دشت کو لالہ زار تو کرتے
زلف کو سایہ دار تو کرتے
ہوتے ہم بھی اسیرِ زلفِ ستم
کوئی جال اختیار تو کرتے
تم تو بیٹھے تھے آس میں جاناں
ہم پہ بھی اعتبار تو کرتے
درد اٹھتا جو یادِ جاناں میں
جان بھی بیقرار تو کرتے
ہم بھی مٹتے تمہاری آنکھوں پر
تھوڑے نظروں کے وار تو کرتے
عشق میں ہم تباہ ہو گئے ہیں
تم دعا کا حصار تو کرتے
کتنے پیاسے تھے ہجر کے مارے
تم بھی کچھ پل نثار تو کرتے
زندگی ہار دی ہے الفت میں
آنکھ کو اشکبار تو کرتے
دل کی بستی اجاڑ دی تم نے
کچھ دن اس کو بہار تو کرتے
قتل ہونا تھا جن کے ہاتھوں سے
ہم کو کچھ گنہگار تو کرتے
تم ہی منصف ہو عشق میں اختر
خون دل کا شمار تو کرتے

0
3