| تیرے در پے پڑے ہیں اور یہیں اچھے ہیں |
| سب بڑے لوگوں سے ہم خاک نشیں اچھے ہیں |
| ہم برے حال میں ہیں مانا یہ لیکن پھر بھی |
| تیرے اس عہد کے اچھوں سے کہیں اچھے ہیں |
| قتلِ انساں نہیں دیکھا تھا تو تب تک میں بھی |
| یہ سمجھتا تھا کہ یہ اہلِ زمیں اچھے ہیں |
| پردہ اٹھتا ہے تو کردار بھی کھل جاتے ہیں |
| ورنہ پردے میں تو سب پردہ نشیں اچھے ہیں |
| اس وطن کو نہیں لوٹا کبھی ہم نے احمد |
| تخت والوں سے تو ہم خاک نشیں اچھے ہیں |
| بلال احمد خان |
معلومات