Circle Image

نعمان حیدر شیرگڑھی

@MnomanNomi

گفتگو کی آخری وہ سب نشانی کھو گئی
چاندنی میں خواب کی ساری کہانی کھو گئی
یاد میں جو لمس تھا، وہ بھی ہوا مٹی کا ڈھیر
میرے دل کی دھڑکنوں کی بھی روانی کھو گئی
اک زمانہ جاگتے گزرا تری چاہت کے ساتھ
اب تو نیندوں سے مری وہ مہربانی کھو گئی

0
6
یہ دل اب خود سے بھی کوئی سہارا نہیں دیتا
کوئی تو ہوتا ہے، جو سہارا نہیں دیتا
جسے ہر شب روتا تھا، وہ دن اچھا نہیں دیتا
وہی چہرہ مجھے اب بھی نظارا نہیں دیتا
مرے جذبے، مرے خوابوں کے سب رستے جلے ہیں
لیکن وہ آگ دے، پھر بھی شرارا نہیں دیتا

0
5
جو در و دیوار پر تھی روشنی، وہ بھی نہیں
اور جو دیوار تھی کچھ مدھ بھری، وہ بھی نہیں
چاک سب پردے ہوئے، چھت کی وفا باقی نہ تھی
سیڑھیاں تھیں جو کبھی نرم سی، وہ بھی نہیں
پائمالی کی صدا گونجی جہاں ہر سمت سے
آج اُس گلی میں وہ شور و ہنسی، وہ بھی نہیں

5
پھول چِھنتے ہیں، بہاروں کی صدا باقی نہیں
تو جو رُوٹھا ہے، چمن میں کچھ ضیا باقی نہیں
شاخ پر بیٹھا تھا کل تک جو پرندہ نغمہ گر
اب وہی شاخیں بھی کہتی ہیں،صدا باقی نہیں
تُو گیا تو خشک ہو کر جھَر گئے سب سبز خواب
ایک پَتّا تک لبوں پر مدعا باقی نہیں

9
پھر وہی تنہائیوں کی تلخ سی بات گزر گئی
زندگی سے رنج کی، اک اور برسات گزر گئی
اک نظر کی روشنی تھی، ایک لمحہ لمس کا
پھر خیالوں میں تری، کچھ سچّی صفات گزر گئی
دل کی دیواروں پہ جیسے عکس کچھ ٹھہرا نہ ہو
اور آنکھوں سے کوئی چھوٹی سی برسات گزر گئی

0
4
28
دیپال پور کو ہم شہرِ بے وفا کہتے ہیں
جو کبھی پیار تھا، اب غم کی صدا کہتے ہیں
میں نے جس خواب کو تعبیر عطا کی تھی
اب وہی لوگ بھی اسے قضا کہتے ہیں
زخم دے کر بھی پوچھا نہیں ہے اس نے کچھ
اور سب لوگ اُسے اہلِ حیا کہتے ہیں

0
8
چرچۂ دل میں تیرا ذکر بار بار کتنا تھا
خامشی میں چھپ گیا وہ گفتگو کا پیار کتنا تھا
یاد کی دیوار پر تصویر سی لٹکی رہی
ہر نظر کو گھورتی وہ اشک کا غبار کتنا تھا
ہم نے تیری راہ تک کر عمر بھر کاٹ دی
پر تجھے یہ بھی نہ معلوم، انتظار کتنا تھا

0
7
کبھی جس کو وفا کی انتہا کہا گیا ہو
اُسے ہی بعد میں ہر اک خطا کہا گیا ہو
جو پل ہونٹوں پہ رک کر سانس لیتے تھے کبھی
وہ پل بھی آج اشکوں کی صدا کہا گیا ہو
محبت کی زباں میں خامشی بھی بولتی تھی
مگر پھر اس سکوت کو جفا کہا گیا ہو

0
13
اگر دل کے سخن کا اک خطاب ہو جاتا
تو آئینے کا ہر چہرہ شتاب ہو جاتا
تری خاموش نظروں میں جو خواب سوئے تھے
وہ ایک ایک کر کے کامیاب ہو جاتا
نظر بھی بولتی اور دل بھی سن رہا ہوتا
تو ہر اشارہ معنی کا باب ہو جاتا

0
7
میرا ہر لمحہ بنا اک فغان تیرے جانے کے بعد
زندگی ہوئی ویران، تیرے جانے کے بعد
تھمی ہر خوشی جیسے، اجڑ سا گیا جہان
بکھرنے لگا مکان، تیرے جانے کے بعد
جو کل تک تھا ممکن، ہوا آج بے اثر
مٹا ہر ایک امکان، تیرے جانے کے بعد

0
1
15
آج بادل برس رہا ہے، مری تقدیر کی مانند
دل کی حالت ہو گئی ہے، تری تعبیر کی مانند
زندگی کا ہر اک خواب تھا اک کھیل کی صورت
اور ہر کھیل تھا وقت کی تسخیر کی مانند
کون سا زخم دکھاؤں کہ سبھی چھپ کے جلے ہیں
میرے سینے میں ہے آگ بھی تصویر کی مانند

0
10
کاش وہ لمحہ کبھی خواب میں آیا ہی نہ ہوتا
یاد بن کر دلِ پر درد چھایا ہی نہ ہوتا
محبت کا وہ دعویٰ تھا مگر بے رنگ نکلا
وہ میرے دل میں ہو کے بھی سمایا ہی نہ ہوتا
میں اپنے اشک پیتا اور چپ رہتا زمانہ
اگر اُس درد نے مجھ کو رُلایا ہی نہ ہوتا

0
6
یوں خواب دکھا کر گیا وہ جاتے ہوئے
دل کو بھی الجھا گیا وہ جاتے ہوئے
چپ چاپ نگاہیں چرا کر چل دیا
اک زخم نیا دے گیا وہ جاتے ہوئے
آنکھوں میں تماشا بہت چھوڑ گیا
دل میں بھی دھواں سا بھر گیا وہ جاتے ہوئے

0
10
تم ہو وہ روشنی جو اندھیرا مٹا سکتے ہو
دل کی دنیا میں تم چراغ جلا سکتے ہو
تیرا جانا بھی کیا، عجب اک فسانہ لگا
تم تو ہر شخص کو ہی خواب دکھا سکتے ہو
اک برس بیت گیا، وہی بیٹھا ہے وہیں
اے دلِ زار! تم کیوں اُسے بھلا سکتے ہو؟

13
ہجر کی شب بھی گزر ہی جائے گی
کسی کالی اندھیری رات کی طرح

30