوں میں ہنساتی ہیں یہ مجھ کو |
| کرتی ہیں شرارت تری تصویر کی آنکھیں |
| اے دیس کے غدارو ذرا غور سے دیکھو |
| اشکوں سے بھری ہیں مرے کشمیر کی آنکھیں |
| آئینہ دکھاتا ہے جو زندان سے احمد |
| حیرت سے اسے دیکھے ہیں زنجیر کی آنکھیں |
معلومات