| حقیقتیں سب سمیٹ لو تم ہماری آنکھوں کو خواب دے دو
|
| ہے شادمانی پہ حق تمہارا ہمیں سب اپنے عذاب دے دو
|
| جو آنکھ میں بہہ رہا تھا دریا وہ دل کے صحرا میں کھو گیا ہے
|
| مگر ہے صحرائے دل بھی پیاسا، جو دے سکو تو سراب دے دو
|
| یہ ذات میری ہوئی ہے گھائل، نہیں تماشہ تو اور کیا ہے
|
| بہت سوالوں کا بوجھ دل پر اے زندگی اب جواب دے دو
|
|
|