| زیست میں کوئی بھی مہیب نہ ہو |
| راہوں میں سایہِ عجیب نہ ہو |
| خوف لگنے لگے بچھڑنے کا |
| کوئی دل کے بھی یوں قریب نہ ہو |
| پیار اتنا نہ دو مجھے بابا ! |
| کل کو شاید کہ یہ نصیب نہ ہو |
| جو ملے ہر خوشی دعا ہے تری |
| راہ میں کوئی بھی رقیب نہ ہو |
| زخم ہوں میرے لاکھ رستے ہوئے |
| تجھ سا دنیا میں پھر حبیب نہ ہو |
| بیٹیوں کا جو درد بانٹ سکے |
| باپ جیسا کوئی طبیب نہ ہو |
| بھیک خوشیوں کی غیر سے مانگے |
| کاش ایسا کوئی غریب نہ ہو |
| جس کو ٹھکرا دے ہر بشر اختر |
| زندگی میں یوں بد نصیب نہ ہو |
معلومات