تلخیِ مرگ میں جینے کا بہانہ ڈھونڈوں
دل کو تسکین ملے ایسا فسانہ ڈھونڈوں
جس کے انوار سے ظلمت بھی لرز اٹھتی ہو
ایسے چہروں کی زیارت کا بہانہ ڈھونڈوں
خاک چھانی ہے بہت، شہر کی گلیوں گلیوں
بستی بستی میں اب الفت کا خزانہ ڈھونڈوں
جا بجا بکھرے ہیں تسکین کے محور، لیکن
دے جو راحت مرے دل کو وہ ٹھکانہ ڈھونڈوں
زیست کی شام غریباں میں نہ جانے کیوں کر
اپنے بچپن کا ہر اک لمحہ سہانا ڈھونڈوں
اب نہ چہرے نہ کہ وہ لوگ محبت والے
اور میں ہوں کہ سدا وقت پرانا ڈھونڈوں
بجھ گئے آنکھ میں اختر سبھی حسرت کے چراغ
گردشِ دہر میں خوشیوں کا زمانہ ڈھونڈوں

0
3