وفا کے شہر میں سردار ہیں ہم
محبت کا کھلا اظہار ہیں ہم
لکھا ہے جس میں قصہ بے خودی کا
اسی افسانے کا کردار ہیں ہم
یہ کیسی رات ہے بیدار ہیں ہم
تری یادوں کے پہرے دار ہیں ہم
ڈبو سکتا نہیں طوفاں ہمیں اب
خودی کے صاحبِ کردار ہیں ہم
نہیں حاجت ہمیں مے کی، اے ساقی
تری آنکھوں کے ہی مے خوار ہیں ہم
نگاہِ یار نے بخشی جو مستی
اسی لمحے میں اب سرشار ہیں ہم
ہوا کے ساتھ کیوں ڈر کر چلیں ہم
چراغوں کی طرح خود دار ہیں ہم
دلِ مضطر کو ہے تجھ سے ہی راحت
تری خوشبو کے اک اسرار ہیں ہم
تری نظروں نے وہ جادو کیا، اخترؔ
اسی کے حسن کے بیمار ہیں ہم

0
3