اب نہ میں حَد میں رہا ہوں اب نہ ہَوا میں رہا
میں مِٹ کر اپنے خالق کی رضا میں رہا
میں نے ڈھونڈا ہے جسے عمر یہ بستی میں
وہ میری رگ میں مٹی کی قبا میں رہا

0
2