جاری حیرت کا کاروبار ہوا
نور نظروں کا اب غبار ہوا
اٹھا پردہ تو رہ گئی حیرت
رازِ ہستی بھی آشکار ہوا
درد کی بستیوں میں گھوم آئے
دل کا جینا بھی سوگوار ہوا
بند کلیاں چٹکنے والی تھیں
پھر سے موسم ہی ناگوار ہوا
ایک پتے نے ہاتھ چھوڑ دیا
پیڑ لمحوں میں بے قرار ہوا
وقت کی دھوپ ایسی نکلی ہے
سایہ سایہ ہی مستعار ہوا
مصلحت کھا گئی اسے اختر
جو کبھی صاحبِ وقار ہوا

0
2