گفتگو کی آخری وہ سب نشانی کھو گئی |
چاندنی میں خواب کی ساری کہانی کھو گئی |
یاد میں جو لمس تھا، وہ بھی ہوا مٹی کا ڈھیر |
میرے دل کی دھڑکنوں کی بھی روانی کھو گئی |
اک زمانہ جاگتے گزرا تری چاہت کے ساتھ |
اب تو نیندوں سے مری وہ مہربانی کھو گئی |
کون سمجھے گا مرے ویران کمروں کی زباں |
ہر صدا، ہر روشنی، ہر داستانی کھو گئی |
بزم میں جب تیرے ہنسنے کی صدا گونجی کہیں |
میرے گالوں سے گلابوں کی روانی کھو گئی |
اک دعا تھی جو لبوں پر تھی ہمیشہ تیرے نام |
اب وہ لب بھی چپ ہیں اور وہ کامرانی کھو گئی |
سنگ دل تھا تو بھی، پھر بھی دل کے اندر ایک نور |
تیرے جانے کے سبب وہ شادمانی کھو گئی |
اور حیدرؔ رات بستر پر خیالِ یار میں |
آنکھ بھر آئی تو نیندوں کی روانی کھو گئی |
معلومات