میں نورِ ازل، چشمِ منور میں ہوا
خورشیدِ جہاں، پردہء اختر میں ہوا
ہستی مری اک دھوکا ہے، مٹ کر دیکھا
جو کچھ بھی ہوا، مٹ کے برابر میں ہوا

0
6