Circle Image

Muhammad Akhtar Anjum

@zaAnjum

دل میں پیدا وقار تو کرتے
ذکرِ حق بار بار تو کرتے
غیر سے لو لگائی ہے تم نے
اپنے رب سے بھی پیار تو کرتے
مانگتے ہو صلے عبادت کے
خود کو پہلے نثار تو کرتے

0
5
دشت کو لالہ زار تو کرتے
زلف کو سایہ دار تو کرتے
ہوتے ہم بھی اسیرِ زلفِ ستم
کوئی جال اختیار تو کرتے
تم تو بیٹھے تھے آس میں جاناں
ہم پہ بھی اعتبار تو کرتے

0
3
تلخیِ مرگ میں جینے کا بہانہ ڈھونڈوں
دل کو تسکین ملے ایسا فسانہ ڈھونڈوں
جس کے انوار سے ظلمت بھی لرز اٹھتی ہو
ایسے چہروں کی زیارت کا بہانہ ڈھونڈوں
خاک چھانی ہے بہت، شہر کی گلیوں گلیوں
بستی بستی میں اب الفت کا خزانہ ڈھونڈوں

0
3
دردِ دل کی صدا بے زباں ہے میاں
یہ مری چشمِ تر کا بیاں ہے میاں
زخم کھائے ہوئے ہیں تو چپ کیوں رہو
درد کہنے کو بھی اک زباں ہے میاں
وقت ظالم ہے اس کے کرشمے بھی دیکھ
دوستی بھی یہاں بدگماں ہے میاں

0
2
وفا کے شہر میں سردار ہیں ہم
محبت کا کھلا اظہار ہیں ہم
لکھا ہے جس میں قصہ بے خودی کا
اسی افسانے کا کردار ہیں ہم
یہ کیسی رات ہے بیدار ہیں ہم
تری یادوں کے پہرے دار ہیں ہم

0
3
جاری حیرت کا کاروبار ہوا
نور نظروں کا اب غبار ہوا
اٹھا پردہ تو رہ گئی حیرت
رازِ ہستی بھی آشکار ہوا
درد کی بستیوں میں گھوم آئے
دل کا جینا بھی سوگوار ہوا

0
2
ہو نہ رستہ کوئی مہیب تیرا
بدلے منظر نہ یہ عجیب تیرا
تیری ہر راہ میں گلاب کھلیں
ہو نہ رستہ کوئی رقیب تیرا
خار چن لوں گا راہوں کے بیٹی
ہو گلستاں ہی اب نصیب تیرا

0
6
تعلق کے سبھی ملبے پڑے ہیں
مرے سینے میں سناٹے پڑے ہیں
کبھی جن کے لیے پلکیں بچھائیں
وہی پتھر مرے دل میں گڑے ہیں
ہوا ٹھہری ہوئی ہے طاقچوں میں
دیے بجھ کر زمیں نیچے گرے ہیں

0
4
تعلق کے سبھی ملبے پڑے ہیں
مرے سینے میں سناٹے پڑے ہیں
کبھی جن کے لیے پلکیں بچھائیں
وہی پتھر مرے دل میں گڑے ہیں
ہوا ٹھہری ہوئی ہے طاقچوں میں
دیے بجھ کر زمیں نیچے گرے ہیں

0
1
لگی ہے بھیڑ آٹے پر، ذرا یہ بے بسی دیکھو
شکم خالی ہے لیکن ذہن کی جادو گری دیکھو
ذلیل و خوار رستوں پر یہاں ہر آدمی دیکھو
مگر سکرین پر ہر شخص کی دانشوری دیکھو
حیا بیچیں گے اب وائرل ہونے کے لیے ہم سب
نمائش کے لیے اخلاق کی بے حرمتی دیکھو

0
3
بڑھ گیا جو درد تو پھر شاعری ہو جائے گی
روح جب تڑپے گی تب ہی نغمگی ہو جائے گی
آپ کے در پر ملے گا جب مجھے اذنِ سجود
بے خودی جب حد سے گزرے گی، خودی ہو جائے گی
خاک ہونا ہے اگر اب شرط مِعراجِ وفا
یار کے در پر مری پھر زندگی ہو جائے گی

0
3
زمانے کو دکھانا ہے کوئی اپنی نشانی دے
مرے لفظوں کو خوشبو اور لہجے کو روانی دے
مری ہمت کو وہ تیزی، مرے جذبوں کو حدت دے
پہاڑوں کو جو پگھلا دے، مجھے وہ زندگانی دے
لہو بن کر رگوں میں دوڑ جائے جو تڑپ بن کر
مرے مردہ ارادوں کو وہ بھرپور اب جوانی دے

0
2
نمائش کی ہوس میں ہم نے اپنی جاں گنوا دی ہے
یہ سستی شہرتوں کی نذر دانائی لٹا دی ہے
ہوئی ہے فکر مفلوج اور قلم بے دست و پا ٹھہرے
مشینوں نے اب انسانوں کی قیمت ہی گھٹا دی ہے
ہوا ہے قتل اب جذبہ قلم کی موت آئی ہے
حقیقت مٹ گئی، تصویرِ مصنوعی سجا دی ہے

0
3
کبھی تو دل کے صحرا کو کوئی ابرِ کرم دے
مرے دل کی سیاہی کو اجالا سا قلم دے
مرا چہرہ نہ پڑھ لے یہ زمانہ بے بسی اب
مری آنکھوں کے آئینے کو پھر کوئی بھرم دے
وہ جس کی روشنی سے بجھ گئی شمعِ تمنا
مری پیاسی نگاہوں کو وہی نقشِ قدم دے

0
5
تِرے گوشِ ناز کے وہ ستارے، جو زلفِ خم میں بکھر گئے
وہی میرے بخت کی روشنی، وہی میرے خواب سنور گئے
وہ لرزتا جُھمکا ہے برقِ نو، ہے جو فتنہ سنگِ گراں مِرے
جو تِری قبا پہ لرز گیا، تو جہان و دہر نکھر گئے
وہ جو اک ستارہ چمک اٹھا، تِری زُلف و رُخ کے حصار میں
اسی اک جھلک کی تلاش میں، کئی قافلے ہی گزر گئے

0
11
میرے دل کی شاخ پہ جاناں عکس تیرا ہی ملتا ہے
تیری نگاہِ مست سے دل کا موسم رنگ بدلتا ہے
روح کی بنجر گلیوں میں جب یادوں کی کلی کھلتی ہے
تیرا ذکر چھڑے تو دل کا درد و الم سنبھلتا ہے
وصل کی میٹھی یاد جو آ کر من میں پریت جگاتی ہے
ہجر کی کالی راتوں میں جیسے دل کا چراغ سا جَلتا ہے

0
6
زیست میں کوئی بھی مہیب نہ ہو
راہوں میں سایہِ عجیب نہ ہو
خوف لگنے لگے بچھڑنے کا
کوئی دل کے بھی یوں قریب نہ ہو
پیار اتنا نہ دو مجھے بابا !
کل کو شاید کہ یہ نصیب نہ ہو

0
14
اب نہ میں حَد میں رہا ہوں اب نہ ہَوا میں رہا
میں مِٹ کر اپنے خالق کی رضا میں رہا
میں نے ڈھونڈا ہے جسے عمر یہ بستی میں
وہ میری رگ میں مٹی کی قبا میں رہا

0
2
صحرا کی خموشی میں ہے نغمہ میرا
ذرّے کی تجلی میں ہے جلوہ میرا
میں کثرتِ عالم میں چھپا بیٹھا ہوں
ہر رنگِ حسیں میں ہے سراپا میرا

0
4
میں مہرِ درخشاں رخِ انور میں ہوا
میں نورِ سحر، جلوہء اختر میں ہوا
پایا ہے فنا ہو کے ہی خود کو میں نے
کھو کر جو ملا، کُنجِ مقدر میں ہوا

0
5
میں نورِ ازل، چشمِ منور میں ہوا
خورشیدِ جہاں، پردہء اختر میں ہوا
ہستی مری اک دھوکا ہے، مٹ کر دیکھا
جو کچھ بھی ہوا، مٹ کے برابر میں ہوا

0
6
میں جلوہ نما صورتِ مَظہر میں ہوا
خُم خانہء ہستی کے سِکندر میں ہوا
مٹ کر ہی مِلی مجھ کو بقائے سرمد
قطرہ تھا فنا ہو کے سمندر میں ہوا

0
7
حقیقتیں سب سمیٹ لو تم ہماری آنکھوں کو خواب دے دو
ہے شادمانی پہ حق تمہارا ہمیں سب اپنے عذاب دے دو
جو آنکھ میں بہہ رہا تھا دریا وہ دل کے صحرا میں کھو گیا ہے
مگر ہے صحرائے دل بھی پیاسا، جو دے سکو تو سراب دے دو
یہ ذات میری ہوئی ہے گھائل، نہیں تماشہ تو اور کیا ہے
بہت سوالوں کا بوجھ دل پر اے زندگی اب جواب دے دو

0
20